جہیز بالرضا اور جہیز بالجبر کا کیا حکم ہے..؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
________________________________________________________________________________________________________
جہیز کا مطالبہ کرنا شرعاً نا جائز وحرام ہے، شریعت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ کیوں کہ یہ رشوت ہے اور رشوت حرام ہے۔
افسوس! آج کل تو لڑکی یا لڑکی والوں کے گھر والوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اتنا سامان چاہیے ، فلاں گاڑی چاہیے اور فلاں فلاں کھانا چاہیے اسی وجہ سے آج شادیان اتنی مشکل ہو گئین ہیں نکاح مشکل اور زنا عام و آسان ہو گیا ہے ہماری بہنیں 25، 30 سال کی ہو جاتی ہیں لیکن غربت کی بناء پر نکاح نہیں ہو پاتا ہے والدین اسی ٹینشن میں بیمار رہتے ہیں بلکہ بعض تو ہارٹ اٹیک کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اللہ پاک مسلمانوں کو اس بلا سے شفاء عطا فرمائے آمین۔
ہاں! اگر لڑکی والے خود اپنی مرضی سے بخوشی کچھ دینا چاہیں تو کوئی حرج نہیں بلکہ سنت سے ثابت ہے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”لو أخذ أهل المرأة شيءً عند التسليم فللزوج أن يسترده لأنه رشوة كذا فى البحر الرائق“ یعنی عورت کے گھر والوں نے رخصتی کے وقت کچھ لیا تھا تو شوہر کو اس کے واپس لینے کا شرعاً حق ہے اس لیے کہ وہ رشوت ہے ایسا ہی بحر رائق میں ہے“ (1)
جب لڑکے سے لینا رشوت ہے تو لڑکی سے لینا بدرجہ اولی رشوت ہے۔
رشوت کے متعلق حضور ﷺ فرماتے ہیں:”لعنَ رسولُ اللَّهِ -صلّى اللَّهُ علَيهِ وعلى آلِه وسلَّمَ- الرّاشيَ والمُرتَشي یعنی رشوت دینے اور لینے والوں پر حضور ﷺ نے لعنت فرمائی۔ (2)
حضور ﷺ نے جب اپنی پیاری اور لاڈلی شہزادی حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کا نکاح فرمایا تو آپ کو جہیز دیا چنانچہ مسند احمد بن حنبل میں ہے:”عن علی: أنَّ رسول اللهﷺ لما زوَّجَہ فاطمة بعث معه بخمیلة و وِسَادةٍ من أدم حَشوھا لِیْفٌ، ورَحَیَیْن و سِقاء و جرَّتین“ یعنی حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کا نکاح فرمایا تو آپ کے مبارک جہیز میں ایک چادر، کھجور کی چھال سے بھرا ہوا ایک تکیہ، دو مٹکے، ایک
پیالہ اور دو آٹا پیسنے کی چکیاں بھیجیں۔ (3)
________________________________________________________________________________________________________
(1)`الفتاوی الھندیہ`، کتاب النکاح، باب المھر، الفصل السادس عشر فی جھاز البنت، جلد:1، صفحہ:359، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت.
(2) `تدمذی شریف`، حدیث:1337.
(3)`مسندِ احمد بن حنبل`، جلد:1، صفحہ:191، حدیث:819.
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم ✍🏻: محمد اویس العطاری المصباحی
____________________________________________________________________________________________________________________________________________________________________________

