حضرت گھر کا کوئی فرد فوت ہو جائے تو نئے کپڑے یا جوتی خرید کر پہن سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
------------------------------------------------
سوگ تین دِن تک جائز ہے ۔ ہاں اگر کسی عورت کا شوہر اِنتقال کر گیا ہے تو اس کے سوگ کی مدّت چار مہینے 10 دِن ہوتی ہے اور اگر عورت حاملہ ہے تو عدت وضعِ حمل ہے۔ جس کا شوہر کا انتقال ہوا ہے اس کے لیے عدت گزارنا اور سوگ کرنا لازم ہے(سوگ یہ ہے کہ زینت کو ترک کرے یعنی ہر قِسم کے زیور چاندی سونے جواہر وغیرہا ) باقیوں کے لیے صرف تین دن تک سوگ جائز ہے واجب نہیں۔ لہذا جس گھر میں کوئی فرد ختم ہو جائے تو گھر والے نئے کپڑے یا جوتی وغیرہ خرید اور پہنن سکتے ہیں۔
*تنویر الابصار مع رد المحتار* میں ہے:”تحد (تحد ای وجوبا)مکلفۃ مسلمۃ ولو امۃ منکوحۃ اذا کانت معتدۃ بت او موت “ ترجمہ: مسلمان مکلّف عورت اگرچہ منکوحہ لونڈی ہو ،جب طلاقِ بائن (یعنی تین طلاقوں والی یا ایک یا دو بائن طلاقوں والی) یا موت کی عدت والی ہو، تو اس پرسوگ کرنا واجب ہے۔“ (1)
*در مختار* میں ہے:”و یباح الحداد علی قرابة ثلاثة أيام فقط، وللزوج منعها لأن الزينة حقه، فتح، ملخصاً“ یعنی اور کسی قریبی کی وفات پر صرف تین دن سوگ کرنے کی اجازت ہے اور شوہر بیوی کو اس سے منع بھی کر سکتا ہے، کیونکہ زینب شوہر کا حق ہے۔ فتح القدیر۔
اس کے تحت *رد المحتار* میں ہے:”قوله (للزوج منعها)۔۔۔ و هذا الاحداد مباح لها لا واجب، ملخصاً“ یعنی مصنف کا قول (شوہر بیوی کو سوگ سے منع کر سکتا ہے) اور اس کے لیے یہ سوگ جائز ہے، واجب نہیں۔ (2)
اعلی حضرت امام احمد رضا خان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:”شریعت نے عورت کو شوہر کی موت پر چار مہینے دس دن سوگ کا حکم اوروں کی موت کے تیسرے دن تك اجازت دی ہے باقی حرام ہے۔“ (3)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تحریر فرماتے ہیں:”موت کی عدت چار مہینے دس دن ہے یعنی دسویں رات بھی گزر لے بشرطیکہ نکاح صحیح ہو دخول ہوا ہو یا نہیں دونوں کا ایک حکم ہے اگر چہ شوہر نا بالغ ہو یا زوجہ نا بالغہ ہو۔“ (4)
چند سطروں کے بعد لکھتے ہیں:”عورت حامل ہے توعدت وضع حمل ہے عورت حرہ ہو یا کنیز مسلمہ ہو یا کتا بیہ عدت طلاق کی ہو یا وفات کی یا متارکہ یا وطی بالشبہہ کی حمل ثابت النسب ہو یا زنا کا مثلاًزانیہ حاملہ سے نکاح کیا اور شوہر مرگیا یا وطی کے بعد طلاق دی تو عدت وضعِ حمل ہے۔“ (5)
سوگ کے معنی بیان کرتے *مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ* فرماتے ہیں:”سوگ کے یہ معنی ہیں کہ زینت کو ترک کرے یعنی ہر قسم کے زیور چاندی سونے جواہر وغیرہا کے اور ہر قسم اور ہر رنگ کے ریشم کے کپڑے اگرچہ سیاہ ہوں نہ پہنے اورخوشبو کا بدن یا کپڑوں میں استعمال نہ کرے اور نہ تیل کا استعمال کرے اگرچہ اُس میں خوشبو نہ ہو جیسے روغن زیتون اور کنگھا کرنا اور سیاہ سرمہ لگانا۔ یوہیں سفید خوشبودار سرمہ لگانا اور مہندی لگانا اور زعفران یا کسم یا گیرو کا رنگا ہوا یا سُرخ رنگ کا کپڑا پہننا منع ہے ان سب چیزوں کا ترک واجب ہے۔ (جوہرہ، درمختار، عالمگیری) یوہیں پڑیا کا رنگ گلابی۔ دھانی۔ چمپئی اور طرح طرح کے رنگ جن میں تزین ہوتا ہے سب کو ترک کرے۔“ (6)
~=============================~
*(1)* `تنویر الابصار`، جلد:5، ص:220تا 221
*(2)* `رد المحتار علی الدر المختار`، جلد:5، صفحہ:223-224.
*(3)* `فتاویٰ رضویہ`، جلد:24، صفحہ:496.
*(4)* `بہارِ شریعت`،عدت کا بیان جلد:2، حصہ:8، صفحہ:237، مجلس المدینۃ العلمیہ (دعوت اسلامی)
*(5)* `المرجع السابق`، صفحہ:238
*(6)* `بہارِ شریعت`، سوگ کا بیان،جلد:2، حصہ:8، صفحہ:242، مجلہ المدینۃ العلمیہ (دعوت اسلامی)
----------------------------------------------
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
*والله تعالیٰ اعلم بالصواب*
