بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعثِ مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

حضور ﷺ کے لیے خزانچی کا لفظ استعمال کرنا کیسا ہے




کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ زید  نے اپنے بیان میں ایک حدیث پاکوالله يعطي انما انا قاسم" کے تعلق سے یہ کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ دیتا ہے میں ہی بانٹنے والا ہوں اور دوسری روایت انما انا خازن  میں اللہ دیتا ہے میں ہی خزانچی ہوں یعنی اللہ کی تمام نعمتوں کے مالک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس پر بکر نے کہا کہ لفظ خزانچی بہت بڑی گستاخی ہے کہ جس کے سبب زید پر توبہ اور رجوع لازم ہے زید نے اس پر رجوع کر لیا کر لیا اور آئندہ محتاط رہنے کا بھی ارادہ کر لیا
*عرض یہ ہے کہ کیا واقعی یہ لفظ گستاخی کے زمرے میں  آتا ہے یا نہیں رہنمائی فرما کر عند اللہ مجور ہوں*
----------------------------------------------------------

*بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`


*صورتِ مسؤولہ میں بکر کا یہ کہنا کہ”لفظِ خزانچی بہت بڑی گستاخی ہے کہ جس کے سبب زید پر توبہ اور رجوع لازم ہے“ بیجا اور غلط ہے۔ حضور ﷺ کے لیے لفظِ ”خزانچی“ استعمال کرنا شرعاً درست و جائز ہے، کوئی قباحت نہیں کیونکہ خزانچی فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں: خزانہ رکھنے والا، تحویل دار، خزانے کا نگران، گنجیفہ دار وغیرہ۔ اس کا کوئی معنی گستاخی والا یا عرفا معیوب نہیں لیکن اگر اس علاقہ میں یہ لفظ معیوب سمجھا جاتا ہے تب یہ لفظ گستاخی کے زمرے میں آئے گا کہ تعظیم و توہین میں عرف کا اعتبار ہوتا ہے۔لہذا بکر کو چاہیے کہ غلط مسئلہ بتانے کے سبب توبہ کرے۔*


اردو زبان کی مشہور لغت *فیروز اللغات* میں ہے:خزانچی:خزانہ رکھنے والا، تحویل دار، خزانے کا نگران۔ (1)

*فرہنگِ آصفیہ* میں ہے:خزانچی:خازن، گنجیفہ دار، تحویل دار، فوطہ دار، روکڑیا،خزینہ دار۔ (2

*رابعہ اردو لغت* میں ہے:خزانچی:گنجیفہ دار، روکڑیا، تحویل دار، فوطہ دار۔ (3)

*اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ* تحریر فرماتے ہیں: ”قاعدہ مسلمہ مرعیہ عقلیہ شرعیہ سے معلوم کہ توہین و تعظیم کا مدار عرف و عادت ناس و بلاد پر ہے۔“ (4)

غلط مسئلہ بتانے کے متعلق *اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ* فرماتے ہیں:”جھوٹا مسئلہ بیان کرناسخت شدیدہ کبیرہ ہے اگرقصدًا ہے تو شریعت پرافتراء ہے اور شریعت پر افتراء اﷲ عزوجل پرافتراہے،اور اﷲ عزوجل فرماتاہے:" اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفْتَرُوۡنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ لَایُفْلِحُوۡنَ ﴿ؕ۶۹﴾ "
 ترجمہ:وہ جو اﷲ پر جھوٹ  افتراء کرتے ہیں فلاح نہ پائیں گے۔

اور اگر بے علمی سے ہے تو جاہل پرسخت حرام ہے کہ فتوٰی دے۔حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:”من افتی بغیر علم لعنتہ ملٰئکۃ السماء والارض“ یعنی جو بغیرعلم کے فتوٰی دے اس پرآسمان وزمین کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔ ہاں اگر عالم سے اتفاقًا سہو واقع ہو اور اس نے اپنی طرف سے بے احتیاطی نہ کی اور غلط جواب صادر ہوا تومواخذہ نہیں مگر فرض ہے کہ مطلع ہوتے ہی فورًا اپنی خطاظاہر کرے،اس پر اصرار کرے تو پہلی شق یعنی افترا میں آجائے گا۔“ (5)

=============================

*(1)* `فیروز اللغات`، صفحہ:590، مطبوعہ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی.
*(2)* `فرہنگِ آصفیہ`، جلد:2،صفحہ:189، مطبوعہ اردو سائنس بورڈ، لاہور.
*(3)* `رابعہ اردو لغت`، صفحہ:509۔ مطبوعہ اسلامک بُک سروس، دہلی.
*(4)* `فتاویٰ رضویہ`، جلد:7، صفحہ:315.
*(5)* `فتاویٰ رضویہ`، جلد:23، صفحہ:713، رضا فاؤنڈیشن (دعوت اسلامی)

*والله تعالیٰ اعلم بالصواب*
======================================



0 Response to "حضور ﷺ کے لیے خزانچی کا لفظ استعمال کرنا کیسا ہے"

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->