اگر قربانی کا گوشت کسی کو نہ دیں تو کوئی گناہ ہے کیا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
ـــــــ--------------------------------------------
کوئی گناہ نہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کئے جائیں ایک حصّہ فُقَراء کے لیے اور ایک حصّہ دوست و اَحباب کے لیے اور ایک حصّہ اپنے گھر والوں کے لیے۔ اگر سارا گوشْتْ خود ہی رکھ لیا تب بھی کوئی گناہ نہیں۔ لیکن قربانی اگر منت کی ہے تو اس کا گوشت نہ خود کھا سکتا ہے نہ اغنیاء کو کھلا سکتا ہے بلکہ اس کو صدقہ کر دینا واجب ہے،منت ماننے والا فقیر ہو یا غنی دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔
*فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”والأفضل أن يتصدق بالثلث و يتخذ الثلث ضيافة لاقاربه و أصدقائه و يدخر الثلث ويطعم الغني والفقير جميعاً كذا في البدائع“
ترجمہ:بہتر یہ ہے کہ گوشْتْ کے تین حصّے کرے ایک حصّہ فُقَراء کے لیے اور ایک حصّہ دوست و اَحباب کے لیے اور ایک حصّہ اپنے گھر والوں کے لیے اور غنی فقیر سب کھا سکتے ہیں جیسا کہ بدائع میں ہے۔ (1)
اگر سارا گوشت خود ہی رکھ لیا تب بھی کوئی گناہ نہیں، چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ*
فرماتے ہیں:” تین حصے کرناصرف استحبابی امرہے کچھ ضروری نہیں چاہے سب اپنے صَرْف (یعنی استعمال) میں کرلے یا سب عزیزوں قریبوں کو دے دے،یا سب مساکین کو بانٹ دیں۔“ (2)
منت کی قربانی کا گوشت نہ خود کھا سکتا ہے نہ نہ اغنیاء کو کھلا سکتا ہے، چنانچہ امام فخر الدین عثمان بن علی زیلعی حَنَفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”و إن وجبت بالنذر فليس لصاحبها أن يأكل منها شيئا ولا أن يطعم غيره من الأغنياء سواء كان الناذر غنياً أو فقيراً“
ترجمہ:اور اگر (قربانی کی) نذر واجب ہو تو اس کے مالک کو اس میں سے کچھ کھانے کی اجازت نہیں اور نہ کسی دوسرے غنی کو کھلانے کی اجازت ہے خواہ نذر ماننے والا غنی ہو یا فقیر۔ (3)
============================
(1) `الفتاوٰی الھندیہ`، کتاب الاضحیہ، باب بیان ما یستحب فی الاضحیہ،جلد:5، صفحہ:371، دار الکتب العلمیہ، بیروت.
(2) `فتاویٰ رضویہ`، جلد:20، صفحہ:253،رضا فاؤنڈیشن (دعوت اسلامی).
(3) `تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق`، کتاب الاضحیہ، صفحہ:486، مرکز اھل السنة بركات رضا.
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
======================================
https://sadaeqalb1.blogspot.com/2025/09/Walidkewafatkebaadyatim.html

