واقعہ کربلا اور ہمارا عملی جائزہ

واقعہ کربلا اور ہمارا عملی جائزہ مضمون

واقعہ کربلا اور ہمارا عملی جائزہ

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

-------------------------------------------

کربلا کا واقعہ یقیناً حق ہے تواتر کے ساتھ ثابت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔
10 محرم الحرام 61 ھ میں تاریخِ اسلام کا ایک اِنتہائی دَرْدْناک واقعہ پیش آیا کہ جب خاندان ِ اہل ِ بیت اور ان کےجانثار رُفَقا کو یزیدی لشکر نے بھوک پیاس کی حالت میں شہید کر دیا ۔جہاں یہ تاریخی واقعہ رُونما ہوا اس جگہ کا نام ”کربلا“ ہے۔ کربلا نَجَف سے 80 کلو میٹر اور بغداد سے 103 کلو میٹر کے فاصلے پر نہرِ فرات کے قریب واقع ہےجبکہ کوفہ سےتقریباً 75 کلومیٹر دور ہے۔ پہلے یہ صحرا تھا لیکن اب یہ ملکِ عراق کاشہر ہے۔

واقعہ کربلا میں ہمارے لیےصبرو تحمل رضا و تسلیم کا بہت مکمل درس ہے اور پابندی احکام شریعت و اتباع سنت کا زبردست عملی ثبوت ہے کہ دین حق کی حفاظت میں تمام اعزہ و اقربا و رفقا اور خود اپنے کو راہِ خدا میں قربان کیا اور جزع و فزع کا نام بھی نہ آنے دیا۔ لیکن آج ہم اپنے اوپر غور و خوض کریں کہ ہم نے کربلا کے واقعے سے کیا سیکھا؟ ہم حسین کو تو مانتے ہیں لیکن حسین کی نہیں مانتے، امامِ حُسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کربلا کے میدان میں بھی نماز نہ چھوڑی اور ہم اتنی سہولتیں ہونے کے باوجود بلا عذر نماز چھوڑ دیتے ہیں، کربلا میں آپ نے سب کچھ قربان کر کے بھی صبر کا دامن نہ چھوڑا اور ہم معمولی سی مصیبت آنے پر جزع فزع اور اپنے اوپر سے صبر کا لباس اتار دیتے ہیں۔

آج ہمارا معاشرہ خرافات سے مملوء ہے، طرح طرح کی بدعات، بے پردگی، علم سے نا آشنائی علماء سے دوری، گناہوں میں ملوث، یہ تمام برائیاں ہماری قوم نے زیبِ تن کر لی ہیں۔

عشرۂ محرم میں طرح طرح کے ڈھانچے بناتے اور ان کو حضرت سیدنا امام حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے روضۂ پاک کی شبیہ کہتے ہیں ، کہیں تخت بنائے جاتے ہیں ، کہیں ضریح بنتی ہے اور علم اور شدے نکالے جاتے ہیں ، ڈھول تاشے اور قسم قسم کے باجے بجائے جاتے ہیں ، تعزیوں کا بہت دھوم دھام سے گشت ہوتا ہے، آگے پیچھے ہونے میں جاہلیت کے سے جھگڑے ہوتے ہیں ، کبھی درخت کی شاخیں کاٹی جاتیں ہیں ، کہیں چبوترے کھودوائے جاتے ہیں ، تعزیوں سے منتیں مانی جاتی ہیں ، سونے چاندی کے عَلَم چڑھائے جاتے ہیں ،ہار پھول ناریل چڑھاتے ہیں ، وہاں جوتے پہن کر جانے کو گناہ جانتے ہیں بلکہ اس شدت سے منع کرتے ہیں کہ گناہ پر بھی ایسی ممانعت نہیں کرتے چھتری لگانے کو بہت برا جانتے ہیں ۔تعزیوں کے اندر دو مصنوعی قبریں بناتے ہیں ، ایک پر سبز غلاف اور دوسری پر سرخ غلاف ڈالتے ہیں ، سبز غلاف والی کو حضرت سیدنا امام حسن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی قبر اور سرخ غلاف والی کو حضرت سیدنا امام حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی قبر یا شبیہ قبر بتاتے ہیں اور وہاں شربت مالیدہ وغیرہ پر فاتحہ دلواتے ہیں ۔ یہ تصور کرکے کہ حضرت امام عالی مقام کے روضہ اور مواجہۂ اقدس میں فاتحہ دلارہے ہیں پھر یہ تعزیے دسویں تاریخ کو مصنوعی کربلا میں لے جا کر دفن کرتے ہیں گویا یہ جنازہ تھا جسے دفن کر آئے پھر تیجہ دسواں چالیسواں سب کچھ کیا جاتا ہے اور ہر ایک خرافات پر مشتمل ہوتا ہے۔

حضرت قاسم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی منہدی نکالتے ہیں گویا ان کی شادی ہورہی ہے اور منہدی رچائی جائے گی اور اسی تعزیہ داری کے سلسلہ میں کوئی پیک بنتا ہے جس کے کمرسے گھنگرو بندھے ہوتے ہیں گویا یہ حضرت امام عالی مقام کا قاصد اور ہر کارہ ہے جو یہاں سے خط لے کر ابن زیاد یا یزید کے پاس جائے گا اور وہ ہر کاروں کی طرح بھاگا پھرتا ہے۔

کسی بچہ کو فقیر بنایا جاتا ہے اوس کے گلے میں جھولی ڈالتے اور گھر گھر اس سے بھیک منگواتے ہیں ، کوئی سقہ بنایا جاتا ، چھوٹی سی مشک اس کے کندھے سے لٹکتی ہے گویا یہ دریائے فرات سے پانی بھر کر لائے گا، کسی علَم پر مشک لٹکتی ہے اور اس میں تیر لگا ہوتا ہے، گویا یہ حضرت عباس علَم دار ہیں کہ فُرات سے پانی لارہے ہیں اور یزیدیوں نے مشک کو تیر سے چھید دیا ہے، اسی قسم کی بہت سی باتیں کی جاتی ہیں یہ سب لغوو خرافات ہیں ان سے ہر گز سیدنا حضرت امام حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ خوش نہیں یہ تم خود غور کرو کہ انھوں نے اِحیائے دین و سنت کے لیے یہ زبردست قربانیاں کیں اور تم نے معاذ اﷲ اس کو بدعات کا ذریعہ بنالیا۔

بعض جگہ اسی تعزیہ داری کے سلسلہ میں براق بنایا جاتا ہے جو عجب قسم کا مجسمہ ہوتا ہے کہ کچھ حصہ انسانی شکل کا ہوتا ہے اور کچھ حصہ جانور کا سا۔ شاید یہ حضرت امام عالی مقام کی سواری کے لیے ایک جانور ہوگا۔ کہیں دلدل بنتا ہے، کہیں بڑی بڑی قبریں بنتی ہیں ، بعض جگہ آدمی ریچھ، بندر، لنگور بنتے ہیں اور کودتے پھرتے ہیں جن کو اسلام تو اسلام انسانی تہذیب بھی جائز نہیں رکھتی ایسی بری حرکت ،اسلام ہرگز جائز نہیں رکھتا۔ افسوس کہ محبت اہلِ بیت کرام کا دعویٰ اور ایسی بے جا حرکتیں یہ واقعہ تمھارے لیے نصیحت تھا اور تم نے اس کو کھیل تماشہ بنالیا۔ اسی سلسلے میں نوحہ و ماتم بھی ہوتا ہے اور سینہ کوبی ہوتی ہے، اتنے زور زور سے سینہ کوٹتے ہیں کہ ورم ہوجاتا ہے، سینہ سرخ ہوجاتا ہے بلکہ بعض جگہ زنجیروں اور چھریوں سے ماتم کرتے ہیں کہ سینے سے خون بہنے لگتا ہے۔ تعزیوں کے پاس مرثیہ پڑھا جاتا ہے اور تعزیہ جب گشت کو نکلتا ہے اس وقت بھی اس کے آگے مرثیہ پڑھا جاتا ہے، مرثیہ میں غلط واقعات نظم کیے جاتے ہیں ، اہل بیتِ کرام کی بے حرمتی اور بے صبری اور جزع فزع کا ذکر کیا جاتا ہے اور چونکہ اکثر مرثیہ رافضیوں ہی کے ہیں ، بعض میں تَبَرَّا بھی ہوتا ہے مگر اس رو میں سنّی بھی اسے بے تکلف پڑھ جاتے ہیں اور انھیں اس کا خیال بھی نہیں ہوتا کہ کیا پڑھ رہے ہیں ، یہ سب ناجائز اور گناہ کے کام ہیں۔

*اللہ پاک ہمیں ان باتوں سے بچنے اور امام حُسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین*

`عاشورا کے فضائل:`
اسلامی سال کا پہلا مہینا مُحرّمُ الْحَرَام ہے جو نہایت عظمتوں اوربرکتوں والا ہےبِالخصوص اس ماہ کی10 تاریخ یعنی عاشُوْرا کےدن کو دینِ اسلام میں غیرمعمولی حیثیت حاصل ہے چنانچہ نبیِّّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود اس دن روزہ رکھا اورصحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کو بھی اس دن روزہ رکھنے کاحکم ارشاد فرمایا۔ (بخاری،ج 1،ص656، حدیث: 2004 ماخوذاً) بلکہ اسلام سے قبل بھی لوگ اس دن کا اَدب و اِحترام کرتے اور اس دن روزہ رکھا کرتے تھے۔

عاشورا کا روزہ گُناہ مِٹاتاہے:نبیِّ رَحْمت، شفیعِ اُمّت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالی شان ہے:مجھے اللہ پاک کے کرم سے اُمّید ہے کہ عاشورا کا روزہ ایک سال قبل کے گُناہ مِٹا دیتا ہے۔(مسلم، ص454، حدیث: 2746)


شبِ عاشورا کاعمل
عاشوراکی رات آئے تو یہ عمل کیجئے: عاشوراء کی رات میں چارنفل اس طرح ادا کیجئے کہ ہر رَکْعَت میں سُورۂ فاتحہ کے بعد آیۃُ الکرسی ایک بار اور سُورۂ اِخْلَاص (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱))(اس اٰیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)پوری سورت) تین تین بار پڑھئے پھر نماز سے فارغ ہوکر سو مرتبہ سُورۂ اِخْلَاص(قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ) (پوری سورت) پڑھئے۔ اس کی برکت سے گناہوں سے پاک ہوگا اور بِہِشْت (جنّت) میں بے انتہا نعمتیں ملیں گی۔ (جنتی زیور،ص157بتغیر)

رِزْق میں فراخی کانسخہ: فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: جو دس محرم کو اپنے بچّوں کے خرچ میں فَراخی (یعنی کشادگی) کرےگا تو ﷲ پاک سارا سال اس کو فراخی دےگا۔ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ہم نے اس حدیث کا تجربہ کیا تو ایسے ہی پایا۔(مشکاۃ المصابیح،ج1،ص365، حدیث:1926)

عاشورا کے دن کی دس نیکیاں:
عاشورا کے دن 12 چیزوں کو عُلَما نے مستحب لکھا ہے:(1)روزہ رکھنا(2)صدقہ کرنا (3) نفل نماز پڑھنا (4)ایک ہزارمرتبہ قُلْ هُوَ اللّٰهُ پڑھنا (5)عُلَما کی زیارت کرنا (6)یتیم کے سَر پر ہاتھ پھیرنا (7)اپنے اہل و عِیال کے رِزْق میں وُسْعت کرنا (8)غسل کرنا (9) سُرمہ لگانا (10)ناخن تراشنا (11)مریضوں کی بیمار پُرسی کرنا (12)دشمنوں سے مِلاپ (یعنی صلح صفائی ) کرنا۔(جنتی زیور، ص158ملخصاً)۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.