بیوی کو بیٹا یا بچہ کہنا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
---------------------------------------------------------
بیوی کو بیٹا یا بچہ یا ماں یا بہن کہنا (یعنی تشبیہ نہیں دی، بغیر تشبیہ کے کہا) ناجائز و گناہ ہے،لہذا توبہ کرے
۔ لیکن ظِہار نہیں ہوگا کیونکہ ظہار کہتے ہیں اپنی زوجہ یا اُس کے کسی جزوِ شائع یا ایسے جز کو جو کُل سے تعبیر کیا جاتا ہو ایسی عورت سے تشبیہ دینا جو اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو یا اسکے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دینا جس کی طرف دیکھنا حرام ہو مثلاً کہا تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے یا تیرا سر یا تیری گردن یا تیرا نصف میری ماں کی پیٹھ کی مثل ہے۔
ظہار کے معنی کے مُتعلق ’فتاویٰ عالمگیری‘ میں ہے:”الظهار هو تشبيه الزوجة أو جزء منها شائع أو معبر به عن الكل بما لا يحل النظر إليه من المحرمة على التابيد“ (1)
عورت کو ماں یا بیٹی یا بہن کہا تو ظہار نہیں، مگر ایسا کہنا مکروہ ہے، چنانچہ ’فتاویٰ عالمگیری‘ میں ہے: ”لو قال لها أنت أمي لا يكون مظاهراً و ينبغي أن يكون مكروهاً ومثله أن يقول يا ابنتي و يا أختي ونحوه“ (2)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”زوجہ کو ماں بہن کہنا (یعنی تشبیہ نہیں دی، بغیر تشبیہ کے ماں ، بہن کہا)، خواہ یوں کہ اسے ماں بہن کہہ کر پکارے ،یا یوں کہے:تومیری ماں بہن ہے ،سخت گناہ و ناجائز ہے۔ قَالَ اللہ تَعَالٰی( اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:)
’’ مَا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْؕ-اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا اﻼ وَلَدْنَهُمْؕ- وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا‘‘(مجادلہ:2)
ترجمہ: جورئیں (یعنی بیویاں ) ان کی مائیں نہیں،ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے اُنہیں جنا ہے اور وہ بے شک بری اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔مگر اس سے نہ نکاح میں خلل آئے، نہ توبہ کے سوا کچھ اور لازم ہو۔ (3)
=========== =============================
(1) الفتاوی الھندیہ، کتاب الطلاق، الباب التاسع فی الظھار، جلد:1، صفحہ:534، دار الکتب العلمیہ، بیروت.
(2) المرجع السابق، صفحہ:536.
(3) فتاویٰ رضویہ، باب الظھار، جلد:13، صفحہ:280، رضا فاؤنڈیشن (دعوت اسلامی).
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
---------------------------------------------------------

