کربلا کے بعد کا احوال — یزید کی ہلاکت اور انتقامِ حسین
.png)
از قلم: محمد کونین صدیقی کٹیہاری
----------------------------------------------------
کربلا کی زمین نے حق و باطل کے معرکے کو جس خونِ مقدس سے سینچا، وہ رہتی دنیا تک انسانیت کو جھنجھوڑتا رہے گا۔ 10 محرم 61 ہجری کو نواسۂ رسول ﷺ سید الشہدا امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے خانوادے اور اصحاب سمیت کربلا کی خاک پر شہید کر دیے گئے، یوں تو یہ دن بظاہر عاشورہ کہلاتا ہے، مگر اس دن کے بعد کی داستان بھی کم عبرت انگیز نہیں ، بلکہ یہ حقیقت میں کربلا کا دوسرا باب ہے، جس میں مظلومیت، صبر، ظلم کی رسوائی اور انتقام کی تکمیل کی مکمل جھلک دکھائی دیتی ہے۔
عاشورہ کے بعد میدانِ کربلا کی ویرانی جس زمین پر نبی مکرم ﷺ کے جگر گوشے حسین رضی اللہ عنہ کا خون بہا، وہاں ظالم فوج نے ان کے جسمِ اطہر کو بے گور و کفن چھوڑا۔
عمر بن سعد - یزیدی فوج کا سردار - نے حکم دیا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر شہدا کے سروں کو قلم کر کے کوفہ ابنِ زیاد کے دربار بھیجا جائے، تاریخ طبری میں ذکر ہے: ’’ثم أمر عمر بن سعد برؤوسهم فقطعت و بعث برأس الحسین إلی عبید الله بن زیاد‘‘ (تاریخ طبری، جلد 4، ص 351)
اہلِ بیت کی اسیری — صبر کی معراج حسین رضی اللہ عنہ کے بعد ظلم کی ایک اور بھیانک شکل سامنے آئی ، اہلِ بیت کی مخدرات یعنی پاک بیبیوں کو قیدی بنا کر کوفہ کی گلیوں میں پھرایا گیا، یہ وہی خانوادہ تھا جسے رسول اللہ ﷺ اپنی چادر میں لے کر ’’اہلِ کساء‘‘ کہتے نہ تھکے، اب وہی خانوادہ رسیاں بندھا، سر ننگا، ظالموں کے درباروں میں پیش کیا گیا، ابن کثیر لکھتے ہیں: ’’وسیر بنات رسول الله ﷺ سبایا حتی أدخلن علی ابن زیاد‘‘ (البدایہ و النہایہ، جلد 8، ص 201)
حضرت زینب رضی اللہ عنہا — کربلا کی فاتحہ کوفہ کے دربار میں جب اہلِ بیت کی عورتیں پیش کی گئیں تو ابن زیاد نے جملہ گستاخی کہا، مگر اسی لمحے امام حسین رضی اللہ عنہ کی بہن حضرت زینب رضی اللہ عنہا کھڑی ہوئیں، اُنھوں نے لرزتے دربار کو کلمۂ حق سے ہلا دیا، ابن اثیر روایت کرتے ہیں:’’فقامت زینب بنت علی فقالت: ما رأیت إلا جمیلا‘‘ (الکامل فی التاریخ، جلد 3، ص 427)
یعنی: زینب بنت علی نے فرمایا: ’’میں نے کچھ نہیں دیکھا سوائے حسن و خوبی کے۔ ﴿کربلا میں شہدا کی عظمت﴾ ‘‘ گویا جسم کٹے، چادریں چھینی گئیں، مگر عزتِ اہلِ بیت کو کوئی جھکا نہ سکا، یہ زینب رضی اللہ عنہا کا خطبہ تھا جس نے یزیدیت کے ایوانوں کو لرزا دیا۔
یزید کا دربار — رسوائی کی انتہا کوفہ کے بعد اہلِ بیت کو زنجیروں میں باندھ کر شام بھیجا گیا، دمشق میں یزید کے دربار میں امام زین العابدین رضی اللہ عنہ (جو بیمار تھے) اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے ظلم کے خلاف وہ گواہی دی کہ تخت پر بیٹھا یزید بھی بے بس نظر آیا، امام ذہبی کی "سیر اعلام النبلاء " میں ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر یزید کے پاس پہنچایا گیا: ’’وحمل رأس الحسین إلی یزید بالشام‘‘ (سیر اعلام النبلاء، جلد 3، ص 307)
یزید کی موت — ظالم کا انجام- یزید نے تین برس حکومت کی — ان تین برسوں میں کربلا، مدینہ پر چڑھائی (واقعہ حرّہ) اور خانہ کعبہ پر منجنیق سے حملہ جیسے مکروہ کارنامے رقم کیے۔ مگر ظلم کی دیوار کب تک کھڑی رہتی؟ 64 ہجری میں یزید ہلاک ہو گیا۔ ابن کثیر کے مطابق: ’’مات یزید بن معاویة بن أبی سفیان سنة أربع و ستین‘‘ (البدایہ و النہایہ، جلد 8، ص 253) یزید کی موت طبعی بتائی جاتی ہے مگر بعض مورخین کا بیان ہے کہ اس کی ہلاکت اس کی عیش پرستی اور شراب نوشی کے سبب ہوئی
انتقامِ حسین — مختار ثقفی کا قیام یزید کی موت کے بعد اہلِ بیت کے چاہنے والوں میں غیرت کی چنگاری بھڑک اٹھی، کو فہ میں مختار بن ابی عبید ثقفی اٹھا، مختار نے اعلان کیا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلین کو اس دنیا میں بدترین انجام دیا جائے گا۔
تاریخ طبری اور ابن اثیر دونوں لکھتے ہیں کہ مختار نے کربلا کے ظالم کرداروں کو چن چن کر قتل کرایا: عمر بن سعد — میدانِ کربلا کا سردار، شمر بن ذی الجوشن — جو امام حسین کا سر قلم کرنے والا ، حرملہ بن کاهل — جس نے امام حسین کے شیر خوار بیٹے کو تیر مارا، سنان بن انس — سر قلم کرنے میں شریک تھا، ابن اثیر: ’’وخرج المختار بن أبی عبید فقتل من قتل الحسین‘‘ (الکامل فی التاریخ، جلد 3، ص 452) مختار نے ان سب کو عبرتناک انجام تک پہنچایا، یوں تاریخ نے دیکھا کہ کربلا کا انتقام اس دنیا میں پورا ہوا، چاہے وہ یزید کی ذلت ہو یا قاتلوں کی گردنیں۔
پیغامِ کربلا — زندہ کردار کربلا محض میدانِ جنگ نہ تھا — یہ ایک مسلسل تحریک تھی، جو عاشورہ کے بعد بھی اہلِ بیت کی خواتین اور بچوں نے زندہ رکھی، حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی تقریریں، امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے وعظ، اور مختار ثقفی کی کارروائیاں — یہ سب اس بات کا اعلان تھیں کہ یزیدیت فنا ہے اور حسینیت زندہ ہے ، آج بھی ہر مرد و عورت کو یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ ظلم کے خلاف زبان کھولنا، حق کی گواہی دینا، اور حق پر ڈٹ جانا ، یہی کربلا کے وارث ہونے کی دلیل ہے۔
یزید مر گیا — مگر جو کردار یزید کی سوچ رکھتے ہیں وہ آج بھی موجود ہیں۔ حسین رضی اللہ عنہ کی سنت یہ ہے کہ ان کے خلاف کلمۂ حق بلند کیا جائے، یہی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا پیغام ہے — اور یہی کربلا کا سبق ہے
(اگر کہیں کوئی نقص ہو گیا ہو تو بتا سکتے ہیں)
محرم الحرام: تاریخ، تہذیب، اور فکر کا ہمہ گیر جائزہ اس مضمون کو بھی ضرور پڑھیں 👇