بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعثِ مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

حالت نماز میں دونوں پیروں کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہیے



حالت نماز میں پیروں کا فاصلہ کتنا ہونا چاہیے 


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
-------------------------------------------------------------------



حالتِ نماز میں دونوں پیروں کے درمیان کم از کم چار اُنگل اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت کا فاصلہ ہونا چاہیے۔


رد المحتار میں ہے:و ينبغي أن يكون بينها مقدار أربع إصابع اليد لأنه أقرب إلى الخشوع“ 
 یعنی: دونوں پیروں کے درمیان چار انگل کا فاصلہ ہونا مناسب ہے کیونکہ یہ کے قریب تر ہے۔ (رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفة الصلاة، جلد:2، صفحہ:131)



صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظَمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نماز پڑھنے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”دونوں پاؤں کے پنجوں میں چار انگل کا فاصلہ کر کے کھڑا ہو۔“ (بہارِ شریعت،نماز پڑھنے کا طریقہ، جلد:1، حصہ:3، صفحہ:504، مجلس المدینة العلمیة دعوت اسلامی)



والله تعالیٰ اعل باالصواب   

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی


======================================

اقامت میں نماز کے لیے کب اٹھنے کا حکم ہے مفصل جواب ملاحظہ فرمائیں پڑھنے کے لیے 

یہاں کلک کریں 👈 

0 Response to "حالت نماز میں دونوں پیروں کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہیے"

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->