منطق ایک مجروح فن
از قلم : محمد اسلم ساقی، مصباحی. کٹیہار، بہار
متعلم : الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ
__________________________________________________
دنیا میں بے شمار علوم و فنون رائج ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنی نوعیت کے اعتبار سے حد درجہ اہمیت و افادیت کا حامل ہے ۔ کسی بھی عِلم و فن کی ضرورت و اہمیت کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ بنی نوع انسان اپنی فطری ذوق و شوق کے مطابق اپنے محبوب و پسندیدہ فن کا انتخاب کرتا ہے، پھر اس فن میں کمالِ مہارت حاصل کر کے رئیس الفن کے مقام و مرتبہ پر فائز ہو جاتا ہے۔ اور صاحب فن کے نزدیک اس کا پسندیدہ فن جملہ علوم و فنون سے فائق و برتر ہوتا ہے۔ لیکن واضح رہے کہ جو عظمت و رفعت اور مقام و مرتبہ علمِ قرآن و علمِ حدیث کو حاصل ہے وہ کسی اور علم کو نہیں، کیوں کہ یہی ہماری اساس و بنیاد اور علوم مقصودہ ہیں کہ حدیثِ مبارکہ میں انہیں علوم کی طرف اشارہ ہے، جن کو ہم علومِ دینیہ سے تعبیر کرتے ہیں ۔
ایک انسان کی طبیعت دوسرے انسان کی طبیعت سے حد درجہ مختلف ہوتی ہے اسی اختلافِ طبیعت و فطرت کی بنیاد پر لوگوں کے انتخابات جداگانہ ہوتے ہیں۔ ذاتی مشاہدہ ہے کہ ایک شئی ایک انسان کے لیے محبوب ٹھہری تو وہی شئی دوسرے انسان کے لیے مغضوب و مذموم ثابت ہوئی۔ یہی فرق و اختلاف علوم و فنون کے حوالے سے مدارسِ اسلامیہ کے طلبا و طالبات کے مابین دیکھنے کو ملتا ہے۔ مدارسِ اسلامیہ میں طلبا کے ذریعے جس فن کی سب سے زیادہ مخالفت ہوئی ہے اور آج جس فن سے سخت بے اعتنائی برتی جا رہی ہے وہ "فنِ منطق" ہے۔ عرصۂ دراز سے طلبا کی یہ شکایت رہی ہے کہ موجودہ زمانہ میں فن منطق کی کوئی احتیاج باقی نہیں رہی، اور نہ ہی اب اس کا کوئی فائدہ سمجھ میں آتا ہے۔ لہٰذا ہم طلباء کو فن منطق کی دشواریوں میں اُلجھا کر ذہنی خلش اور فکری دباؤ کا شکار نہ بنایا جائے اور کلی طور پر اس فن کو خارِج نصاب کر کے ہمارے کندھوں کو بار گراں سے آزاد کر دیا جائے۔
اگر سوال کیا جائے کہ طلبہ مدارس کے اندر "علمِ منطق" کے حوالے سے یہ جارحانہ مخالفت کیوں پائی جا رہی ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ شدّتِ مخالفت علمِ منطق کی اہمیت و افادیت اور مقام و مرتبہ سے نا واقفیت کے بناء پر ہے، اور اس کے فوائد و منافع سے نا آشنائی کے بناء پر ۔ علمِ منطق سے عدم دلچسپی کا سبب منطق کے اغراض ومقاصد ، اسرار و رموز اور اس کے نشیب وفراز کا نہ جاننا ہے۔ منطق کی جانب عدم التفات کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری جماعتِ اسلامی نے منطق کی بیانِ شان و عظمت پر نا کے برابر زور دیا، فنِ منطق کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے باضابطہ طور پر کسی مخصوص محفل کا انعقاد نہیں کیا۔ اور نا ہی مدرسین نے دورانِ درس ضرورتِ منطق کے بیان پر زیادہ زور کھپائی۔
یوں تو علمِ منطق کی تاریخ بہت ہی قدیم ہے "ارسطو" کو اس فن کے معلم اوّل کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ اس سے منطق کی قدامت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ میزانِ منطق کا پلّا ہمیشہ برابر نہیں رہا ہے، منطق کو کسی دور میں عروج و ارتقاء کی منزلیں حاصل ہوئی تو کسی دور میں زوال و انحطاط کا منہ بھی دیکھنا پڑا۔ کیوں کہ تعلیمِ منطق کے جواز و عدم جواز کے بارے میں ہمارے علماء دو گروہوں میں بٹ گئے، ایک گروہ نے عدم جواز کا قول کیا اور دوسرے نے جواز کا۔ پھر جن علماء نے عدم جواز کا قول کیا وہ اس منطق کے بارے میں تھا جس میں بعض خرافات اور فضول ابحاث شامل تھیں۔ جبکہ آج کا منطق اُن خرافات و لا یعنی ابواب و ابحاث سے پاک و منزہ ہے۔
منطق کی مخالفت میں کوئی معقولیت نہیں، کیوں کہ منطق محض ایک فن نہیں بلکہ ایک مادّۂ حیات ہے جس سے انسان کی نئی زندگی کی تخلیق کا آغاز ہوتا ہے۔ منطق وہ مستحکم ستون ہے جس پر عقلِ انسانی کی فلک بوس عمارت کی استقامت کا دار و مدار ہوتا ہے۔ انسان کی زندگی میں منطق کی حیثیت اُس خوبصورت قوسین کی سی ہے جو آسمان کے کنارے پر طلوع ہو کر آسمان کے حسن و جمال اور اس کے جاہ و حشمت میں اضافہ کر دیتا ہے۔ منطق چمنستانِ علم و فن کا وہ خوشنما گلاب ہے جس کی خوشبو انسان کی سیمابی طبیعت اور مزاجِ بستہ کی راحت و تسکین کا سبب بنتا ہے ۔ منطق قلبِ ناساز کے لیے وہ اکسیر اعظم ہے جو چشمِ زدن میں اندفاعِ علالت و ناسازی کا ضامن ہوتا ہے۔ منطق فکری سمندر میں اُس کشتی کی مانند ہے جو سمندر کی ہلاکت خیز تلاطم و تموّج سے ٹکرانے کے باوجود ساحل پے آنے کی استطاعت رکھتی ہے۔ منطق وہ زینہ ہے جس پر چل کر عروج و ارتقاء کی منزلوں تک باریابی حاصل کی جاتی ہے۔ منطق فکر کو بالیدگی فراہم کرتا ہے ۔ ذہن کو پختگی عطا کرتا ہے۔ شعور کو توانائی بخشتا ہے۔ خیالات کو استحکام کی روشنی سے نوازتا ہے۔ قوّت اخذ و استنباط کو مزید مستحکم بناتا ہے ۔ ملکہ افہام و ادراک کو تقویت عطا کرتا ہے ۔ افکار و نظریات کے پرندے کو بال و پر کی لا زوال دولت سے بہرہ مند کرتا ہے۔ مادۂ عقل و خرد کو نئی زندگی فراہم کرتا ہے ۔
یوں تو ہر طالب علم کو چاہیے کہ وہ علم منطق سے اپنا رشتہ استوار رکھیں، لیکن بالخصوص وہ طلبا جن کا موضوع فقہ و اصول فقہ ہے۔ اس لیے کہ منطق فقہی جزئیات کی تفہیم اور استنباط احکام میں بے پناہ مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اُبھرتے ہوئے نئے مسائل کا حل تلاش کرنے میں بڑی مدد ملتی ہے ۔منطق کا علم اس لیے بھی ضروری ہے کہ دور جدید کے تعقُل پرست معترضین ہمارے مذہبی عقائد و نظریات پر بے جا اعتراضات کرتے رہتے ہیں، ایسے میں اُنہیں ساکت و صامت کرظنے کے لیے ہمارے پاس منطقی طرزِ استدلال پر عقلی جواب کا ہونا ضروری ہے۔ کیوں کہ نقلی دلائل و براہین پر مشتمل جوابات اُنہیں تسلیم نہیں۔ۓ
بلآخر : ہم اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ علمِ منطق سے دوری نہیں، بلکہ قربت اختیار کرنی چاہیے ۔ منطق سے عداوت نہیں، بلکہ دوستی کرنی چاہیے۔ منطق کی مخالفت نہیں، بلکہ اس کی جانب دلچسپی کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں منطق کی مخالفت سے بچائے، اور اس کی جانب ارتکاز کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

