کیا والد کے وفات کے بعد بچہ یتیم ہوتا ہے؟ محمد اویس العطاری المصباحی
Sunday, 14 September 2025
Add Comment
جس کے باپ کا انتقال ہو جائے اور اس کی ماں زندہ ہو تو کیا وہ یتیم ہو گیا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یتیم اس نابالغ بچہ یا بچی کو کہتے ہیں جس کا والد فوت ہو جائے۔ اب اگر بچہ نابالغ ہے تو وہ یتیم ہے ورنہ نہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ بالغ ہونے کے بعد بچہ یتیم نہیں رہتادر مختار میں یتیم کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے:”وہ نابالغ بچہ یا بچی جس کا والد وفات پا جائے، اُسے یتیم کہتے ہیں۔“ (1)
التعریفات میں ہے:”الیتیم: ھو المنفرد عن الأب، لأن نفقته عليه لا على الأم“ (2)
بالغ ہونے کے بعد بچہ یتیم نہیں رہتا، جیسا کہ مُفَسِّرِ شَہِیر ، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:”بالغ ہو کر بچہ یتیم نہیں رہتا۔ انسان کا وہ بچہ یتیم ہے جس کا باپ فوت ہو گیا ہو ، جانور کا وہ بچہ یتیم ہےجس کی ماں مر جائے ، موتی وہ یتیم ہے جو سیپ میں اکیلا ہو اُسے دُرِّ یتیم کہتے ہیں بڑا قیمتی ہوتا ہے۔“ (3)
(1) `در مختار`، کتاب الوصایا، باب الوصیۃ للاقارب وغیرہم، جلد:10، صفحہ:416.
(2) `التعریفات للجرجانی`، صفحہ:331.
(3) `نورُالعرفان` ، پارہ:4 ، النسآء ، تحت الآیۃ :2.
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحیوالله تعالیٰ اعلم بالصواب ============================================================================
مزید پڑھیں 👇🏻
Link will be apear in 60 seconds.
Well done! you have successfully gained access to Decrypted Link.
%20(1)%20(1).png)
0 Response to "کیا والد کے وفات کے بعد بچہ یتیم ہوتا ہے؟ محمد اویس العطاری المصباحی "
Post a Comment