السلام علیکم حضرت کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ کے بارے میں مثلا زید نے کسی مسجد میں نماز پڑھ لی پھر زید نے اپنے محلہ کی مسجد میں امام کے نا ہونے کے سبب نماز پڑھا دی تو زید کی اور مقتدین کی نماز کا کیا حکم ہے؟ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی.
سائل: معین رضا مرکزی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
-----------------------------------------------------------------------------
صورتِ مسؤولہ میں زید کی (نفل) نماز تو ہو گئی لیکن مقتدیوں کی نماز نہ ہوئی
تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ جب کسی شخص نے ایک مرتبہ کوئی نماز پڑھ لی، تو اس کے ذمہ سے اس نماز کا فرض ادا ہو گیا، اب اگر اسی نماز کو پڑھائے گا،تو یہ نفل پڑھنے والا ہوگا اور مقتدی فرض پڑھنے والے ہوں گے اور نفل والے کے پیچھے فرض پڑھنے والوں کی نماز نہیں ہوتی۔
لہذا زید نے چونکہ اپنی فرض نماز پڑھ لی اب اس نے جو نماز پڑھائی تو زید کی اگر چہ نفل نماز ہو گئی لیکن مقتدی حضرات فرض نماز پڑھنے والے تھے لہذا مقتدیوں کی نماز نہیں ہوئی۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”ولا اقتداء المفترض بالمتنفل“
یعنی فرض نماز نفل پڑھنے والے کے پیچھے نہیں ہو سکتی۔ (1)
در مختار میں ہے:”(و) لا(مفترض بمتنفل) “ یعنی اور نہ فرض نماز پڑھنے والا نفل پڑھنے والے کی اقتداء کر سکتا ہے۔ (2)
----------------------------------------------------------------------------------------
(1) `الفتاوی الھندية`، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامه، الفصل الثالث، جلد:1، صفحہ:95، دار الکتب العلمیہ، بیروت.
(2)`در مختار مع رد المحتار`، کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، مطلب:الواجب الکفایہ ھل یسقط بفعل الصبی وحدہ؟ جلد:2، صفحہ:324، دار عالم الکتب، ریاض.
والله تعالیٰ اعلم بالصواب

