غوث اعظم کی خشیت الٰہی


غوث اعظم کا خشیت الٰہی، محمد اسلم ساقی مصباحی کٹیہاری


غوثِ اعظم اور خوفِ خدا

تحریر :  محمد اسلم ساقی، مصباحی. کٹیہار، بہار


مبسملا و حامدا :: مصليا و مسلما
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ خاصانِ خدا کی آمدِ پر بہار کا مقصود و مدّعا بنی نوعِ انسان کی تادیب و تہذیب اور اصلاح و درستی ہوتا ہے۔ ابتدا میں ایک عرصۂ دراز تک مختلف اقوام و افراد کی طرف اللہ عزّ و جلّ متعدد انبیاے  کرام و اولیاے عظام کو مشترکہ طور پر معبوث فرماتا رہا۔ جنھوں نے ظلم و تعدی اور بغاوت و بیداد گری کے نشے میں چور اقوام تک دعوتِ حق و صداقت پہنچایا، اور ساتھ ہی ترہیب و تخویفِ عذابِ نار کے فریضے کو بھی کما حقہ انجام دیا، اور باطل و سرکش افراد کو گمراہی کے ظلمتوں سے نکال کر رشد و ہدایت کے اُجالے میں کھڑا کیا، پھر نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد سلسلۂ نبوّت و رسالت اپنی انتہا کو پہنچ کر منقطع ہو گیا، لیکن حضرتِ انسان کی تہذیب و اصلاح کی احتیاج بدستور باقی رہی، یہی وجہ ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ مختلف ادوار و ازمنہ میں بغرضِ تادیب و اصلاحِ اُمت، اپنے مخصوص بندوں کو بھیجتا رہا۔

پھر اس حقیقت کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا ہے کہ اصلاح و تہذیبِ نفوسِ بشری اُس وقت تک نقطۂ تمام و کمال کو نہیں پہنچ سکتی ہے جب تک کہ اس میں خوفِ خدا اور فکرِ آخرت کے پہلو کو جگہ نہ دی جائے۔ خوفِ خدا ہی وہ نِشتر ہے جس کے سینوں میں چبھنے کے بعد تقربِ الٰہی کی سند و اعزاز حاصل ہوتا ہے، اللہ کے برگزیدہ بندوں کے قلوب میں خوفِ خدا اور فکرِ آخرت کی شمع ہمہ وقت روشن رہتی ہے۔ جس کی کرنوں سے وہ اپنے حلقہ بگوش افراد کے سینوں کو منور و مجلّی فرما کر قُربِ الٰہی کے نعمتِ عظمیٰ سے سرفراز کرتے ہیں۔

خوفِ خدا کی نعمتِ بے بہا سے لبالب علما، فضلا، اولیا اور اصفیا کی تعداد حدِّ احصاء اور دائرۂ احاطہ سے باہر ہے،  قابلِ غور بات ہے کہ خشیتِ ربّانی، ربّ کائنات کے انہیں افراد مخصوصہ کے ساتھ مختص ہے، اور کیوں نہ ہو کہ قرآنی آیت بھی اس پر شاہد عدل ہے۔ چنانچہ ربّ کریم نے ارشاد فرمایا: اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا۔ ترجمہ : اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ 
 دیکھیے! کہ خوفِ خدا اور خشیت الٰہی کا مدار علم و معرفت پر ہے، اور یہ ایک نا قابل انکار حقیقت ہے کہ اللہ کی ذات و صفات اور شریعت و طریقت کا علم اور اس کی معرفت صحیح معنوں میں -بعد انبیا و رسل- علما، فضلا، اولیا اور اصفیا کو ہی ہے۔

اللہ کے برگزیدہ بندوں میں سے ایک عظیم الشان، جلیل القدر اور عالی مرتبت ہستی سلطان الاولیا، برہان الاصفیا، جانشینِ امام الانبیا، صاحبِ قدمِ مصطفیٰ سیِّدُنا شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے۔ جن کی ولادت با سعادت علاقہ "جیلان" میں 470 ھ میں سیِّدُنا شیخ ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رضی اللہ‌ تعالیٰ عنہ کے گھر ہوئی، آپ کی والدہ ماجدہ اُم الخیر حضرتِ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ایک انتہائی نیک خصلت، شریف النفس، عفّت مآب اور پاکیزہ سیرت خاتون تھی، یہی وجہ ہے کہ اللہ کی خصوصی نوازش و عنایت اُن کی طرف متوجہ ہوئی، اور اُن کے شکمِ اطہر سے ایک ایسے سعید و صالح فرزند کی ولادت ہوئی جو مادر زاد ولی بھی ہے اور امام الاولیاء بھی

سرکار غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذاتِ ستودہ صفات، وہ عظیم اور مقدس ذات ہے جن کا ادراک و احساس ہم جیسے ناتُواں بلکہ عظیم مراتب پر فائز اشخاص بھی کرنے سے عاجز و قاصر ہیں، آپ گراں مایہ اوصاف و کمالات، محاسن و مناقب اور عادات و خصائل کے حامل تھے۔ آپ نہ صرف اپنے نانا جان سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے نائب و جانشین ہیں، بلکہ اُن کے علوم و معارف کے وارث و امین بھی،  یہی وجہ ہے کہ بے شمار خوبیاں اور خصوصیات ایسی ہیں جن میں آپ اپنے نانا جان محبوبِ رحمن صلی اللہ علیہ وسلم کے شریک و سہیم ہیں۔مثلاً جس طرح سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کل جہانوں کے لیے رحمت اور سارے عوالم کے لیے رسول بن کر جلوہ فرما ہوئے، خواہ وہ انسان ہوں، جنّات ہوں یا ملائکہ۔ اسی طرح غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی سارے پیروں کے پیر ہیں۔ چنانچہ خود فرماتے ہیں : الإنس له‍م مشايخ، والجن له‍م مشايخ، والملائكة له‍م مشايخ، وأنا شيخ الكل. حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک نمایاں اور قابلِ افتخار خصوصیت یہ ہے کہ ربّ ذو الجلال نے آپ علیہ السلام کو سراپا معجزہ بنا دیا تھا، ٹھیک اسی طرح اللہ نے شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے وجودِ مسعود کو کرامت بنا دیا تھا،  آپ کے خلفا و خدّام کا بیان ہے کہ آپ کے ہر نقل و حرکت پر ظہورِ کرامت ہوا کرتا تھا،تاریخ اولیا و اقطاب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے کشف و کرامات اتنے کثیر و وافر ہیں کہ ان کا احاطہ و شمار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ دنیاے کتب کی سیر کرنے والوں پر یہ روشن و تابناک حقیقت مخفی نہیں، کہ جب امام الانیاء سیّاح لا مکاں صلی اللہ علیہ وسلم کو کرّۂ ارض پر تشریف لانا تھا تو تمام انبیاے سابقین آمدِ رسول کی خوش خبریاں دے رہے تھے چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کلمات طیبات کو قرآنِ مجید نے اپنے سینے میں یوں محفوظ کیا۔ فرمایا : "و مُبشّرًا بِرسولٍ يّاتىْ مِن بعدى اسمه احمد". اسی طرح جب جانشینِ امام الانبیا صاحبِ قدمِ مصطفیٰ غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تشریف لانا تھا تو اپنے وقت کے بڑے بڑے ابدال و اقطاب اور اولیا و صالحین برسوں قبل آپ کی ولادت کی پیشین گوئی کر رہے تھے، کہ سرزمین عراق میں ایک بزرگ ظاہر ہونے والا ہے جو یہ اعلان کریں گے کہ "میرا یہ قدم تمام اولیا اللہ کی گردنوں پر ہے" اسی طرح بے شمار خوبیاں ہیں جن میں نانا اور نواسہ دونوں مشترک ہیں۔ اُنہیں مشترکہ خوبیوں میں سے ایک، کمالِ خوفِ خدا اور جمالِ خشیتِ الٰہی کی خاصیت و خوبی ہے۔

صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث ہے۔ سرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں، اور سب سے زیادہ اس کا خوف رکھنے والا ہوں۔ خشیتِ ربّانی کے رعب انگیز باب میں سیِّدُنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ذُروۂ کمال کو پہنچے ہوئے تھے،  آپ کی حیات کا قلزم ناپیدا کنار فکرِ آخرت و خوفِ خداوندی کے سیّال قطروں سے موجزن تھا۔ آپ کا قلبِ بیدار ہمہ وقت یادِ الٰہی اور خوفِ خدا سے معمور رہتا تھا۔ آپ بظاھر انتہائی خوش لباس، عمدہ پوشاک اور لباس فاخرہ زیبِ تن فرماتے تھے، لیکن آپ کا سر مبارک ہمیشہ خوفِ خدا کے زِرہ کُلاہ سے ڈھکا رہتا تھا، اور خشیت الٰہی کی لمبی چادر آپ کے جسمِ اطہر پر تنی رہتی تھی۔
آپ نے اپنے گلشنِ خوفِ خدا کی ایسی آبیاری کی، اور اس کی حفاظت و صیانت کا ایسا اہتمام کیا کہ نہ اُس میں کبھی خزاں آئی اور نہ ہی زوال نے اس کا قصد کیا۔

آپ کی مجالسِ موعظہ میں جہاں لوگوں کو تذکیۂ نفس اور تصفیۂ قلب کا درس دیا جاتا تھا وہیں خوفِ خدا اور خشیتِ الٰہی کے باب سے بھی روشناس کرایا جاتا تھا۔ جس کا دلوں پر ایسا گہرا اثر پڑتا کہ لوگوں کی چیخیں نکل جاتی تھیں، اور روحیں اجسامِ خاکی سے نکل کر عالمِ بالا کی طرف پرواز کر جاتی تھیں، خوفِ الٰہی اور فکرِ آخرت‌ کا جذبہ کس قدر آپ کے بیدار قلب میں موجزن تھا، اس کا اندازہ درج ذیل عبارتوں سے لگائیں۔إجعل آخرتك رأس مالك و دنیاك ربحه و اصرف زمانك اوّلا في تحصیل آخرتك ثم ان فضل من زمانك شی فاصرفه فی دنیاك (فتوح الغیب).
ترجمہ : آخرت کو اپنا راس المال اور دنیا کو اپنا منافعہ سمجھو اپنی عمر کا وقت پہلے آخرت کے حاصل کرنے میں صرف کرو پھر اگر تمہارا وقت کچھ بچ گیا تو اس کو اپنی دنیا میں خرچ کر لینا۔

مزید فرماتے ہیں۔
يا غلام قدم الاخرة على الدنيا فاناك تربحهما جميعا واذا قدمت الدنيا على الآخرة خسرتهما جميعا عقوبة لك. المومن يعمل لدنياه وآخرته يعمل الدنياه بقدر ما يحتاج اليه يقنعه منها كزاد الراكب. الجاهل كل همه الدنيا والعارف كل همه الآخرة . ( الفتح الرباني )

اے بیٹے آخرت کو دنیا پر مقدم کر اگر تو ایسا کرلے گا تو تجھے دنیا اور آخرت دونوں میں فائدہ ہوگا اور جب تو دنیا کو آخرت پر مقدم کرے گا تو پھر تو دونوں میں بطور سزا خسارا پائے گا مومن دنیا اور آخرت دونوں کیلئے کام کرتا ہے دنیا کیلئے صرف بقدر ضرورت جو اسے دنیا سے قانع بنادے جیسے مسافر کیلئے زاد راہ ۔ جاہل کو ہر وقت دنیا کی فکر ہوتی ہے۔ جب کہ عارف کو ہر وقت آخرت کی فکر ہوتی ہے۔

غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خوفِ خدا کے حوالے سے ایک بڑا مشہور اور رقت انگیز واقعہ کتابوں میں مذکور و مسطور ہے جس کو پڑھنے کے بعد عقل و خرد ماؤف ہوکر محویت کے حصار میں آ جاتی ہے۔ جسم و روح پر سکتے کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ چنانچہ سیِّدُنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ غلافِ کعبہ پکڑ کر زار و قطار رو رہے تھے، اور زبان حال سے کہہ رہے تھے، کہ اے اللہ! میں بغداد کا مسافر تیرے دروازے پر آیا ہوں، منہ اوپر نہیں اٹھتا، حیا آتی ہے، اگر تو بخش دے تو تیری مہربانی، اور اگر کوئی غلطی ہے تو قیامت کے دن مجھے نابینا کر کے اٹھانا، تاکہ نیکوں کے سامنے، میں شرمندہ نہ ہو جاؤں۔ اللہ اکبر! یہ ہے سلطنتِ ولایت کے سلطانِ عظیم کا خوفِ خدا، وہ تاجدارِ ولایت جن کی گردن پر سرکارِ مدینہ راحتِ قلب وسینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدمِ مبارک ہے۔ وہ قُطب الاقطاب جو محبوبِ خدا بھی ہے اور محبوبِ خدا کے محبوب بھی جب خوفِ خدا کے حوالے سے اُن کا یہ عالم ہے تو ہم جیسوں کے قلوب میں خشیت ربّانی کی کیسی تپش ہونی چاہیے۔

بلآخر؛ یقیناً ہم مسلمانوں کو سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعلیمات و تحریرات اور ارشادات و فرمودات کو اپنے لیے مشعلِ راہ بنائی چاہیے۔ بلکہ اُن کی پوری زندگی کو اپنے لیے نمونہ حیات بنانی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں غوثِ اعظم کے دریاے فیض سے مستفیض فرمائے۔ اور انکے جیسا خوفِ خدا ہمارے قلوب میں بھی پیدا فرمائے۔آمین ثم آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم، بطفیل غوث الثقلین رضی اللہ عنہ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

غمزہ دل کو پر سکون کیسے بنایا جائے اور اللّٰه پاک سے لو کیسے لگائیں اس موضوع کو پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈


 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.