ماہِ محرم کی دلگداز ساعت،میرا یومِ پیدائش ایک مکاشفہ

محمد کونین صدیقی کٹیہاری | Md Kaunain Siddiqui Katihari | मो॰ कौनैन सिद्दीकी कटिहारी |


ماہِ محرم کی دلگداز ساعت اور میری ولادت ایک مکاشفہ

از قلم: محمد کونین صدیقی کٹیہاری
ابن حاجی عبد المنان صاحب عفی عنہما

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
عاشورہ ۱۰/ محرم الحرام/ ۱۷۲۶ھ   — مطابق ۱۹/فروری ۲۰۰۵ء 
والد محترم: حاجی عبد المنان عفی عنہ  
برادران کرام: محمد ریاض صدیقی، غلام ربانی اور محمد کاظم صدیقی 
خواہر جانی: دو
 ساکن و پوسٹ: اجھریل، بلوک تیلتا، تھانہ: بلرام پور، وایہ: بارسوئی، ضلع: کٹیہار، صوبہ: بہار، ملک: ہندوستان

یہ ساعت، مری زیست کا اک حوالہ
کہ الفت کی بوندیں گِریں مثلِ لالہ

محرم الحرام کی یہ سنجیدہ اور دل خراش ساعتیں... جب میری زیست کی ایک اور فصلِ بہاری اپنے اختتام کو پہنچی، اور نئے باب کی روشنائی سے صفحۂ حیات پر نئی قسط تحریر ہونے لگی... یہ محض سالگرہ نہیں،بلکہ میرے لیے ایک تاریخی حوالہ ، روحانی اعلامیہ اور زندگی کے نشیب و فراز کا امتحانی اَلارَم ہے۔

آج دس محرم – یومِ عاشورا – جس روز صبر نے ابدی عظمت کا۔ خلعت زیبِ تن کیا اور استقامت نے اپنے خون سے حیات کی تفسیر رقم کی۔کاروانِ اہلِ بیت خیمہ سے جب چلتے تھے تو بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ کے چمنستان کی دلکش فضا ان کی آنکھوں کے سامنے ہوتی تھی ، میدان کربلا کی راہ سے منزلِ مقصود تک پہنچنا چاہتے تھے، یہ دن مجھے پھر سے یاد دلاتا ہے کہ راہِ حق میں قربانی ہی اصل حیات ہے، اور شکستہ جسموں سے نکلنے والا لہو کبھی مر نہیں سکتا۔

کیا یہ صرف ایک اتفاق ہے کہ میری پیدائش اسی دن لکھی گئی؟ شاید نہیں! جب میں اس دن کے سناٹے میں اپنے وجود کو ٹٹولتا ہوں،اپنی ہستی کو کھنگالتا ہوں تو میرے دل کی گہرائیوں سے ایک صدا ابھرتی ہے کہ میری رگوں میں بھی کچھ ذراتِ وفا، کچھ خوشبوئے عزم، کچھ آثارِ کربلا گردش کر رہے ہیں... بس میں انہیں دیکھنے کی بصیرت تلاش کر رہا ہوں۔اگر میں خود کو پہچان سکوں تو یہ دن میرے لیے کسی کیک، کسی شمع ، کسی ڈکوریڈ یا رسمی مبارکباد کا محتاج نہیں، بلکہ یہ لمحۂ مکاشفہ ہے... ایک وقفۂ محاسبہ، جہاں میں اپنی آنکھوں میں جھانک کر پوچھتا ہوں:کیا میں نے گزشتہ سال کوئی قندیلِ شب تاب روشن کی جس کی لو سے کوئی تاریک دل یا اندھیری راہ روشن زار ہوئی ہو؟

کیا میں نے اپنی ذات میں کوئی کربلا بسا لی جہاں باطل خواہشات کی گردن زد کی جائے؟
کیا میں نے اپنے نفس کی یزیدیت کو زیر کر کے خود کو حسینیت کے راستے پر گامزن کیا؟
مجھے معلوم ہے کہ میری کمزوریاں مجھ سے کہیں زیادہ قدآور ہیں اور میرے خواب میرے قد سے کہیں بلند،
مگر مجھے اپنے ربِ قدیر کی رحمت پر وہی بھروسہ ہے جو تھکے ہوئے مسافر کو منزل کی اٹل نوید پر ہوتا ہے۔

:یوم پیدائش کے موقع پر  سب سے بڑی دعا مانگتا ہوں اور عہد کرتا ہوں کہ

میرے آنے والے دنوں میں کچھ حسینی خصلتیں نمو پائیں،
مجھے صبرِ حسین کی تابناکی، جذبۂ عباس کی رعنائی، علی اکبر کی جوانمردی، قاسم کی بہادری، حر کی طرف داری، علی اصغر کی پاکبازی، عون و محمد کی جانثاری  بلکہ جملہ شہداے کربلا کا عزم مصمم اور جہد مسلسل عطا ہو۔
حق کا پاسدار، اپنے عقیدے پر جلالت کے ساتھ استقامت و وفادار، اور باطلوں کے لیے قلعہ کوب۔

یہ محرم کی کرب ناک اور دلدوز تاریخ مجھے ہر سال یاد دلاتی ہے کہ موت بھی کتنی عظیم ہو سکتی ہے اگر مقصد بلند ہو،
اور زندگی بھی کتنی بے وقعت ہو جاتی ہے اگر اصولوں کی فصل اجڑ جائے۔
اے وقت!
مجھے جہاں چاہے لے جا، اپنی تند ہواؤں میں اڑا، اپنی سلوٹوں میں لپیٹ،۔ مگر میرا سر کبھی نہ جھکنے پائے... سوائے اس در کے جس نے مجھے عدم سے وجود بخشا، جس کے حضور سر خم ہے۔

آج میرا جنم دن ہے... اور یہ دن عاشورا کا ہے، تو میں خود کو اس سالگرہ کا تحفہ یہی دیتا ہوں کہ، میں حق بولنے کی جسارت کو کبھی قربان نہ کروں، میں کسی باطل کے سامنے کپکپانے والا نہ بنوں اور میرے قلم کی روشنائی میں ہمیشہ حسین کی حقانیت کا رنگ باقی رہے۔

کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا
جیون کا اک اور سنہرا سال گیا

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

محرم الحرام : تاریخ تہذیب اور فکر کا ہمہ گیر جائزہ   یہاں کلک کریں


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.