والد فاسق معلن ہو تو ان کو سلام کرنا کیسا ہے




فاسقِ معلن کو سلام کرنا منع ہے لیکن والد صاحب اگر فاسقِ معلن ہوں تو انہیں سلام کرنا کیسا ہے؟ 



بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

_____________________________________________




فاسقِ معلن کو سلام کرنے میں ابتداء نہیں کرنی چاہیے کہ اس میں اس کی تعظیم و تعریف ہے اور فاسق کی تعظیم حرام، توہین واجب ہے۔ لیکن اگر فاسقِ معلن شریر ہے کہ اگر سلام نہ کریں تو نقصان پہنچائے گا تو عذر کے سبب معاف ہے، یعنی گناہ نہیں۔ہاں اگر وہ سلام کرے تو جواب دے سکتے ہیں کیونکہ سلام کا جواب دینا واجب ہے۔ لیکن والد صاحب اگر فاسقِ معلن ہوں تو انہیں سلام کر سکتے ہیں، اور یہ والد کی تعظیم و ادب کی وجہ سے ہے اور والد کی تعظیم ضروری ہے کہ اس میں والد کی رضا ہے اور عدمِ تعظیم میں ان کی ناراضی ہے۔


فاسقِ معلن کو سلام کرنے میں ابتداء نہ کرنے کے متعلق  فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”واختلف في السلام على الفساق في الأصح أنه لا يبدأ بالسلام“ یعنی فاسق سے سلام کرنے میں(فقہاء کا) اختلاف ہے زیادہ صحیح یہ ہے کہ فاسق سے سلام کرنے میں پہل نہ کی جائے۔ (الفتاوی الھندیہ، کتاب الکراہیہ، باب السلام وتشمیت العاطس، جلد:5، صفحہ:402، دار الکتب العلمیہ، بیروت)


فاسق معلن کو سلام کرنا منع ہے، چنانچہ دُرِّ مُختار  میں ہے:”ويكره السلام على الفاسق لو معلناً، وإلا لا“یعنی فاسقِ معلن کو سلام کرنا منع ہے، اور اگر فاسقِ معلن نہ ہو تو منع نہیں۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغيره، جلد:9، صفحة:595، دار الكتب العلمية، بيروت)

*اعلىٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ* جن کو سلام کرنا منع ہے ان کو شمار کراتے ہوئے لکھتے ہیں:”فاسق کو سلام کرنا ناجائزہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:22، صفحہ:378)


لیکن اگر فاسق شریر ہے تو سلام کرنے کی اجازت ہے، چنانچہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظَمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں:”جو شخص علانیہ فسق کرتا ہو اسے سلام نہ کرے کسی کے پڑوس میں فساق رہتے ہیں، مگر ان سے یہ اگر سختی برتتا ہے تو وہ اس کو زیادہ پریشان کریں گے اور نرمی کرتا ہے ان سے سلام کلام جاری رکھتا ہے تووہ ایذا پہنچانے سے باز رہتے ہیں تو ان کے ساتھ ظاہری طور پر میل جول رکھنے میں یہ معذور ہے۔“ (بہارِ شریعت، سلام کا بیان، جلد:3، حصہ:16، صفحہ:463، مجلس المدینۃ العلمیہ دعوت اسلامی)


فاسق کی تعریف کی جائے تو عرش ہلنے لگتا ہے،چنانچہ *حدیث پاک* میں ہے:’’إذا ‌مدح ‌الفاسق غضب الرب تعالى واهتز له العرش‘‘ ترجمہ:جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ کی ذات ناراض ہوتی ہے اور اُس کا عرش ہل جاتا ہے۔(مشکوٰۃ المصابیح، جلد: 3، صفحہ: 1363، مطبوعۃ المکتب الاسلامی، بیروت)


والد کی تعظیم و اطاعت کے متعلق  حدیث شریف  میں ہے:”طاعۃ اﷲ طاعۃ الوالد ومعصیۃ اﷲ معصیۃ الوالد“ یعنی اﷲ کی اطاعت ہے والد کی اطاعت،اور اﷲ کی معصیت ہے والد کی معصیت۔ (المعجم الاوسط، حدیث:2276، 3/134، مکتبۃ المعارف، بیروت)


دوسری حدیثِ پاک میں ہے  رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم  فرماتے ہیں:”رضا اﷲ فی رضا الوالد وسخط اﷲ فی سخط الوالد“ یعنی اﷲ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اﷲ کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے۔ (جامع الترمذی، باب ما جاء من الفضل فی رضا الوالدین، 2/12، امین کمپنی، دہلی
 لہذا والد اگر فاسقِ معلن ہوں تو انہیں سلام کر سکتے ہیں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ “

والله تعالیٰ اعلم بالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 سلام و مصافحہ کرتے وقت جھکانا کیسا ہے؟ اس مکمل مسئلہ کو پڑھنے  کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈


 



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.