جئے ہند بولنا کیسا ہے؟
از قلم: محمد کونین صدیقی کٹیہاری
بسم اللّٰہ العلیم الخبیر
الجواب بعون الملک العلام
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــلفظ "جئے" ہندی لفظ ہے معنی "فتح" کے ہیں،
اور "ہند" یہ ہمارا ملک کا نام ہے،
اب مکمل معنی ہوگا، "ہندوستان کی فتح و نصرت اور بقا ہو" جو کہ کہنا بلا شبہ جائز ہے۔
کوئی مسلمان "جئے ہند" کا نعرہ سر بلند کرتا ہے، بغیر کسی کفریہ شرکیہ عقیدے کے، فقط حب الوطنی میں دیش کی تعمیر و ترقی کی صدق نیت سے تو جائز ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں۔
(فتویٰ ۳٤٦ جامعہ اشرفیہ مبارک پور)
لہٰذا حضور شارح بخاری رحمۃ اللّٰہ علیہ سے پوچھا گیا تو فرمایا: یہ ہندوؤں کا شعار ہے، جب کوئی ایسا بولتا ہے تو اسے ہندو سمجھا جاتا ہے، اس لیے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ ان جیسے الفاظ کو استعمال کرے،
(فتاویٰ شارح بخاری/ ج: ۲, ص: ٤٦٣)
دونوں جگہ کا ماخذ بیان کیا گیا ہے، اصل کے لیے دلائل کی طرف رجوع کریں۔
بہر کیف پہلے ہندوؤں کا شعار تھا اب نہیں ہے، اس لیے عصر حاضر میں "جئے ہند" کا نعرہ لگانا جائز ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
___________________________________________________
جہاں داڑھی رکھنا معیوب سمجھا جاتا ہو ایسی جگہ داڑھی رکھنے کا حکم کیا
ہے؟ اس مسئلہ کو پڑھنے کے لیے

