لووَر پہننا کیسا ہے؟
بسم الله الرحمن الرحیم`الجواب بعون الملك الوهاب اللهم هدايه الحق والصواب`
لوور`(lower)` پہننا شرعاً جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں، لِعدمِ المانع۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
`قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِؕ-`
ترجمہ : تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالی اور پاک رزق۔ [¹]
حدیثِ پاک میں ہے:
`عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُلْ مَا شِئْتَ وَالْبَسْ مَا شِئْتَ مَا أَخْطَأَتْكَ اثْنَتَانِ: سَرَفٌ وَمَخِيلَةٌ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ بَابٍ .`
ترجمہ :روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرمایا جو چاہو کھا ؤ اور جو چاہو پہنو جب کہ دو چیزیں تم سے الگ رہیں فضول خرچی اور تکبر۔(بخاری ترجمہ باب) [²]
لیکن چند باتوں کا خیال رکھنا لازم ہے:
(1) مکمل ستر چھپا ہو۔
(2) کپڑا ٹکھنوں سے نیچے نہ ہو تکبر کی وجہ سے۔
(3) اور نہ ہی ریشم کا بنا ہو، کیونکہ مرد کے لیے ریشمی لباس پہننا حرام ہے اور عورتوں کے لیے جائز۔ مرد کو صرف چار انگل تک جائز ہے۔
(4) کپڑا اتنا چست نہ ہو کہ جسم کی ہیئت نظر آئے۔
(5) عورتوں یا فاسقوں سے مشابہت نہ ہو۔
لہذا مندرجہ بالا⬆ باتوں کا خیال رکھتے ہوئے لوور پہن سکتے ہیں۔ کیونکہ لوور پہننا فی نفسہ جائز ہے غیر کے عارض کے سبب ناجائز ہوگا۔
ایک اشکال کا جواب⬅:
لوور(lower) پہننا نہ ہی تو کافروں کا مذہبی شِعار ہے جو کفر ہو اور نہ ہی قومی شِعار ہے جو حرام ہو اور نہ ہی فاسقوں کے ساتھ خاص ہے جس کی وجہ سے ناجائز ہو۔
یاد رہے: ”تشبہ وہی ممنوع ومکروہ جس میں فاعل کی نیت تشبہ کی ہو یا وہ شے ان بدمذہبوں کا شعار خاص یا فی نفسہ شرعاً کوئی حرج رکھتی ہو، بغیر ان صورتوں کے ہر گز کوئی وجہ ممانعت نہیں۔“ [³]
فائدہ : البتہ خواص کو بچنا بہتر ہے خصوصاً جبکہ عوام کے سامنے ہوں لوگوں کی انگشت نمائی سے بچنے کے لیے۔
کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کے نقصانات مزید پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریںhttps://sadaeqalb1.blogspot.com/2025/07/blog-post_4.html
____________________________________
[¹] `القرآن الکریم`، سورہ:اعراف، آیت نمبر:32.
[² ]`مشکوٰۃ المصابیح` , حدیث نمبر:4357.
[³] `فتاویٰ رضویہ`، جلد:24، صفحہ نمبر:533.
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
والله تعالیٰ اعلم بالصواب

