نماز میں ٹوپی لگانا سنت ہے یا مستحب اور بغیر ٹوپی امامہ باندھنا کیسا ہے اور مسجد میں جو پلاسٹک کی جالی والی ٹوپی رہتی اس کو لگاکر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
*بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عمامہ کے ساتھ نماز پڑھنا افضل اور سنت ہے اور ٹوپی پہن کر نماز پڑھنے میں بھی حرج نہیں۔ حضور ﷺ کا حالتِ نماز میں ٹوپی پہننا، اس کی تصریح تلاش کے باوجود کہیں نہیں ملی۔ البتہ بیرونِ نماز آپ ﷺ کا ٹوپی پہننا ثابت ہے جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”ولا بأس بلبس القلانس وقد صح أنه صلى الله عليه وآله وسلم كان يلبسها كذا في الوجيز للكردري“ یعنی ٹوپی پہننے میں کوئی حرج نہیں اور حضور ﷺ کا ٹوپی پہننا ثابت ہے جیسا کہ وجیز میں ہے۔ (1)
بغیر ٹوپی کے عمامہ شریف باندھنا بھی جائز ہے اگرچہ افضل ٹوپی پر ہی ہے۔ عمامہ ٹوپی پر باندھا جائے، چنانچہ حضرت سیدنا رُکانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:”العمامة على القلنسوة فصل ما بيننا وبين المشركين يعطى يوم القيامة بكل كورة يدورها على رأسه نوراً“ یعنی ٹوپی پر عمامہ باندھنا ہمارے اور مشرکین کے درمیان اِمتیازی علامت ہے، عمامہ باندھنے والے (مسلمان) کو اپنے سر پر باندھے جانے والے ہر پیج کے بدلے قیامت کے دن ایک نور عطا کیا جائے گا۔ (2)
بغیر ٹوپی کے عمامہ باندھنا جائز ہے لیکن افضل نہیں،چنانچہ حضرت علامہ عبد الرءوف مُناوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ عمامہ ٹوپی پر باندھا جائے یا صرف سر پر، عمامے کی سنت ادا ہو جائے گی اگرچہ افضل ٹوپی پر ہی ہے۔ اس بات کا بھی خیال رہے کہ عمامہ کی لمبائی اور چوڑائی اپنے زمانے اور علاقے کے عمامہ پہننے والے لوگوں کا خیال کرے کیونکہ عُرف وعادت سے زیادہ (بڑا) عمامہ باندھنا مکروہ ہے۔ (3)
بغیر ٹوپی کے عمامہ باندھنا حضور ﷺ سے ثابت بھی ہے، چنانچہ حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما بیان فرماتے ہیں:”كان يلبس القلانس تحت العمائم وبغير العمائم ويلبس العمائم بغير القلانس“ یعنی رسول اللہ ﷺ عمامہ شریف کے نیچے ٹوپی پہنتے تھے اور عمامہ کے بغیر ٹوپی اور ٹوپی کے بغیر عمامہ شریف بھی باندھتے تھے۔ (4)
اسی طرح خاتم المحدثین، حضرت علامہ شیخ عبدُ الحق مُحَدِث دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گاہ عمامہ بے کلاہ میپوشید و گاہ با کلاہ و گاہ کلاہ بے عمامہ“ یعنی سرکارِ مدینہ ﷺ بعض اوقات بغیر ٹوپی کے عمامہ شریف باندھ لیا کرتے، کبھی ٹوپی پر عمامہ مبارک باندھتے تو کبھی کبھار صرف ٹوپی بھی زیبِ سر فرما لیا کرتے تھے۔ (5)
ٹوپی پہننا مُشرکین کا طریقہ نہیں، چنانچہ خلیفۂ اعلیٰ حضرت مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”بعض نے حدیث کا یہ مطلب بیان کیا کہ صرف ٹوپی پہننا مشرکین کا طریقہ ہے، مگر یہ قول صحیح نہیں کیونکہ مشرکینِ عرب بھی عمامہ باندھا کرتے تھے۔“ (6)
مسجد میں رکھی پلاسٹک کی ٹوپی پہن کر نماز پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے کہ ہر ایسا لباس پہن کر نماز ادا کرنا جسے پہن کر معزز لوگوں کے سامنے جانے میں عار محسوس ہو مکروہِ تنزیہی ہوتا ہے۔
==========================================
(1) الفتاوی الہندیہ، کتاب الکراہیہ، الباب التاسع فی اللبس ما یکرہ من ذالک وما لا يكره ، جلد:5، صفحہ:408.
(2) کنز العمال، کتاب المعیشة والعادات، جلد:8، صفحہ:132، حدیث:41126.
(3) فیض القدیر، حرف العین، جلد:4، صفحہ:515، تحت حدیث:5725
(4) کنز العمال، کتاب الشمائل، جلد:4، صفحہ:46، حدیث:18282.
(5) شرح سفر السعادة،صفحہ:436.
(6) بہارِ شریعت، جلد:3، حصہ:16، صفحہ:؛ 419.
*والله تعالیٰ اعلم بالصواب*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

