کیا والد کے وفات کے بعد بچہ یتیم ہوتا ہے؟ محمد اویس العطاری المصباحی




والدہ با حیات ہو والد کا انتقال ہو گیا ہو تو کیا بچہ یتیم ہوگا؟ محمد اویس العطاری المصباحی


جس کے باپ کا انتقال ہو جائے اور اس کی ماں زندہ ہو تو کیا وہ یتیم ہو گیا



بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


یتیم اس نابالغ بچہ یا بچی کو کہتے ہیں جس کا والد فوت ہو جائے۔ اب اگر بچہ نابالغ ہے تو وہ یتیم ہے ورنہ نہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ بالغ ہونے کے بعد بچہ یتیم نہیں رہتا

در مختار میں یتیم کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے:”وہ نابالغ بچہ یا بچی جس کا والد وفات پا جائے، اُسے یتیم کہتے ہیں۔“ (1)

التعریفات میں ہے:”الیتیم: ھو المنفرد عن الأب، لأن نفقته عليه لا على الأم“ (2)

بالغ ہونے کے بعد بچہ یتیم نہیں رہتا، جیسا کہ مُفَسِّرِ شَہِیر ، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:”بالغ ہو کر بچہ یتیم نہیں رہتا۔ انسان کا وہ بچہ یتیم ہے جس کا باپ فوت ہو گیا ہو ، جانور کا وہ بچہ یتیم ہےجس کی ماں مر جائے ، موتی وہ یتیم ہے جو سیپ میں اکیلا ہو اُسے دُرِّ یتیم کہتے ہیں بڑا قیمتی ہوتا ہے۔“ (3)


(1) `در مختار`، کتاب الوصایا، باب الوصیۃ للاقارب وغیرہم، جلد:10، صفحہ:416.
(2) `التعریفات للجرجانی`، صفحہ:331.
(3) `نورُالعرفان` ، پارہ:4 ، النسآء ، تحت الآیۃ :2.

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
والله تعالیٰ اعلم بالصواب 
============================================================================

مزید پڑھیں 👇🏻 



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.