حضور بحرُ العلوم علامہ عبد المنان اعظمی علیہ الرحمہ کی مختصر سوانح
از قلم: محمد کونین صـدیقی کٹیہاری -------------------------------------------------------------------------------------
حضور بحرُالعلوم علامہ عبد المنان اعظمی علیہ الرحمہ برصغیر ہند کے اُن عظیم علماے کرام میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے اپنی علمی بصیرت، دینی خدمات اور فقہی بصیرت سے پوری دُنیاے اسلام کو فیض پہنچایا، آپ کا تعلق ضلع اعظم گڑھ (یو پی، انڈیا) کے مشہور علمی مرکز مبارک پور سے تھا، وہی مبارک پور جسے ازہر ہند الجامعہ الاشرفیہ کی نسبت سے پورے عالمِ اسلام میں علمی قلعہ مانا جاتا ہے۔
نام: عبد المنان، لقب: بحر العلوم،
نسب : حضرت بحر العلوم علامہ مفتی عبد المنان اعظمی صاحب (رحمۃ اللّٰہ علیہ) بن شیخ حاجی عبد الغنی انصاری بن عبد الرحیم بن شیخ دوست محمد انصاری بن دوسی انصاری بن شیخ غوثی۔
ولادت: ۷/ ربیع الثانی ۱۳٤٤ھ ضلع اعظم گڑھ کے صنعتی قصبہ مبارک پور میں ہوئی۔
تعلیم: ١٣٤٩ھ کو ۵ برس کی عمر میں ابتدائی تعلیم "دار العلوم اشرفیہ" جو اس وقت ایک مدرسہ کی شکل میں تھا، جہاں انھوں نے اپنی پوری تعلیم قاعدہ بغدادی، ناظرہ قرآن مجید، پرائمری درجات، فارسی سے لیکر دورۂ حدیث تک جید اساتذہ سے فقہ، حدیث، تفسیر، منطق اور دیگر علومِ اسلامیہ میں کمال حاصل کیا۔ آپ کی ذہانت، محنت اور فہمِ دین کی بدولت آپ کو اساتذہ کی خاص توجہ حاصل رہی۔
اساتذہ: حضور حافظ ملت حضرت علامہ عبد العزیز محدث مرادآبادی، استاذ العلما حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی، خطیب عصر علامہ سلیمان بھاگلپوری، امام المفکرین علامہ عبد الرؤف بلیاوی، مولانا نور محمد مبارک پوری، محدث شہیر علامہ ثناء اللہ (رحمہم اللّٰہ عنہم) وغیرہم..
خدماتِ دینیہ: فراغت کے بعد ۱۳٦٦ھ میں مدرسہ ضیاء الاسلام، دارالعلوم اشرفیہ، مدرسہ انوار العلوم اور دار العلوم شمس العلوم میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔
تصنیف: بحر العلوم علیہ الرحمہ کی متعدد علمی و فقہی تحریریں اہلِ علم کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں علمی رسائل اور فتاویٰ بھی تحریر فرمائے جو آج بھی مدارس میں بطورِ حوالہ پڑھے جاتے ہیں۔
ان میں نمایا: الشاہد،۔جوابات حاضر و ناظر ۔مسلۂ آمین بالجہر،۔فتوی بحرالعلوم،۔مضامین بحرالعلوم۔مختار الاحادیث،۔نداے یا رسول اللہ،۔محمد مثل الکامل،۔قبر کی اونچائ، انوکھی لڑائ وغیرہ....
اس کے علاوہ حضور اعلیٰ حضرت امام عشق و محبت اما احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے فتاوی “فتاوی رضویہ” کے جلدوں کی تدوین فرمائی، نیز اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کی عربی تصنیف “شمائم العنبر” کا اردو ترجمہ بھی کیا، اور بھی بہت سارے مضامین و مقالات بھی لکھے ہیں جو مختلف رسائل میں چھپ چکے ہیں۔
اخلاق و اوصاف: حلم و بردباری، عاجزی و انکساری اور تقویٰ و طہارت کے پیکر تھے، مجلس میں بیٹھ کر ہر کوئی علم و ادب کا ذوق لے کر اُٹھتا بحر العلوم علیہ الرحمہ کی شخصیت میں علمی وقار اور باطنی خشیت دونوں جمع تھیں۔
وصال: آپ کا وصال دینی و علمی حلقوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان تھا، مزار مبارک آج بھی اہلِ محبت کی زیارت گاہ ہے اور آپ کا علمی فیض آج بھی آپ کے شاگردوں، تلامذہ اور تصنیفات کی شکل میں جاری و ساری ہے، علامہ عبد المنان اعظمی علیہ الرحمہ کا نام علم و عمل، خلوص و اخلاص اور دینی خدمت کا استعارہ ہے، پھر دیکھتے ہی دیکھتے ۱۵/ محرم الحرام ١٤٣٤ھ مطابق ۲۹/نومبر ۲۰۱۲ء شب جمعہ اس دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ فرما گئے، بحر العلوم علیہ الرحمہ کی نماز جنازہ میں ملک و بیرون ملک اور قرب و جوار کے لوگوں سے جامعہ اشرفیہ مبارک پور کا وسیع و عریض میدان لوگوں سے بھرا ہوا تھا،اور نماز جنازہ لخت جگر مولانا شکیب ارسلان نے پڑھائ، آپ کا مزار مبارکہ محلہ پورہ خضر بڑی ارجنٹی اسلامیہ اسپتال کے پاس آپ کو مدفون کیا گیا،
آپ کا علمی فیضان رہتی دنیا تک جاری رہے گا، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا قادرِ مطلقﷻ 🤍 بجاہ جذب قلوب خلائق ﷺ🤲🏻
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
حضرت سید شاہ حمزہ عینی مہرولی قدس سرہ کی مختصر حالات کو بھی ضرور پڑھیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

