مطالعہ کیسے کیا جائے


مطالعہ کیسے کیا جائے how to self study

مُطالعہ📚✏ کیسے کیا جائے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆


ہر کام کا ایک طریقہ اور اسلوب ہوتا ہے جس کے تحت وہ عمل کار آمد  اور بخوبی تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح مطالعہ کو اس کے اصول و ضوابط کے ساتھ کیا جائے تو اس میں کامیابی ملتی ہے اور دیر تک ذہن میں مستحضر رہتا ہے۔ لہذا مُطالعہ کے چند اصول، اس سے قبل مطالعہ کے فوائد ذکر کئے جاتے ہیں:

*`مُطالعہ📚✏ کے فوائد`*:وسیع اور دقیق مطالعہ کے بغیر انسان کا ذہن، ادراک کی اس سطح تک رسائی نہیں پا سکتا جہاں سے وہ مفید و مُضر  اور اعلیٰ و ادنیٰ کے درمیان فرق جان سکے۔

★ مطالعہ کی برکت سے انسانی عقل و شعور میں اضافہ ہوتا ہے جس سے  قوتِ فیصلہ مضبوط اور گفتار جامع ہو جاتی ہے، قلبی و ذہنی پاکیزگی اور آسودگی نصیب ہوتی ہے، مطالعہ کی عادت انسان کو بے جا فکروں سے نجات دیتی ہے، دماغی تراوٹ اور ذہنی سکون رہتا ہے، اس کے سبب انسان کی تحریری صلاحیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے نیز انسان کی گفتگو میں شائستگی اور تہذیب کا رنگ جھلکتا ہے۔

★ مطالعہ انسان کو فصاحت و بلاغت عطا کرتا ہے، جس کے سبب زبان کی لغزشیں کم جبکہ بصیرت بلند ہو جاتی ہے، مطالعہ کا شوق ایسا خوبصورت نشہ ہے جو دن بدن بڑھتا ہے جس سے علم میں اضافہ اور دنیا کے نت نئے اُمور سے آگاہی ہوتی رہتی ہے، دلچسپ نکات اور حیرت انگیز معلومات دل و دماغ کو تازگی فراہم کرتے ہیں۔

★ مطالعہ ذہن کو کھولتا ہے، نتائج سے باخبر کرتا ہے ، دانائی کی باتوں پر مطلع ہونے میں مدد دیتا ہے، غور و فکر کی صلاحیت بڑھاتا ہے، علم کو پختہ کرتا ہے اور شبہات ختم کرتا ہے، خیالات مکدر ہونے سے بچاتا ہے، مطالعہ تنہا شخص کا ہم نشین، افسانہ نگار کا زورِقلم، غور و فکر کرنے والے کے لئے دلچسپی کا سامان اور مسافر کے لئے بہترین ہم سفر ہے اور اس کے برعکس ترکِ مطالعہ اور کتب بینی سے دوری سلاستِ لسانی میں کمی، عقل میں فتور اور علم میں کمزوری کا باعث بنتی ہے ، یوں سمجھیں ذہن کو زنگ لگ جاتا ہے۔ (علم کے پیارے، ص:11-12)

*`مُطالعہ کرنے کا طریقہ:`*
٭اولاً مُطالعہ کرنے سے قبل مقصد ہونا چاہیے کہ میں مُطالعہ کیوں کر رہا ہوں، جتنے صفحات کا ٹارگیٹ ہو اتنا ہی پڑھیں کم یا زیادہ نہ پڑھیں ورنہ مقصد فوت ہو جائے گا۔
٭پہلے ہی فراغت حاصل کر لیں تاکہ ڈسٹرب نہ ہو۔
٭روشنی کا وافر انتظام ہو ورنہ آنکھوں پر اثر پڑے گا۔
٭ذہن پُر سکون ہو، قبلہ رو اور با وضو ہو کر بیٹھیں۔
٭کتاب شروع کرنے سے قبل یہ پڑھیں:اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِالْمُرْسَلِیْنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذَوْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط پھر یہ دُعا پڑھیں: اَللّٰھُمَّ افْتَحْ عَلَیْنَا حِکْمَتَکَ وَانْشُرْ عَلَیْنَا رَحْمَتَکَ یَا ذَالْجَلاَلِ وَالْاِکْرَام۔
 ٭پر سکون جگہ ہو شور و غل نہ ہو۔
٭طبیعت ترو تازہ ہو۔
٭درست انداز پر ہو یعنی چلتے چلتے یا لیٹ کر نہ پڑھیں، بلکہ ہر اس عمل سے اجتناب کریں جس سے ذہن منتشر ہو۔
٭ایک وقت میں ایک ہی موضوع ہو، جب اکتاہٹ ہو تو تھوڑی دیر دلچسپ فن پڑھ لیں۔
٭قلم ڈائری پاس رکھیں تاکہ مین مین پوائنٹ محفوظ کر سکیں۔
٭خاص مواقع پر انڈر لائن یا ہائی لائٹ کر لیں۔
 ٭اثنائے مُطالعہ مائنڈ فریش کرنے کے لیے وقفہ کرتے رہیں۔
٭ثقیل الفاظ اور مُشکل مسائل پر نشان لگا لیں تاکہ بعد میں کسی مُستند سُنی صحیح العقیدہ عالمِ دین سے پوچھ لیں۔
٭ثواب کی نیت سے دوسروں کو بتائے تاکہ وہ بات زبان زد ہو جائے اور ثواب بھی ملے۔
٭خلاصہ تحریر کریں اور غور و خوض کریں کہ میں نے کیا کیا پڑھا۔
٭یاد کئے کو بار بار دہرائیں تاکہ محفوظ چیز مضبوط ہو جائے۔ 
حافظ ابو اسحاق شیرازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک سبق کو سو(100) بار دہراتے تھے، اور جناب الکیاہراسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ستر(70) بار دہراتے تھے۔ (الحث علی العلم لابن الجوزی، صفحہ:26)۔

٭مُطالعہ ہمیشہ ہو اور استقامت وتسلسل کے ساتھ محنت کی جائے، کیونکہ جب تک تسلسل نہ ہو ، تب تک کامیابی نہیں ہوگی، لہذا ہمیشگی اپنانی چاہئے، اگرچہ تھوڑا عمل ہو، حدیث مبارک میں خوبصورت اصول بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:”ان احب الاعمال الی اللہ مادام وان قل“ ترجمہ:اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے، جو ہمیشگی کے ساتھ ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔ (صحیح بخاری ج:4، ص:67، حدیث:5861)

٭جو پڑھیں اسے یاد کر لیں کیونکہ عِلم وہی ہے جو زبانی یاد ہو۔ امام عبد الرزاق بن ہُمام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کہا:ہر وہ عِلم جو اپنے مالک کے ساتھ حمام میں نہ جائے (یعنی زبانی یاد نہ ہو)، اسے عِلم نہ سمجھو۔ (الحث علی العلم، ص:18)۔
٭بستر پر نہ پڑھیں کہ نیند آئے گی۔
٭یادداشت کو تحریری صورت دیجئے یعنی دورانِ مُطالعہ بارہا ایسی باتیں آتی ہیں جو ہمارے لیے بالکل نئی ہوتی ہیں اور ہم اُنہیں اپنی یادداشت کا حصہ بنانا چاہتے ہیں، اس کے لیے ایک الگ رجسٹر بنانا اور مُختصر الفاظ لکھ کر صفحہ نمبر کے ساتھ اس بات کو محفوظ کر لینا بھی فائدہ مند ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:”قَيِّدُوا الْعِلْمَ بِالْكِتَابَة“ یعنی علم کو لکھ کر قید کر لو۔ (نوادر الاصول، 1/265)۔٭یاد نہ رہتا ہو تو ہار نہ مانیں پیہم مُطالعہ کرتے رہیں۔

بعض طلباء ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ”ہم پڑھتے ہیں لیکن یاد نہیں رہتا“

تو یاد رکھیں! مُطالعہ سے لغت میں اضافہ ہوتا ہے، کتابوں اور عُلماء کے نام معلوم ہوتے ہیں، واقعات سے واقفیت ملتی ہے، قرآنی آیات احادیث طیبہ اور فقہی مسائل یاد ہو جاتے ہیں۔ اب اتنی ساری معلومات ایک بار ہی میں حاصل ہو جائے مُشکل ہے، اگر میں ایک کھجور🌴 کھاؤں اور سوچوں کہ فوراً ذہین اور طاقتور ہو جاؤں یہ نہیں ہو سکتا، ہاں اگر ایک مہینے لگاتار کھاؤں تو یقیناً ذہانت اور قوت و طاقت میں اضافہ ہوگا، لہذا بلا جھجھک مُطالعہ کرتے رہیں۔

٭فرائض و واجِبات کے علاوہ قرآن پاک کی تلاوت، درود شریف کی کثرت، تہجد کی پابندی، خاموشی کی عادت، سنتوں پر دوام، وقت کا صحیح استعمال کریں۔
٭گناہوں سے کنارہ کشی کریں کیونکہ علم نور ہے اور نور پاک دل میں آتا ہے۔
٭شُکر ادا کیجئے:قوتِ حافظہ اللہ عزوجل کی ایک نعمت ہے اور اس نعمت کو جائز کاموں میں استعمال کرنا ہی اس نعمت کا عملاً شُکر ادا کرنا ہے، اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:”لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ“ یعنی اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گا۔ (القرآن الکریم، سورۃ الابرٰھیم، آیت:7)

★پڑھنے کا بہترین وقت⏰:
سحر کے وقت، صبح کے وقت اور آدھی رات کے وقت علم یاد کرنے کو پسند کیا گیا ہے کیونکہ ان اوقات میں دل یکسو ہوتا ہے۔ (الحث علی العلم، ص:27)۔
مغرب اور عشاء کے درمیان کا وقت بھی بہترین ہے۔ (تعلیم المتعلم طریق المعلم مُترجَم، ص:73

★کتنی آواز سے پڑھیں؟
اس میں ہر شخص کا مزاج الگ الگ ہوتا ہے، کسی کو بلند آواز سے یاد ہوتا ہے اور کسی کو دھیمی آواز سے یاد ہوتا ہے، مُناسب یہ ہے کہ اتنی آواز سے پڑھیں کہ اپنے کان سن لیں۔
انشاءاللہ اگر اِس طَرز پر عمل کریں گے تو بہت آسانی اور فائدہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اِس کاوِش کو قبول فرمائے اور قارئین کو نفع بخش بنائے آمین ثم آمین۔

*`طالبِ دعا`*:*محمد اُویس عطاری* عُفِی عنہ

◆ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۩۞۩ــــــــــــــــــــــــــــــــــ◆


  کسی بھی کام کا اصل مقصد اور اس کی جزا لہذا  کام میں مخلص ہونا چاہیے ریا کار نہیں


https://sadaeqalb1.blogspot.com/2025/06/blog-post_17.html

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.