حضرت سید شاہ حمزہ عینی مہرولی رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدمات
از قلم: محمد کونین صدیقی کٹیہاری۔
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تعارف
حضرت شاہ حمزہ عینی مہرولی رحمۃ اللہ علیہ برصغیر کے ان جلیل القدر علما و مفتیانِ کرام میں شمار کیے جاتے ہیں جنھوں نے اپنی علمی بصیرت، فقہی تبحر اور روحانی کمالات سے اہلِ سنت و الجماعت کو مستحکم بنیادیں فراہم کیں، آپ کا تعلق خانوادۂ علم و فضل سے تھا اور آپ نے اپنی ساری زندگی دینِ متین کی خدمت اور مسلمانوں کی رہنمائی میں صرف کر دی۔
نام: حمزہ،
لقب: اسد العارفین، قطب الکاملین،
تخلص: عینی،
ولادت: 14 ربیع الثانی 1131ھ، مطابق مارچ 1719ء مقامِ پیدائش مارہرہ مطہرہ،
نسب: حضرت سید شاہ حمزہ مارہروی بن سید آل محمد بن صاحب البرکات سید برکت اللہ بن سید اویس بلگرامی بن عبد الجلیل بن میر عبد الواحد بلگرامی...... ہوتے ہوۓ سلسلہ حضور شافع محشر ﷺ تک جا پہنچتا ہے۔
تعلیم و تربیت
حضرت شاہ حمزہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے جملہ علوم و فنون ظاہر و باطن حاصل کیا، ان کے علاوہ شمس العلما حضرت مولانا محمد باقر رحمۃ اللّٰہ علیہ سے مختلف علوم و فنون حاصل کیا فن طب علما و عملًا حکیم عطاء اللہ صاحب اور شیخ ڈھڈھال لاہوری سے بھی اکتساب فیض کیا۔
(تذکرہ مشائخ رضویہ قادریہ ص385)
علمی مقام و مرتبہ
حضرت حمزہ قدس سرہ نے گیارہ برس کی عمر میں جملہ علوم و فنون حاصل کر چکے تھے اور گیارہ سال کی مدت میں رہ کر روحانی فیوض و برکات اپنے جد امجد حضرت برکت اللہ قدس سرہ سے اکتساب کیے، یوں تو مختلف موضوعات پر کتابیں تحریر فرماتے تھے لیکن ان میں نمایا مقام "فص الکلمات" کا ہے، جو دنیا کے سارے علوم و فنون پر حاوی ہے، اس زمانے میں حضرت قدس سرہ کے پاس کتب خانے میں تقریباً سولہ ہزار کتب و رسائل موجود تھے ان میں جو کتاب بوسیدہ ہو جاتی ان کو اپنے دست مبارک سے ورنہ دوسرے کاتبوں سے تحریر فرماتے جس سے علمی لیاقت و صلاحیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اور ان کے فتویٰ کا یہ عالم تھا کہ اس زمانے کے نواب سر خم تسلیم کرتے تھے، نواب احمد خان صاحب کی حضرت سے دلی عقیدت تھی جس کا اظہار اس طور پہ کرتے ہیں کہ چھ مواضعات خدمت میں پیش کر دیے۔
روحانی مقام
حضرت قدس سرہ نہ صرف ایک عظیم مفتی و عالم تھے بلکہ ایک کامل صوفی اور صاحبِ سلوک بزرگ بھی تھے، آپ نے عوام الناس کی اصلاحِ احوال کے لیے بیعت و ارشاد کا سلسلہ بھی قائم رکھا، آپ کی صحبت سے سینکڑوں لوگوں نے توبہ کی اور دین کی طرف راغب ہوئے، حضرت قدس سرہ دس برس کی عمر سے وصال تک بلا ناغہ تہجد کے پابند تھے،
اہم خصوصیات:
علمی دیانتداری، فقہی گہرائی، سادگی و تقویٰ، تحمل و بردباری، عوامی فلاح کا جذبہ اور جود و سخا کے اعلی پیمانے پر تھے۔
وفات
حضرت قدس سرہ نے اپنی پوری زندگی دین کی خدمت میں گزاری اور بالآخر یہ سورج بھی غروب ہو گیا اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے، آپ کا مزارِ مبارک آج بھی مارہرہ مطہرہ میں اہلِ محبت و عقیدت کی زیارت گاہ ہے جہاں عقیدت مند فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔
علمی و روحانی وراثت
آپ کے بعد آپ کے خلفا، شاگرد اور مریدین نے آپ کے مشن کو جاری رکھا۔ آپ کی خدمات، فتاویٰ اور علمی تالیفات آج بھی اہلِ سنت کے لیے مینارۂ نور ہیں۔
حضرت سید شاہ حمزہ عینی مہرولی رحمۃ اللہ علیہ
جیسے علما کی حیات ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم و عمل، تقویٰ و طہارت، اور اخلاص و خدمت ہی دین کی اصل بنیادیں ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی توفیق عطا فرمائے، آمین بجاہ سید المرسلین
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
بحر العلوم مفتی عبد المنان اعظمی علیہ کے متعلق پڑھنے کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کریں

