आशना Aashna का क्या मतलब है क्या ये मुस्लिम नाम है? क्या आशना नाम रख सकते हैं?
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَاب
-------------------------------------------------------
”آشنا“ فارسی زبان کا لفظ ہے، اور اسم ہے، مذکر و مؤنث دونوں میں مستعمل ہے۔ اس کے معنی ہیں:واقف کار، شناسا، جان پہچان والا، باخبر، دوست۔ معانی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا جائز ہے، لیکن یہ لفظ نام کے طور پر مسلمانوں میں مستعمل بھی نہیں ہے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ آشنا نام نہ رکھا جائے،بلکہ ایسا نام رکھنا چاہیے جو معنی کے اعتبار سے اچھا اور مسلمانوں میں معروف ہو، کیونکہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے لہذا بہتر یہی ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ سلم کی ازواج مطہرات ،بیٹیوں، نانیوں، دادیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ امید ہے کہ اس کی وجہ سے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی شامل حال ہو گی اور علمائے کرام بھی ایسے نام رکھنے سے منع فرماتے ہیں جو قرآن و حدیث میں موجود نہ ہوں اور نہ ہی مسلمانوں میں مُستعمل ہو۔
حدیث پاک کی مشہور کتاب جامع صغیر میں *حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا* سے مروی ایک حدیث ہے:” حق الولد على والده أن يحسن اسمه ويحسن موضعه ويحسن أدبه“ یعنی اولاد کا باپ پر یہ حق ہے کہ باپ ان کا اچھا نام رکھے ،انہیں اچھی جگہ رکھے اور اچھا ادب سکھائے۔ (1)
اسی طرح کی ایک حدیث کی شرح کرتے ہوئے *علامہ عبد الرؤوف مناوی علیہ الرحمۃ* لکھتے ہیں:’’فلا يسميه باسم مستكره كحرب ومرةوحزن قال صاحب القاموس في سفر السعادة : أمر الأمة بتحسين الأسماء “
یعنی:والد اپنے بچے کا برا نام نہ رکھے،جیسے حرب ،مرہ اور حزن اور صاحب قاموس نے سفرالسعادۃ میں فرمایا: کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو اچھے نام رکھنے کا حکم دیا۔ (2)
*الفردوس بماثور الخطاب میں ہے: ”تسموا بخياركم “ ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو ۔(3)
*فرہنگِ آصفیہ* میں آشنا کا معنی لکھا ہے:”مقابل بیگانہ،، دوست، محب،، یار، ستر، ہتو، میت، ملاپی،مونس، ہمدم،، ساتھی، لنگوٹیا یار،جگری دوست، مرد عورت دونوں کے واسطے آتا ہے۔“ (4)
*فیروز اللغات* میں ہے:”[ف-صف-مذکر و مؤنث] (¹)واقف کار، شناسا، جان پہچان والا، ملاقاتی(²) غیر مرد یا عورت جو ایک دوسرے سے ناجائز تعلق رکھے۔“ (5)
*فتاویٰ عالمگیری* میں ہے :” وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره اللہ تعالى في عباده ولا ذكره رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط‘‘یعنی فتاویٰ میں ہےکہ ایسا نام رکھنا جس کا ذکر اللہ پاک نے اپنے بندوں میں نہ کیاہو ،اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکرکیا ہواور مسلمانوں میں مستعمل بھی نہ ہو،تو علماء نے ایسا نام رکھنےکےمتعلق کلام کیا ہےاور بہتر یہ ہےکہ ایسا نام نہ رکھا جائے۔اسی طرح محیط البرھانی میں موجود ہے۔ (6)
==========================
*(1)* `جامع صغیر مع التیسیر`، جلد:1، صفحہ:350، بیروت.
*(2)* `فیض القدیر شرح الجامع الصغیر`، جلد:3،صفحہ:394،مطبوعہ مصر.
*(3)* `الفردوس بماثور الخطاب`، جلد:2، صفحہ:58، حدیث:2328، دار الكتب العلمية ، بيروت.
*(4)* `فرہنگ آصفیہ` ،جلد:1، صفحہ:175،مطبوعہ اردو سائنس بورڈ، لاہور.
*(5)* `فیروز اللغات`، صفحہ:20 مطبوعہ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی.
*(6)* `فتاویٰ ھندیہ`،جلد:05،صفحہ:365،مطبوعہ پشاور.
*والله تعالیٰ اعلم بالصواب*
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
======================================
حضور ﷺ کے لیے خزانچی کا لفظ استعمال کرنا کیسا ہے؟
https://sadaeqalb1.blogspot.com/2025/09/blog-post.html

