ایک شخص ایسی جگہ کام کرتا ہے جہاں داڑھی رکھنے کو برا سمجھا جاتا ہے لوگ بُری نظر سے دیکھتے ہیں تو کیا ایسی صورت میں داڑھی منڈوانے میں کوئی گناہ تو نہیں، کیا داڑھی کٹوا سکتے ہیں؟

ایک شخص ایسی جگہ کام کرتا ہے جہاں داڑھی رکھنے کو برا سمجھا جاتا ہے لوگ بُری نظر سے دیکھتے ہیں تو کیا ایسی صورت میں داڑھی منڈوانے میں کوئی گناہ تو نہیں، کیا داڑھی کٹوا سکتے ہیں؟

ایک شخص ایسی جگہ کام کرتا ہے جہاں داڑھی رکھنے کو برا سمجھا جاتا ہے لوگ بُری نظر سے دیکھتے ہیں تو کیا ایسی صورت میں داڑھی منڈوانے میں کوئی گناہ تو نہیں، کیا داڑھی کٹوا سکتے ہیں؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

--------------------------------------------


نہیں! صورتِ مسؤولہ میں شخصِ مذکور کو داڑھی کٹوانے کی ہرگز اجازت نہیں ہے بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ اس جگہ کام نہ کرے بلکہ کہیں اور چلا جائے جہاں شریعت کی خلاف ورزی نہ ہو کیونکہ مرد کے لیے ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے، داڑھی منڈانا یا ایک مشت سے کم کرانا ناجائز و حرام ہے۔اس پر لازم ہے کہ حکمِ شریعت کی ہی پابندی کرے کہ اللہ تعالی کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔


: داڑھی سے متعلق بخاری شریف میں ہے:  
عن ابن عمرعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال خالفوا المشرکین
 وفروا اللحی وأحفوا الشوارب وکان ابن عمر إذا حج أو اعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل أخذہ 
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مشرکین کی مخالفت کرو ، داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی مٹھی میں لیتے اور جومٹھی سے زائد ہوتی ، اسے کاٹ دیتے تھے۔“ (1)

داڑھی کا حکم بیان کرتے ہوئے  اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:”داڑھی حد مقرر شرع سے کم نہ کرانا واجب اور حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنت دائمی اور اہل اسلام کے شعائر سے ہے اور اس کا خلاف ممنوع وحرام اور کفار کا شعار ہے۔“ (2)
 
خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔ جیساکہ صحیح مسلم شریف کی حدیثِ مبارک ہے:عن علی رضی الله عنه ان النبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم قال لا طاعۃ فی معصیۃ اللہ ، انما الطاعۃ فی المعروف“
یعنی : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ عزوجل کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں، بلکہ مخلوق کی اطاعت تو فقط بھلائی کے کاموں میں ہی جائز ہے۔ (3)

اس حدیثِ پاک میں ارشاد فرمودہ لفظ ”معروف“ کی تعریف بیان کرتے ہوئے مفسِّر شہیر حکیمُ الْاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”معروف“ وہ کام ہے جسے شریعت منع نہ کرے، ”مَعصیت“ وہ کام ہے جسے شریعت منع  فرمائے۔ (4)

لوور پہننا کیسا ہے..؟ اس مسئلہ کو پڑھنے کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کریں 
=============================

(1)  `صحیح البخاری`، جلد:2، صفحہ:398.
(2)`فتاوٰی رضویہ`، جلد:22، صفحہ:571.
(3)`صحیح مسلم`،صفحہ:1023، حدیث:1840.)
(4) `مرآۃ المناجیح`، جلد:5، صفحہ:340.

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی


والله تعالیٰ اعلم بالصواب

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.