ایک جانور میں قربانی اور عقیقہ کی نیت کرکے ذبح کرنا کیسا ہے



ایک ہی جانور میں قربانی اور عقیقہ کی نیت کرنا کیسا ہے؟

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
سوال: محترم مفتی صاحب! اگر کوئی شخص ایک ہی جانور سے قربانی اور عقیقہ دونوں کرنا چاہے، تو کیا ایسا کرنا شرعاً درست ہے؟ اور اگر جائز ہو تو اس جانور کو ذبح کرتے وقت نیت اور ذبح کرنے کا طریقہ کیا ہونا چاہیئے؟ کیا دونوں عبادتوں کی نیت ایک ساتھ کی جائے؟ رہنمائی فرما دیں۔
المستفتی: محمد مصیب الرحمن قادری
اتر دیناج پور بنگال              
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُه

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الجواب بعون الله و توفیقه:- ایک ہی جانور میں قربانی اور عقیقہ دونوں جائز ہیں جبکہ جانور بڑا ہو مثلاً گاے، اونٹ وغیرہ ۔

📚فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے : "ایک گاے میں ایک سے سات تک عقیقہ ہوسکتا ہے، اگر ایک کے سوا دوسرا حصہ ایک یا دو کتنا ہی خفیف ہو غیر غربت مثلاً اپنے کھانے کی نیت کو رکھا تو عقیقہ ادا نہ ہوگا، ہاں اگر وہ حصے بھی قربت کے ہوں مثلاً ایک حصّہ عقیقہ، اور ایک حصہ قربانی عید اضحیٰ تو جائز ہے"۔(باب العقیقہ، ج: ٢٠، ص: ٥٩٣-٥٩٤)

        📚 بہار شریعت میں ہے:"اسی طرح قربانی اور عقیقہ کی بھی شرکت ہو سکتی ہے کہ عقیقہ بھی تقرب کی ایک صورت ہے"۔(قربانی کے جانور کا بیان، ج: ٣، ص: ٣٤٣، ط: مجلس المدینۃ العلمیہ)

        📚 ردالمحتار میں ہے:" کذا لو اراد بعضھم العقیقۃ عن ولد قد ولد له من قبل، لأن ذلک جھۃ التقرب بالشکر علی نعمۃ الولد"(کتاب الأضحیۃ، ج: ٩، ص: ٥٤٠، ط: بیروت)

      اور اس کے ذبح کرنے کا طریقہ 

یہ ہے کہ بسم الله الله اکبر کہہ کر ذبح کرے، البتہ اتنا کافی ہے کہ بوقت ذبح جملہ شرکا کے نام کا دل میں خیال ہو کیونکہ نیت ہونا اور جو مخصوص دعاؤں کا پڑھنا مستحب ہے بایں سبب اگر بڑے جانور میں قربانی اور عقیقہ دونوں کی شرکت ہو تو دونوں کی دعائیں بعد ذبح کے پڑھی جاسکتی ہیں۔
📚 بدائع الصنائع میں ہے: "أَمَّا الَّذِیْ یَرْجِعُ اِلیٰ مَنْ عَلَیْهِ التُّضْحِیَّۃُ، فَمِنْھَا: نِیَّۃُ الأُضْحِیَّۃِ لَاتُجْزِی الأُضْحِیَّۃُ بِدُوْنِھَا، لِأَنَّ الذَّبْحَ قَدْ یَکُوْنُ لِلَّحْمِ، وَ قَدْ یَکُوْنُ لِلْقُرْبَۃِ وَالْفِعْلُ لَا یَقَعُ قُرْبَۃً بِدُوْنِ النِّیَّۃِ".
    
  قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ سَلَّمَ: "لَا عَمَلَ لِمَنْ لَا نِیَّۃَ لَهُ" وَالْمُرَادُ مِنْهُ عَمَلٌ ھُوَ قُرْبَۃٌ، وَ لِلْقُرْبَۃِ جِھَاتٌ مِّنَ الْمُتْعَۃِ، وَالْقِرَانِ وَالْاِحْصَارِ وَ جَزَاءِ الصَّیْدِ وَ کَفَّارَۃِالْحَلْقِ وَ غَیْرِہٖ مِنَ الْمَحْظُوْرَاتِ، فَلَا تَتَعَیَّنُ الْأُضْحِیَّۃُ اِلَّا بِالنِّیَّۃِ"

      " وَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ سَلَّمَ: " اِنَّمَا الَأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ، وَ اِنَّمَا لِکُلِّ امْرَیءٍ مَّا نَویٰ" وَ یَکْفِیْهِ أَنْ یَّنْوِیَ بِقَلْبِهٖ، وَلاَ یُشْتَرَطُ أَنْ یَّقُوْلَ بِلِسَانِهٖ مَا نَویٰ بِقَلْبِهٖ کَمَا فِیْ الصَّلَاۃِ، لِأَنَّ النِّیَّۃَ عَمَلُ الْقَلْبِ، وَالذِّکْرُ بِاللِّسَانِ دَلِیْلٌ عَلَیْھَا."* ( کتاب التضحیۃ، فصل فی شروط جواز اقامۃ الواجب، ج: ٦، ص: ٣٠٥)

:کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه


محمد ظہیر حسین قادری مصباحی، 

متعلم: جامعہ علی حسن اہل سنت اترولہ بلرام پور یوپی 


✅ تـــصـــدیـــق:  الجواب صحیح والمجیب نجیح 


حضرت علامہ مفتی محمد محبوب عالم اشرفی جامعی

صدر شعبہ افتاء: جامعہ علی حسن اہل سنت اترولہ بلرام پور یوپی

==========================================

قربانی کا گوشت تقسیم نہ کرنا کیسا ہے دلائل و شواہد کی روشنی میں مکمل جواب کو پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.