حالت نماز میں پیروں کا فاصلہ کتنا ہونا چاہیے
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
-------------------------------------------------------------------حالتِ نماز میں دونوں پیروں کے درمیان کم از کم چار اُنگل اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت کا فاصلہ ہونا چاہیے۔
رد المحتار میں ہے:”و ينبغي أن يكون بينها مقدار أربع إصابع اليد لأنه أقرب إلى الخشوع“
یعنی: دونوں پیروں کے درمیان چار انگل کا فاصلہ ہونا مناسب ہے کیونکہ یہ کے قریب تر ہے۔ (رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفة الصلاة، جلد:2، صفحہ:131)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظَمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نماز پڑھنے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”دونوں پاؤں کے پنجوں میں چار انگل کا فاصلہ کر کے کھڑا ہو۔“ (بہارِ شریعت،نماز پڑھنے کا طریقہ، جلد:1، حصہ:3، صفحہ:504، مجلس المدینة العلمیة دعوت اسلامی)
والله تعالیٰ اعل باالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
======================================
اقامت میں نماز کے لیے کب اٹھنے کا حکم ہے مفصل جواب ملاحظہ فرمائیں پڑھنے کے لیے

