مذہبِ اسلام پرایک مختصر تحریر
از: محمد تسکین مصباحی (اعظم نگر،کٹیہار،بہار)
١٦/٤/١٤٤٧ھ مطابق ٩/١٠/٢٠٢٥
---------------------------------------------------------
''إنّ الدىن عند الله الإسلام''(آلِ عمران:١٩) بے شک اللہ کے۔ نزدیک اسلام ہی دین ہے،
دین: مذہب,طور طریقہ، مسلک اور دھرم کو کہتے ہیں۔
اور اسلام: اطاعت و فرمانبرداری کو،
اور عرف میں مسلمانوں کے مذہب کو پس مذہبِ اسلام کا مطلب ہوا ایسا طریقہ جس پر مسلمان چلتے ہیں مذہبِ اسلام کے تعلق سے ایک بات قابل غور ہے وہ یہ کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام ١٤٠٠سال پہلے وجود میں آیا اور اس کی ابتدا صرف١٤٠٠ سال پہلے ہوئی تو یاد رکھیں کہ اسلام صرف ١٤٠٠ سال پہلے وجود میں نہیں آیا بلکہ حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسی تک سارے نبیوں کا مذہب" اسلام" تھا جیسا کہ فرمانِ باری تعالی ہے: "وما ارسلنا من قبلك من رسول الا نوحي اليه انه لا اله إلا انا فاعبدون"(الأنبیاء:٢٥)
ترجمہ: ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے ان سب کو وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس میری عبادت کرو ۔
یعنی جس طرح رب نے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطاعت اور عبادت کا حکم دیا یوں ہی اپنے پہلے نبیوں کو بھی عبادت اور اطاعت کا حکم دیا تھا اور یہی اسلام ہے کیوں کہ اسلام کا معنی گردن رکھنا(اور عبادت کرنا) ہے۔
یوں ہی اسلام کو دینِ حنیف بھی کہا جاتاہے جیسا کہ آیتِ قرانی ہے(وَأن اقِم وجھک للدینِ حنیفا:یونس:١٠٥)"حنیف" کا معنی ہے سیدھا راستہ یعنی ایسا طریقہ جو حق و باطل کے درمیان خطِّ امتیاز کھینچ دے۔
اسی تعلق سے آیتِ قرآنی ہے" قل بل ملۃ ابراهيم حنيفا"(البقرہ:١٣٥) آپ فرما دیجیے کہ ابراہیم کا دین حنیف تھا ۔یعنی حضرت ابراہیم دینِ حنیف پر تھے۔ پس معلوم ہوا کہ دینِ اسلام بہت ہی قدیم ہے ہاں یہ بات ضرور ہے کہ دین اسلام کامل اور مکمل ١٤٠٠ سال پہلے ہوا۔ جیسا کہ ارشادِ ربّانی ہے "اَليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيتُ لكم الاسلام دینا"(المائدہ:١٩)آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔
اسلام بہت سے عدیم المثال خوبیوں سے لبریز ہے ۔
جیسے: اسلام کی خاص خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بندوں کے لیے مَحد سے لے کر لَحد تک کے آنے والے تمام مشکلات کا حل موجود ہے یوں ہی اسلام کی تعلیمات نہایت ہی پاکیزہ ہیں جسے :سلام عام کرنا( حديث: افشُو السلام :جامع الترمذی:٢٤٨٥)گندگی سے بچنا( حديث: الطُهور شطْر الايمان: صحیح مسلم:٢٢٣)ناحق کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچانا (حديث: المسلم من سلم المسلم من لسانه ،ويده: صحیح بخاری:١٠)اور ہر مومن کو آپس میں بھائی بتانا (حديث :المسلم اخو المسلم: صحیح مسلم:٢٥٦٤)بلکہ بدن کے اعضا کے مانند بتانا(حديث :مثل المؤمنين في توادهم وتراحمهم وتعاطفهم مثل الجسد: صحیح اداری:٦٠١١)یعنی اگر کسی ایک مومن کو پریشانی لاحق ہو تو سب کو پریشانی ہونی چاہیے۔
اسلام کی تعلیمات میں سے اہم تعلیم یہ بھی ہے کہ ظلم کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کرو۔ جیسا کہ فرمانِ نبوی ہے افضل الجهاد كلمة عدل عند سلطان جائر(سنن ابی داؤد:٤٣٤) سب سے افضل جہاد یہ ہے کہ آدمی ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہے۔
یو ہیں مظلوموں کی فریاد رسی کرنا جیسا کہ ارشاد ربانی ہے " وما لكم لا تقاتلون في سبيل الله والمستضعفين من الرجال والنساء والولدان الذين يقولون ربنا اخر جنا من هذه القرية الظالم اهلها ،واجعل لنا من لدنك وليا واجعل لنا من لدنك نصيرا " (النساء : ۷۵) اور تمھیں کیا ہوا ہے کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے جو یہ دُعا کر رہے ہیں کہ اے رب ہمارے ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمایتی دے دے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار دے دے ۔
یعنی اسلام ہمیں ہر حال میں حق کے لیے آواز بلند کرنے کی تعلیم دیتا ہے جیسا کہ مشہور قول ہے : " ظلم پر خاموش رہنا یا ظالم کو معاف کرنا مظلوموں پر ظلم کرنے کے مترادف ہے"۔اور دورِ حاضر میں خاص طور سے ہمیں اس تعلیم پر عمل کرنے کی خاص ضرورت ہے ۔
عصرِ حاضر کے لیے بھی اسلام نے ہمیں ایسی معلومات پہلے سے دے رکھی ہے جس کے سبب جدید سائنس بھی تعلیمِ اسلام کے سامنے سرنگوں نظر آتی ہے۔
مثلاً سائنس کا انسان کے تعلق سے دو موقف ہے کہ "انسان بندر سے وجود میں آیا" جیسا کہ اسے چارلس ڈارون نے ١٨٥٩ء میں اپنی مشہور کتاب On the Origin of Species میں اس چیز کو لکھا ہے؛ جب کہ دوسرا موقف یہ ہے کہ ڈاکٹر ایلیس سیلور نے٢٠١٣ء میں اپنی مشہور کتاب" Humans are not from Earth"میں انسان کے تعلق سے لکھا ہے کہ انسان تو زمین کا فطری باشندہ ہی نہیں ہے ۔
یعنی سائنس جب زیادہ ترقی کرتی ہے تو اس کی رائے جو پہلے کسی چیز کے متعلق کچھ اور تھی وہ بدل جاتی ہے، لیکن مَیں نثار تعلیمِ اسلام پر جس نے اگر ہمیں صدیوں پہلے کسی چیز کے متعلق خبر دیا تو وہ نہ آج بدلا ہے اور نہ قیامت تک بدلے گا جیسے کہ اسلام نے ہمیں صدیوں پہلے اس امر سے آگاہ کر دیا تھا کہ تم در حقیقت دنیاے فانی کے نہیں ہو بلکہ تم تو جنت سے اتارے گئے ہو۔
آج کے اس پرفتن دور میں بھی بُرائیوں سے لڑنے کے لیے اور بھلائیوں میں ثابت قدم رہنے کے لیے اسلام میں ساری حکمت و تدبیر موجود ہے۔ جیسے کہ آج کل بہت سے لوگ مرتد ہو رہے ہیں ، اس کی وجہ اور اس کا سبب کیا ہے ؟ وجہ ایک ہی ہے کہ فی زمانہ جہاں زمانہ اتنا ترقی کر چکا ہے کہ انسان اس دور میں Magic سے زیادہ Logic ( یعنی سنی سنائی باتوں اور قصے کہانی سے زیادہ حقیقت اور ایکسپر یمنٹ) پر یقین رکھتے ہیں ۔ اُن کا مذہب انھیں مطمئن نہیں کر پا رہا ہے اس لیےکہ انہیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ کسی چیز کا حقیقی مالک دو،تین یا سیکڑوں ہو سکتے ہیں جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ کسی مذہب میں دو تو کسی میں تین حتی کہ کسی میں سیکڑوں خدا کا تصور ہے ۔
لیکن الحمد لله !ثم الحمد للہ ! اسلام یہاں بھی ہماری رہنمائی فرما رہا ہے اس لیے کہ انسان اس چیز سے غافل نہیں ہے کہ جہاں دو یا تین یا سیکڑوں حقیقی مالک نہیں ہو سکتے وہاں ایک حقیقی مالک کا ہونا بھی ضروری ہے، اور یہی نظریۂ اسلام ہے۔
اور( اب خالص سائنسی بنیاد پر بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کائنات کا خدا ایک ہے، کیوں کہ اس بات کی تصدیق بر طانوی سائنس دان نے ( ۱۹۴۲, ۲۰۱٨) میں کی جنھیں اسٹفن ہاکنگ کہا جاتا ہے۔ انھیں بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے اوائل میں" فزکس" کا سب سے بڑا سائنس دان تسلیم کیا جاتا ہے۔ وقت کی تاریخ بلیک ہول اور اس کائنات کے بارے میں ایک جامع نظر یہ پیش کیا، اس نے پیچیدہ ریاضیات حساب کے ذریعہ یہ ثابت کیا کہ صرف ایک طاقت ( force) ہے جو پوری دنیا کو کنٹرول کر رہی ہے اور سائنس کی اصطلاح میں اسے سنگل اسٹرنگ نظریہ کہا جاتا ہے۔ جو نظریہ تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان ایک مسلّمہ طور پر مان لیا گیا ہے ) یہی سبب ہے کہ جب آپ حالات کا جائزہ لیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ لوگ کثرت سے الحمد لله مسلمان ہو رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں رپورٹوں کے مطابق ایک اطالوی رکنِ فلو ٹیلا (Flotilla) نے اسلام قبول کرنے کی بات کی ہے جس کا نام Tommaso Bartolaze بتا یا گیا ہے ۔
آج جو دشمنان اسلام مسلمانوں پر حملے کر رہے ہیں اور مسلمان مغلوب ہو رہے ہیں اُس کا سبب بس ایک ہی ہے کہ ہم نے اسلام کی روشن تعلیمات پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے اور اپنے اسلاف کی تاریخ کا ذکر اور انھیں پڑھنا لکھنا چھوڑ دیا ہے۔ کیوں کہ جب آپ عہدِ نبوی صلی الله علیہ و سلم اور عہدِ صحابہ کی تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو بے ساختہ کہہ اٹھیں گے: واہ رے اسلام ! تیری عظمتوں کو سلام!تو ایسا با برکت ہے کہ اگر تجھے کل انسانِ عالَم مل کربھی مٹانے کی کوشش کرے تب بھی تجھے مٹا نہیں سکتے کیوں کہ : اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے جتنا ہی دباؤ گے اتنا ہی اُبھرے گا۔
--------------------------------------------------------
اسی موضوع سے منسلک محرر کا دوسرا مضمون جس میں ان حضرات کے اعتراض کا ازالہ کیا گیا ہے، جن کا موقف ہے کہ 'خدا موجود نہیں ہے' اس کو مکمل کو پڑھنے کے لیے