کپڑے فولڈ کرکے نماز پڑھنا کیسا ہے
*بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
==========================================
کپڑا فولڈ کرنا جسے شریعت کی اصطلاح میں کفِّ ثوب کہتے ہیں یہ حالتِ نماز میں مکروہِ تحریمی ہے کیونکہ حضور ﷺ نے کپڑا سمیٹنے سے منع فرمایا خواہ اوپر سے موڑا ہو یا نیچے سے اندر سے ہو یا باہر سے کیوں کہ حدیث پاک میں مطلقاً منع فرمایا ۔ یاد رہے! کپڑا فولڈ کرنے کی دو صورتیں ہیں پہلا: معتاد یعنی جو عادتاً اور عموماً موڑا جاتا ہو جیسے تہبند کو موڑنا، ایسا کالر جو عام طور پر موڑا جاتا ہے،ایسی ٹوپی جس کو موڑا جاتا ہو وغیرہ یہ صورت جواز کی ہے۔ دوسرا: خلافِ معتاد یعنی جو عادتاً نہ موڑا جاتا ہو جیسے پینٹ کو نیچے سے یا اوپر سے یا اندر سے موڑنا، ایسی ٹوپی جو عادتاً نہ موڑی جاتی ہو اس کو موڑنا وغیرہ یہ مکروہِ تحریمی و گناہ ہے۔ آستین اگر آدھی کلائی سے اوپر ہو تو یہ بھی مکروہِ تحریمی ہے۔ تمام متون مذہب میں ہے: کرہ کف ثوبہ یعنی کپڑوں کو اٹھانا مکروہ ہے۔
حدیث شریف میں ہے:”قال النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اُمِرتُ ان اسجد علی سبعۃ اعظم علی الجبھۃ و اشار بیدہ علی انفہ و الیدین و الرکبتین و اطراف القدمین و لانَکفِتَ الثیاب و الشعر“نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے:پیشانی پر اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے دستِ مبارک سے اپنی مقدس ناک شریف کی طرف اشارہ فرمایا اور دونوں ہاتھوں پر اور دونوں پر اور دونوں پاؤں کے کناروں پر اور یہ کہ ہم کپڑے اور بال نہ سمیٹیں۔ ( صحیح البخاری ، جلد 1 ، صفحہ 182 ، حدیث 812، مطبوعہ لاھور)
ملا علی قاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس حدیثِ پاک کے آخری الفاظ کے تحت فرماتے ہیں:”و مِن کفِتھما ان یعقص الشعر و ان یشمر ثوبہ۔ملخصا“ یعنی کپڑے اور بال سمیٹنے میں سے ہے ، اس کا بالوں کا جُوڑا بنانا اور کپڑا سمیٹنا۔ (مرقاۃ المفاتیح،جلد 2،صفحہ561،مطبوعہ کوئٹہ)
علامہ محمد بن ابراہیم حلبی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:’’يكره أن يكف ثوبه وهو في الصلاة أو يدخل فيها وهو مكفوف كما إذا دخل وهو مشمر الكم أو الذيل۔‘‘ ترجمہ:حالتِ نماز میں نمازی کو کپڑا لپیٹنا مکروہ ہے، یونہی اگر وہ نماز شروع ہی اِس انداز میں کرے کہ اُس نے کپڑا فولڈ کیا ہوا ہو، جیسا کہ جب کوئی یوں نماز شروع کرے کہ اُس کی آستین یا دامن چڑھا ہوا ہو۔(غنیۃ المتملی شرح منیۃ المصلی، فصل فیما یکرہ فعلہ فی الصلاۃ، صفحہ: 348، مطبوعہ لاھور)
علامہ علاؤالدین حصکفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تحریر فرماتے ہیں:”کرہ کف ای رفعہ ولو لتراب کمشمرکم اوذیل“ یعنی کپڑے کا اٹھانا اگرچہ مٹی کی وجہ سے ہو مکروہ ہے جیساکہ آستین اور دامن کا چڑھانا۔ (در مختار مع ردالمحتار ، جلد2، باب ما يفسد الصلاة ومايكره فيها، صفحہ490، مطبوعہ کوئٹہ))
اس کے تحت علامہ ابنِ عابدین شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ :”حرر الخیر الرملی مایفید ان الکراھۃ فیہ تحریمیۃ“ یعنی شیخ خیرالدین رملی کی عبارت اس بات کی مفید ہے کہ اس میں کراہت تحریمی ہے (رد المحتار مع درمختار ، جلد2، باب ما يفسد الصلاة ومايكره فيها، صفحہ490، مطبوعہ کوئٹہ)
مگر کفِ ثوب کی کراہت خلافِ معتاد کے ساتھ مقید ہے، چنانچہ خلیلِ ملت مفتی محمد خلیل خان قادری رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں :’’ شلوار کو اوپر اُڑس لینا یا اس کے پائنچہ کو نیچے سے لوٹ لینا، یہ دونوں صورتیں کفِ ثوب یعنی کپڑا سمیٹنے میں داخِل ہیں اور کف ثوب یعنی کپڑا سمیٹنا مکروہ اور نماز اِس حالت میں ادا کرنا، مکروہِ تحریمی واجب الاعادہ کہ دہرانا واجب، جبکہ اِسی حالت میں پڑھ لی ہو اور اصل اِس باب میں کپڑے کا خلافِ معتاد استعمال ہے، یعنی اس کپڑے کے استعمال کا جو طریقہ ہے، اس کے بر خلاف اُس کا استعمال۔جیسا کہ عالمگیری میں ہے۔‘‘ (فتاوی خلیلیہ،جلد:1، صفحہ:246
علامہ زین الدین بن ابراہیم بن محمد المعروف ابن نجیم حَنَفی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ البحر الرائق میں فرماتے ہیں:”یدخل ایضا فی کف الثوب نشمیر کمیہ“ یعنی کپڑا اٹھانے میں آستینوں کا چڑھانا بھی داخل ہے۔ (البحر الرائق، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، جلد:2، صفحة:24)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
==========================================
آستین موڑ کر نماز پڑھنا کیسا ہے اس مسئلہ کو پڑھنے کے لیے

