سوال: دولھا کو جو پھولوں کا ہار یا پھولوں کا سہرہ باندھا جاتا ہے — اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
*بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*پھولوں کا سہرا باندھنا مُباح و جائز ہے جبکہ اور کوئی وجہ مانع نہ ہو۔ کیونکہ یہ ایک دنیوی رسم ہے جس کو شریعت نے منع نہ فرمایا اور نہ ہی اس کا حکم دیا تو یہ بھی دیگر رسوم مباحہ کی طرح مباح ہی رہے گا۔*
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اسی طرح کے ایک سوال میں جواباً ارشاد فرماتے ہیں:”پھولوں کا سہرا جیسا سوال میں مذکور رسوم دنیویہ سے ا یك رسم ہے جس کی ممانعت شرع مطہر سے ثابت نہیں نہ شرع میں اس کے کرنے کا حکم آیا ہے تو مثل اور تمام عادات ورسوم مباحہ کے مباح رہے گا۔ شرع شریف کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جس چیز کو خدا و رسول اچھا بتائیں وہ اچھی ہے اور جسے برا فرمائیں وہ بری ہے اور جس سے سکوت فرمائیں یعنی شرع سے نہ اس کی خوبی نکلے نہ برائی وہ اباحت اصلیہ پر رہتی ہے کہ اس کے فعل و ترك میں ثواب نہ عقاب، یہ قاعدہ ہمیشہ یاد رکھنے کا ہے کہ اکثر جگہ کام آئے گا۔ ۔ ۔ کچھ سطور بعد لکھتے ہیں:بالجملہ خلاصہ یہ ہے کہ سہرا نہ شرعا منع نہ شرعًا ضروری یا مستحب،بلکہ ایك دنیوی رسم ہے۔کی تو کیا،نہ کی توکیا، اس کے سوا جو کوئی اسے حرام گناہ بدعت ضلالت بتائے وہ سخت جھوٹا،بر سر باطل اور جو اسے ضروری لازم اور ترك کو شرعا موجب تشنیع جانے وہ نرا جاہل۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:23، صفحہ:323 ملتقطا، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

