محرم الحرام: تاریخ، تہذیب اور فکر کا ہمہ گیر جائزہ


🥀محرم الحرام: تاریخ، تہذیب اور فکر کا ہمہ گیر جائزہ🥀

محرم الحرام: تاریخ، تہذیب اور فکر کا ہمہ گیر جائزہ


از قلم ✍🏻: محمد کونین صدیقی کٹیہاری
-----------------------------------------------ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


       اسلامی تاریخ میں چند مہینے ایسے ہیں جنھیں تقدس، روحانیت اور تاریخی اہمیت نے ہمیشہ زندہ رکھا ہے، ان میں محرم الحرام کو ایک امتیازی مقام حاصل ہے، محرم کا مہینہ ہجری سال کا آغاز بھی ہے اور اسلامی تہذیب کی ایک عظیم داستانِ وفا و ایثار نفس کی یاد بھی، یہ مہینہ محض ایک تاریخی واقعہ کا نشان نہیں بلکہ امت مسلمہ کے لیے فکر و عمل، صبر و رضا اور حق و باطل کی ازلی کشمکش کا پیغام بھی ہے۔
محرم لغوی اعتبار سے حرمت والے مہینے کو کہتے ہیں، یہ ان چار حرمت والے مہینوں میں شامل ہے جنھیں اللّٰہ رب العزت نے قرآن مجید میں حرمت والے قرار دیا: إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ (التوبہ: 36)
یعنی: "بیشک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ ہے، جن میں چار حرمت والے ہیں۔"
       وہ چار مہینے محرم، رجب، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہیں، ان مہینوں میں جنگ و جدال کو حرام سمجھا جاتا تھا اور امن و احترام کی فضا قائم کی جاتی تھی۔
         محرم کی سب سے بڑی تاریخی علامت کربلا کا عظیم واقعہ ہے، ۱۰/ محرم ٦١ھ کو امام حسین رضی اللّٰہ عنہ اور ان کے جانثار ساتھیوں نے میدانِ کربلا میں یزیدی ظلم کے خلاف اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے دینِ اسلام کی اساس کو ہمیشہ کے لیے بچا لیا۔
کربلا دراصل حق اور باطل کی جنگ تھی، جو قیامت تک کے لیے حق والوں کو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ دیتی ہے، کربلا کی روح آج بھی مظلوموں کی آواز ہے اور ظالموں کے لیے مستقل پیغامِ عبرت۔
   یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق کی راہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، کبھی کبھی ظاہری طاقت کے سامنے سر جھکانے کے بجائے عزت کی موت کو ترجیح دینا پڑتا ہے۔
یہ روایت محض مذہبی نہیں بلکہ تہذیبی و سماجی وحدت کا ذریعہ بنتی ہے۔
    تاریخی ماخذ، کتبِ حدیث، سیرت نگاری اور مستند اسلامی مصادر کی روشنی میں اس پرفتن دور میں کربلا کا واقعہ تحقیق کا نہایت ہی گہرا موضوع ہے۔
لہذا امام طبری، ابن کثیر جیسے مورخین نے اس واقعہ کو تفصیل سے قلمبند کیا ہے۔
جدید تحقیق میں کربلا کو محض ایک معرکہ نہیں بلکہ ایک انقلاب کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو سیاسی، سماجی اور مذہبی سطح پر ایک مثال بنا ہوا ہے۔
یہ انقلاب امام حسین رضی اللّٰہ عنہ کے قول سے واضح ہے:
"میں نے خروج اس لیے کیا کہ امت محمدی کی اصلاح کروں۔"
(تاریخ طبری)
      آج کے دور میں جب کہ امت مسلمہ انتشار، ظلم اور فرقہ واریت کا شکار ہے، محرم کا پیغام ایک نوید ہے کہ امت کو حسینی فکر اپنانے کی ضرورت ہے۔
حق گوئی، ظلم کے خلاف ڈٹ جانا، باطل کو للکارنا، اور اتحاد کو فروغ دینا، یہی کربلا کا اصل درس ہے، نہ کہ بے جا سینے پہ ضرب لگانا وغیرہ۔ 
        محرم کا مہینہ ہر سال آتا ہے اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عزت و حرمت، حق و باطل، ظلم و عدل کی جنگ کبھی بھی ختم نہیں ہوتی۔
یہ مہینہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ امام حسین رضی اللّٰہ عنہ کے پیغام کو اپنی زندگی میں نافذ کریں، کرب و بلا کا درس ہمیں مظلوم کی حمایت، ظالم کے خلاف بغاوت اور حق پر ڈٹ جانے کا سبق دیتا ہے۔

اللہ ہمیں حسینی فکر عطا کرے اور ہمیں ظلم و باطل سے نجات دے کر حق کی راہ پر ثابت قدم رکھے، آمین یا قادرِ مطلقﷻ 🤍 بجاہ حضور جذب قلوب خلائق ﷺ🩷
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

مزید پڑھیں 👇🏻 

محرم الحرام اور رائج خرافات

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.