حضرت میِّت کے گھر کا کھانا کیسا ہے سنتے ہیں کہ یہ بچوں کو کھلایا جائے نیز کیا میت کاکے گھر کھانا کھانے سے دل کالا ہوتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
حکمِ شرع یہ ہے کہ میت کا وہ کھانا جو بطورِ دعوت کھلایا جاتا ہے یہ تو بدعت و ممنوع ہے کیونکہ دعوت خوشی کے موقع پر ہوتی نہ کہ غم کے موقع پر، اس کے علاوہ جمعرات، چالیسواں، ششماہی یا سالانہ کا کھانا فقراء کو کھلانا بہتر ہے اور اغنیاء کو نہ کھانا چاہیے۔ اور جو کھانا اولیاء اللہ کو نذر کیا جاتا ہے یہ تبرک ہوتا ہے اس کو غنی و فقیر سب کھا سکتے ہیں۔
رہا دل کا کالا ہونا تو وہ اس لیے ہوتا ہے کہ کوئی یہ تمنَّا کرے کہ کوئی مر جائے تو مجھے کھانا کھانے کو ملے گا، اور یہ حقیقت ہے۔
دعوتِ میِّت کی مُمانَعت بَیان کرتے ہوے مُحققِ علی الاطلاق امام ابنِ ہُمام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ* فرماتے ہیں:”یکرہ اتخاذ الضیافۃ من الطعام من اھل المیّت لا نہ شرع فی السرور لافی الشرور وھی بدعۃ مستقبحۃ“ ترجمہ: اہل میّت کی طرف سے کھانے کی ضیافت تیار کرنی منع ہے کہ شرع نے ضیافت خوشی میں رکھی ہے نہ کہ غمی میں۔ اوریہ بدعت شنیعہ ہے۔ (1)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:”طُعام تین قسم ہے : ایك وہ کہ عوام ایامِ موت میں بطور دعوت کرتے ہیں یہ ناجائز وممنوع ہے۔ ”لان الدعوۃ انما شرعت فی السرور لا فی الشرور کمافی فتح القدیر وغیرہ من کتب الصدور۔“ اس لیے کہ دعوت کو شریعت نے خوشی میں رکھا ہے غمی میں نہیں ، جیسا کہ فتح القدیر وغیرہ کتبِ اکابر میں ہے۔ اغنیاء کو اس کاکھانا جائز نہیں۔
دوسرے وہ طعام کہ اپنے اموات کو ایصال ثواب کے لیے بہ نیت تصدق کیا جاتا ہے فقراء اس کے لیے احق ہیں ، اغنیاء کو نہ چاہئے۔
تیسرے وہ طُعام کہ نذور ارواح طیبہ حضرات انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء کیاجاتا ہے اور فقراء واغنیاء سب کو بطور تبرك دیا جاتا ہے یہ سب کو بلاتکلف رواہے۔ او روہ ضرور باعث برکت ہے۔ برکت والوں کی طرف جو چیز نسبت کی جاتی ہے اس میں برکت آجاتی ہے۔ مسلمان اس کھانے کی تعظیم کرتے ہیں اور وہ اس میں مصیب ہیں ، ائمہ دین نے بسندِصحیح روایت فرمایا کہ ایك مجلس سماع صوفیاء کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم میں نذر حضور سیدنا غوث اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ایك بدرہ زر رکھا ہوا تھا ، یہ حالت وجد میں ایك صاحب کا پاؤں اس سے لگ گیا فورًا رب العزت وعلانے ان کا حالِ ولایت سلب فرمالیا نسأل اﷲ العفو ولعافیہ۔“ (2)
دل سیاہ (Black) ہونے کا معنیٰ بیان کرتے ہوئے *سیِّدی اعلیٰ حضرت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ* فرماتے ہیں:”یہ تجربہ کی بات ہے اور اس کے معنٰی یہ ہیں کہ جو طعام میّت کے متمنی رہتے ہیں ان کا دل مرجاتا ہے۔ ذکروطاعت الہٰی کے لیے حیات وچستی اس میں نہیں رہتی کہ وہ اپنے پیٹ کے لقمہ کے لیے موت مسلمین کے منتظر رہتے ہیں اور کھانا کھاتے وقت موت سے غافل اور اس کی لذت میں شاغل۔“ (3)
====================================================================================
*(1)* `فتحُ القَدیر`، فصل فی الدفن، جلد:2، صفحہ:102.
(2) `فتاویٰ رضویہ`، جلد:9، صفحہ:616.
*(3)* `المرجع السابق`، صفحہ:669.
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
