بجلی چوری کرنا کیسا ہے؟


بجلی چوری کرنا یا خفیہ طور پر بجلی کسی اور کو دینا کیسا ہے

چوری سے بجلی لینا اور دینا ، جلانا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

چوری سے بجلی چلانا یا کسی کو چوری کی بجلی چلوانا شرعاً ناجائز و گناہ ہے کہ چوری گناہِ کبیرہ ہے اور چور کے لئے شریعت میں سخت وعیدیں ہیں۔ اس میں چوری کے ساتھ ساتھ قانوناً جرم بھی ہے۔ اور اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرنا ہے جس کو حدیث پاک میں منع کیا گیا ہے۔

چوری کے متعلق قرآن پاک  میں ہے:”وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌترجمۂ کنز الایمان:”اور جو مرد یا عورت چور ہو تو ان کا ہاتھ کاٹو ان کے کیے کا بدلہ اللہ کی طرف سے سزا اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔“ (القرآن الکریم، المآئدة، آیت نمبر:38)

*حدیث شریف میں ہے:لا يسرق السارق حين يسرق و هو مؤمن“ یعنی چور چوری کرتے وقت مؤمن نہیں رہتا۔ (الصحیح المسلم، کتاب الایمان، باب بیان نقصان الایمان بالمعاصی۔۔۔ الخ، جلد:1، صفحہ:55، مجلس البرکات الھند)

دوسری حدیث پاک میں ہے:”فإذا فعل ذالك خلع ربقة الإسلام من عنقه، فإن تاب تاب الله عليه“ یعنی اگر اس نے ایسا کیا (یعنی چوری کی) تو بے شک اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے اُتار دیا پھر اگر اس نے تو بہ کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی تو بہ قبول فرما لے گا۔ (سنن النسائی، کتاب قطع السارق، تعظیم السرقة، حديث:4874، صفحة:699، دار ابن حزم)

چوری کرنا دوسرے کے مال کو باطل کے طور کھانا ہے جس کی ممانعت قرآن پاک  میں ہے:”وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ“ ترجمۂ کنز الایمان: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔ (القرآن الکریم، البقرة، آيت:188)

اس آیت کے تحت احکام القرآن للجصاص میں ہے:”أكل المال بالباطل على وجهين:أحدهما أخذه على وجه الظلم والسرقة والخيانة والغصب وجری مجراہ۔۔۔ وقد انتظمت الآية خطر أكلها من هذه الوجوه كلها“ یعنی مال کو باطل کے طور پر کھانے کے دو طریقے ہیں:پہلا: مال کو ظلم، چوری،خیانت اور غصب اور اس جیسے طریقے سے کسی کے مال کو لینا، یہ آیت ان تمام طریقوں سے کھانے کی ممانعت کو شامل ہے۔ (احکام القرآن للجصاص، جلد:1، صفحہ:304 ملتقطاً، دار الکتب العلمیہ بیروت)

چوری کہتے ہیں دوسرے کا مال چھپا کر ناحق لے لیا جائے، چنانچہ چوری کی لغوی تعریف کرتے ہوئے علامہ برہان الدین ابی الحسن علی بن ابی بکر الفرغانی المرغینانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”أخذ الشىء من الغير على سبيل الخفية“ یعنی خفیہ طریقے سے کسی اور کی چیز اٹھا لینا۔ (الہدایہ، کتاب السرقۃ، جلد:1، صفحہ:517)

اور شرعی تعریف کرتے ہوئے محقق علی الاطلاق امام کمال الدین محمد بن عبد الواحد السیراسی المعروف ابن ہُمام حَنَفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”هي أخذ العاقل البالغ عشرة دراهم أو مقدارها خفية عمن هو متصد للحفظ مما لا يتسارع إليه الفساد من المال المتمول للغير من حرز بلا شبهة“ یعنی عاقل بالغ شخص کا کسی ایسی محفوظ جگہ سے کہ جس کی حفاظت کا انتظام کیا گیا ہو دس درہم یا اتنی مالیت (یا اس سے زیادہ) کی کوئی ایسی چیز جو جلدی خراب ہونے والی نہ ہو چھپ کر کسی شبہ و تاویل کے بغیر اٹھا لینا۔ (فتح القدیر، کتاب السرقة، جلد:5، صفحہ:339، مرکز اھل السنۃ برکات رضا)

ایسے کام کو کرنا جو قانوناً، ناجائز ہو اور جرم کی حد تک پہنچ جائے تو وہ شرعاً بھی ناجائز ہے، چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”کسی ایسے امر کا ارتکاب جو قانوناً،ناجائز ہو اور جرم کی حد تک پہنچے شرعاً بھی ناجائز ہوگا کہ ایسی بات کے لئے جر م قانونی کا مرتکب ہوکر اپنے آپ کو سزا اور ذلت کے لئے پیش کرنا شرعاً بھی روا نہیں و قد جاء الحدیث عنہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ینھی المومن ان یذل نفسہ۔(تحقیق نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے حدیث آئی ہے کہ آپ نے مومن کو اپنے آپ کو ذلت میں ڈالنے سے منع فرمایا۔ملخصا“ (فتاوی رضویہ، جلد::20، صفحہ:192، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی).

والله تعالیٰ اعلم باالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

-------------------------------------------ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مزید پڑھیں 👇🏻 

قبر کی زیارت کرنا کیسا ہے اور اس کو پکا بنانا کیسا ہے اس مسئلہ کو جاننے کے لیے 





Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.