کیا فرماتے ہیں علماے کرام و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ وضو کرتے وقت کسی کو سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا یا اورکوئی اسلامی گفتگو کرنا کیسا ہے؟ ارشاد فرما دیجیے!
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
وضو کے دوران بلا ضرورت دنیوی گفتگو کرنا مکروہ ہے، ضرورت ہو تو حرج نہیں، اسی طرح دینی گفتگو بھی کر سکتے ہیں نیز سلام کرنا یا جواب دینا بھی جائز ہے کیونکہ یہ دنیوی گفتگو نہیں ہے۔ لیکن اگر وضو کے دوران وظائف پڑھ رہے ہوں تو سلام نہ کریں۔
وضو میں بلا ضرورت دنیوی باتیں نہ کرنے کے متعلق فتاویٰ۔ رضویہ میں ہے: ”نماز کے لیے جاکر دُنیوی تذکرہ مسجد میں مکروہ اور وضو میں بے ضرورت دنیوی کلام نہ چاہئے۔“ (1)
بہارِ شریعت میں وضو کے مکروہات کے بیان میں ہے: ”بے ضرورت دنیا کی بات کرنا (مکروہ ہے)۔“ (2)
سلام کے جواب کے متعلق فتاویٰ امجدیہ میں ہے: ”اثنائے وضو میں کلامِ دنیا مکروہ ہے جبکہ بغیر حاجت ہو۔ دُرِّ مختار میں ہے و عدم التکلم بکلام الناس الا لحاجۃ تفوتہ۔ جواب سلام کے متعلق ممانعت نظر فقیر سے نہیں گزری، ظاہر یہی ہے کہ سلام کا جواب دیا جائے۔“ (3)
کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کے نقصانات مزید پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں https://sadaeqalb1.blogspot.com/2025/07/blog-post_4.html
(1) `فتاویٰ رضویہ`، ج: 8، ص: 112.
(2) `بہارِ شریعت`، ج: 1، ح: 2، ص: 301.
(3) `فتاویٰ امجدیہ`، ج: 1، ص: 7.
———————————————————————————–—
از قلم محمد اویس العطاری المصباحی
والله تعالیٰ اعلم بالصواب

