تکبیر اقامت میں کب اٹھنا چاہیے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
احناف کے نزدیک حکم شرع یہ ہے کہ جو لوگ تکبیر کے وقت مسجد میں موجود ہیں بیٹھے رہیں جب مکبّر حَیَّ عَلَی الصَّلَوۃِ یا حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ پر پہنچے تو اٹھیں اور یہی حکم امام کے لیے بھی ہے۔
جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”یَقُومُ الْإِمَامُ وَالْقَوْمُ إذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ عِنْدَ عُلَمَاءِنَا الثَّلَاثَۃِ وَہُوَ الصَّحِیحُ‘‘ یعنی علماے ثلاثہ (حضرت امام اعظم ، امام ابو یوسف اور امام محمد رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِم) کے نزدیک امام اور مقتدی اس وقت کھڑے ہوں جب کہ مکبر حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ کہے اور یہی صحیح ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الثانی، الفصل الثانی فی کلمات الأذان إلخ، جلد:1، صفحہ:57)
شرح وقایہ میں ہے:”یَقُوْمُ الْامَامُ وَالْقَوْمُ عِنْدَ ”حَیَّ عَلیَ الصَّلاَۃِ“ ویشرع عند ”قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ “ یعنی امام اور نمازی ”حَیَّ عَلیَ الصَّلاَۃ “ پر کھڑے ہوں اور ”قد قامت الصلاۃ “ کے الفاظ پر امام نماز شروع کردے۔ (شرح الوقایۃ، کتاب الصلاۃ، صفحہ:155)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:”یَقُومُ الْإِمَامُ وَالْقَوْمُ عَنْد حَیَّ عَلَی الصَّلَوۃِ“ یعنی امام اور مقتدی حَیَّ عَلَى الصَّلَوۃِ کے وقت کھڑے ہوں۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، جلد:2، صفحہ:339)
اور اگر امام حاضر نہیں تو مؤذن جب تك اُسے آتا نہ دیکھتے تکبیر نہ کہے نہ اُس وقت تك کوئی کھڑا ہو لقولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لاتقوموا حتی ترونی(کیونکہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا ارشاد گرامی ہے : تم نہ کھڑے ہواکرو یہاں تك کہ مجھے دیکھ لو۔ ت) پھر جب امام آئے اور تکبیر شروع ہو اس وقت دو۲ صورتیں ہیں اگر امام صفوں کی طرف سے داخل مسجد ہو تو جس صفت سے گزرتا جائے وہی صف کھڑی ہوتی جائے اور اگر سامنے سے آئے تو اُسے دیکھتے ہی سب کھڑے ہو جائیں اور اگر خود امام ہی تکبیر کہے تو جب تك پُوری تکبیر سے فارغ نہ ہولے مقتدی اصلًا کھڑے نہ ہوں بلکہ اگر اس نے تکبیر مسجد سے باہر کہی تو فراغ پر بھی کھڑے نہ ہوں جب وہ مسجد میں قدم رکھے اُس وقت قیام کریں ،
ہندیہ میں بعد عبارت مذکور ہے: ”فَاما اِذَا کَانَ الْاِمَامُ خَارِج الْمَسْجِد فان دَخَل المسجد مِنْ قَبْلِ الصفون فکلماجاوز صفا قَام ذلِكَ الصَّف وَالَیْہِ مال شمس الائمۃ الحلوانی والسرخسی وشیخ الاسلام خواھرزادہ وان کان الامام دخل المسجد من قدامھم یقومون کماراؤا الامام وان کان المؤذن والامام واحدا فان اقام فِی المسجد فالقوم لایقومون مالم یفرغ عن الاقامۃ وان اقام خارج المسجد فمشایخنا اتفقوا علی انھم لایقومون مالم یدخل الامام المسجد ویکبر الامام قبیل قَوْلہ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃ قَالَ الشیخ الامام شمس الائمۃ الحلوانی وَھُوَ الصحیح ھٰکَذَا فِی الْمُحْیطِ“ یعنی اگر امام مسجد سے باہر ہو اگر وہ صفوں کی جانب سے مسجد میں داخل ہو توجس صف سے وہ گزرے وہ صف کھڑی ہو جائے ، شمس الائمہ حلوانی ، سرخسی ، شیخ الاسلام خواہر زادہ اسی طرف گئے ہیں ، اور اگر امام اُن کے سامنے سے مسجد میں داخل ہو تو اُسے دیکھتے ہی تمام مقتدی کھڑے ہو جائیں ، اگر مؤذن اور امام ایك ہی ہے پس اگر اس نے مسجد کے اندر ہی تکبیر کہی تو قوم اس وقت تك کھڑی نہ ہو جب تك وہ تکبیر سے فارغ نہ ہو جائے اور اگر اس نے خارج از مسجد تکبیر کہی تو ہمارے تمام مشائخ اس پر متفق ہیں کہ لوگ اس وقت تك کھڑے نہ ہوں جب تك امام مسجد میں داخل نہ ہو اور امام ”قدقامت الصلاۃ“ کے تھوڑا پہلے تکبیر تحریمہ کہے امام شمس الائمہ حلوانی کہتے ہیں کہ یہی صحیح ہے ، محیط میں اسی طرح ہے۔ (الفتاوی الھندیہ، الفصل الثانی فی کلمات الأذان والأقامة۔۔۔ إلخ،جلد:1، صفحہ:57)
اور کھڑے ہو کر سننا مکروہ ہے یہاں تک کہ علماء حکم فرماتے ہیں کہ جو شخص مسجد میں آیا اور تکبیر ہورہی ہے وہ اس کے تمام تك کھڑا نہ رہے بلکہ بیٹھ جائے یہاں تك کہ مکبّر ”حی علی الفلاح “ تك پہنچے اُس وقت کھڑا ہو۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ’’إذَا دَخَلَ الرَّجُلُ عِنْدَ الْإِقَامَۃِ یُکْرَہُ لَہُ الِانْتِظَارُ قَاءِمًا وَلَکِنْ یَقْعُدُ ثُمَّ یَقُومُ إذَا بَلَغَ الْمُؤَذِّنُ قَوْلَہُ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کَذَا فِی الْمُضْمَرَاتِ‘‘۔ یعنی جب کوئی نمازی تکبیر کے وقت آئے تو وہ بیٹھ جائے کیونکہ کھڑے ہوکر انتظار کرنا مکروہ ہے پھر جب مؤذّن ” حی علی الفلاح “ کہے تو اس وقت کھڑا ہو۔ (الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الصلاۃ،الباب الثانی،الفصل الثانی فی الأذان۔۔۔ إلخ، جلد:1، صفحہ:57)
رد المحتار میں ہے:”وَیُکْرَہُ لَہُ الانْتِظَارُ قَاءِمًا،وَلَکِنْ یَقْعُدُ ثُمَّ یَقُومُ إذَا بَلَغَ الْمُؤَذِّنُ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ‘ یعنی مقتدی کو کھڑا ہو کر تکبیر کا انتظار کرنا مکروہ ہے، بیٹھ جائے پھر جب مؤذن حی علی الفلاح پر پہنچنے تب کھڑا ہو۔ (ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، مطلب فی کراھۃ تکرار الجماعۃ۔۔۔إلخ، جلد:2، صفحہ:88)
نوٹ: مزید جانکاری کے لیے خلیفہ اعلیٰ حضرت، علامہ مفتی ظفر الدین بہاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا رسالہ ” تَنْوِیرُ الْمِصْبَاحِ لِلْقِیَامِ عِنْدَ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ “ کا مُطالعہ کریں۔
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
---------------------------------------------------------
کپڑے فولڈ کرکے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ اس مسئلہ کو ضرور پڑھیں پڑھنے کے لیے

