گھڑی پہن کر نماز پڑھنے کے بارے میں کیا حکم ہے




گھڑی پہن کر نماز پڑھنے کے بارے میں کیا حکم ہے



بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
==========================================


بغیر دھات کی گھڑی⌚ پہن کر نماز پڑھنا تو بالاتفاق جائز ہے، نماز بلا کراہت ہو جائے گی، اس میں ممانعت کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ اشیاء میں اصل اباحت ہے یعنی جب تک دلائل شرعیہ سے کسی شے کی حرمت و ممانعت ثابت نہ ہو،حلال وجائز رہتی ہے،استعمال کرنے والے پر شرعاً کوئی گرفت نہیں کہ وہ معاف ہے۔

علامہ ابن عابدین شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:” (قولہ: الأصل الإباحة أو التوقف) المختار الأول عند الجمهور من الحنفية والشافعية یعنی اشیاء میں اصل اباحت ہے یا توقف، حنفیہ اور شافعیہ میں سے  علماء کا مختار مذہب یہ ہےکہ اشیاء میں اصل اباحت ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الاشربۃ، جلد:6، صفحہ: 460، دار الفکر، بیروت)
جبکہ اور کوئی وجہ مانع نہ ہو مثلاً وہ گھڑی ایسی ہو جو عورتوں کے ساتھ خاص ہو، تو عورتوں سے مشابہت کی بناء پر ناجائز ہوگی۔

ہاں چین والی گھڑی پہننے کے بارے میں علمائے اہلسنت کا اختلاف ہے، بعض علمائے کرام و مفتیانِ عظام کے نزدیک اسے پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے جبکہ بہت سے جید مفتیان  کرام کے نزدیک چین والی گھڑی پہن کر نماز پڑھنے سے بلاکراہت نماز ہو جائے گی۔ البتہ اس مسئلہ میں چونکہ اختلاف ہے اس لیے اختلاف سے بچنے کے لیے نماز پڑھتے وقت چین والی گھڑی اتار دینا بہتر ہے۔


والله تعالیٰ اعلم بالصواب


از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
==========================================

ننگے سر نماز پڑھنا کیسا ہے یہ بہت ضروری مسئلہ ہے اسے ضرور پڑھیں پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.