کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کے کیا کیا نقصانات ہیں

کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کے نقصانات پر فتویٰ مسئلہ

 کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کے کیا کیا نقصانات ہیں؟     


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ


`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`


       *اولا تو یہ یاد رہے کہ بلا عذر کھڑے ہو کر پیشاب کرنا مکروہ ہے، نیز کھڑے ہو کر پیشاب کرنے میں شرعی اور طبی دونوں طرح کے نقصانات ہیں۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”یکرہ ان یبول قائماً أو مضطجعاً“ 

ترجمہ: کھڑے ہو کر یا لیٹ کر پیشاب کرنا مکروہ ہے۔ (1) 


کھڑے ہو کر پیشاب کرنے میں *شرعاً حرج* یہ ہے کہ بدن اور کپڑوں پر چھینٹیں پڑیں گی، جسم و لباس کو بلا ضرورت شرعیہ ناپاک کرنا پایا جائے گا اور یہ حرام ہے، ان چھینٹوں کے سبب عذابِ قبر کا مستحق ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ 

اور طبی نقصانات بیان کرتے ہوئے *امیرِ اہلِ سنت مولانا الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ* لکھتے ہیں: ” افسوس!آج کل کھڑے کھڑے پیشاب کرنے کا عام رواج ہو چکا ہے بالخصوص مَطار (AIR PORT)اور دیگر خاص خاص مقامات پر کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا مخصوص انتظام ہوتا ہے۔اِس طرح پیشاب کرنے سے جہاں سنّت فو ت ہوتی ہے وہاں اِس کے طبّی نقصانات بھی ہیں چُنانچِہ طبّی تحقیق کے مطابِق کھڑے کھڑے پیشاب کرنے سے مَثانے کا غُدود  مُتَوَرِّم ( مُ۔تَ۔وَر۔رِم )ہوکر(یعنی سُوج کر)بڑھ جاتا ہے جس کے باعث پیشاب تکلیف سے آنے،دھار پتلی ہونے،قطرہ قطرہ آنے بلکہ پیشاب بند ہو جانے کے اَمراض پیدا ہو سکتے ہیں۔کھڑے کھڑے پیشاب کرنے والے بعض لوگ بِغیر دھوئے یا بے خشک کئے پینٹ کا بٹن یا زنجیر بند کر لیتے ہیں جس سے ان کی رانوں وغیرہ پر پیشاب کے چھینٹے گرتے ہیں ، اِس طرح بلا عُذر بدن کو ناپاک کرنے والے گناہ گار ہونے کے ساتھ ساتھطباً بھی نقصان میں پڑ سکتے ہیں ایک  مُسْتَشْرِق   ( مس۔تَش۔رِق ۔یعنی ایسا فَرنگی (یورپین فرد ) جو مَشرِقی زَبانوں مثلاً اُردو وغیرہ کا ماہِر ہو)ڈاکٹر جانٹ مِلن(Dr.Jaunt Milen)کہتا ہے : سُرِینوں(سُ۔ری۔نوں یعنی بدن کا وہ حصّہ جوبیٹھنے میں زمین پرلگتا ہے وہ)اوراُس کے اطراف کی الرجی،رانوں کی کُھجلی اورپُھڑیوں،پَیڑُو(یعنی ناف کے نیچے کے حصّے)کی کھال اُدھڑنے کی بیماری،پردے کی مخصوص جگہ کے زَخم کے مریض جب میرے پاس آتے ہیں تو ان میں اکثر وُہی ہوتے ہیں جو پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتے۔“  (2) 

وضو کے درمیان سلام کرنا اور اس کا جواب دینا کیسا ہے مزید پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں https://sadaeqalb1.blogspot.com/2025/07/blog-post_44.html

==============================

(1) `فتاویٰ عالمگیری`، کتاب الطھارہ، باب النجاسۃ و احکامھا،جلد:1، صفحہ:56.

(2) `نیکی کی دعوت کیسے دیں؟`، صفحہ:4، مکتبہ المدینہ. 

والله تعالیٰ اعلم بالصواب

`مصدق`:مفتی عارف مصباحی حفظہ اللہ

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.