آستین موڑ کر نماز پڑھنا


آستین موڑ کر نماز پڑھنا کیسا ہے آستین چڑھا کر نماز پڑھنا کیسا ہے

آستین موڑ کر نماز پڑھنا؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

آدھی کلائی سے زیادہ آستین موڑ کر نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، خواہ پہلے سے موڑی ہو یا حالتِ نماز موڑی ہو۔ حضور ﷺ نے نماز میں کپڑا سمیٹنے سے منع فرمایا۔ لہذا اگر کسی نے آدھی آستین سے زیادہ موڑ کر نماز ادا کی تو اسے دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔

حدیث شریف میں ہے:”امرت ان اسجد علی سبعۃ اعضاء وان لااکف شعرا ولاثوبا“ یعنی مجھے سات اعضا پر سجدہ کا حکم ہے اور اس بات کا کہ میں بال اکٹھے نہ کروں اور نہ کپڑا اٹھاؤں۔ (صحیح مسلم، باب اعضاء السجود،جلد:1،صفحہ:193)

دوسری حدیث شریف میں حضور ﷺ نے فرمایا:”امرت ان لااکف الشعروالثیابیعنی مجھے حکم دیاگیاہے کہ میں بالوں اور کپڑوں کو اکٹھا نہ کروں۔ (صحیح مسلم، باب اعضاء السجود، جلد:1، صفحہ:193)

علامہ زین الدین بن ابراہیم بن محمد المعروف ابن نجیم حَنَفی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ البحر الرائق میں فرماتے ہیں:”یدخل ایضا فی کف الثوب نشمیر کمیہ“ یعنی کپڑا اٹھانے میں آستینوں کا چڑھانا بھی داخل ہے۔ (البحر الرائق، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، جلد:2، صفحة:24)

درِّ مختار میں ہے:”کرہ کف ای رفعہ ولو لتراب کمشمرکم اوذیل“ یعنی کپڑے کا اٹھانا اگر چہ مٹی کی وجہ سے ہو مکروہ ہے جیساکہ آستین اور دامن کا چڑھانا۔ ( الدر المختار، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، جلد:1، صفحہ:91)

رد المحتار میں ہے:”حرر الخیر الرملی مایفید ان الکراھة فیه تحریمیة“ یعنی شیخ خیرالدین رملی کی عبارت اس بات کی مفید ہے کہ اس میں کراہت تحریمی ہے۔ (رد المحتار، مطلب مکروہات الصلاۃ، جلد:1، صفحہ:473)

اکثر کلائی پر سے آستین چڑھی ہونا ہی کراہت کو کافی ہے اگرچہ کہنی تك نہ ہو، چنانچہ غنیہ میں ہے:”(و) یکرہ ایضا (ان یرفع کمہ) ای یشمرہ (الی المرفقین) وھذا قید اتفاقی فانہ لو شمر الی مادون المرفق یکرہ ایضا لانہ کف للثوب وھو منھی عنہ فی الصلاۃ لما مر وھذا اذاشمرہ خارج الصلٰوۃ وشرع فی الصلٰوۃ وھوکذٰلك اما لوشمرہ فی الصلاۃ تفسد لانہ عمل کثیر“ یعنی اور یہ بھی مکروہ ہے (کہ آستین اٹھائی) یعنی چڑھائی ہو(کہنیوں تک) اور یہ قید اتفاقی ہے کیونکہ کہنیوں کے نیچے تك بھی چڑھائی ہوں تب بھی کراہت ہے کیونکہ یہ کپڑے کا اٹھانا ہے حالانکہ وہ نمازمیں ممنوع ہے جیسا کہ اس پر احادیث گزری ہیں اور یہ اس وقت ہے جب اس نے نماز سے باہر آستین کو چڑھایا تھا اور اسی حال میں نماز شروع کردی اور اگر دوران نمازآستین چڑھاتا ہے تونماز فاسد ہوجائے گی کیونکہ یہ عمل کثیرہے۔ (غنیة المستملى، يكره فصله فى الصلاة وما لا يكره، صفحة:348)

بہارِ شریعت میں ہے:”کوئی آستین آدھی کلائی سے زیادہ چڑھی ہوئی، یا دامن سمیٹے نماز پڑھنا بھی مکروہ تحریمی ہے، خواہ پیشتر سے چڑھی ہو یا نماز میں چڑھائی۔“ (بہارِ شریعت، مکروہات کا بیان، جلد:1، حصہ:3، صفحہ:624، مجلس المدینۃ العلمیہ دعوت اسلامی)

کراہتِ تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی نماز کے متعلق در مختار میں ہے:”کل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها“ یعنی ہر وہ نماز جو کراہتِ تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہو، اس کا اعادہ واجب ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الصلوۃ، واجبات الصلوۃ، جلد:2، صفحہ:182، کوئٹہ)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

سینڈو بنیان پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے اس مسئلہ کو پڑھنے کے لیے 



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.