آئیے غمگین دِل کو پُر سُکون کریں
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
---------------◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆----------------
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:”اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُ“ یعنی: سُن لو اللہ کی یاد ہی میں دِلوں کا چین ہے۔(اَلرَّعْد: 13، آیت:28)
حضرات آج ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی بیمار ہے، کوئی قرضدار ہے، کوئی گھریلو ناچاقیوں کا شکار ہے کوئی تنگدست بے روزگار، کوئی اولاد کا طلبگار ہے تو کوئی نافرمان اولاد کی وجہ سے بیزار، الغَرَض ہر ایک کسی نہ کسی مصیبت میں گرفتار ہے یقیناً دُنیا اور آخرت کی ہر پریشانی کا حل اللہ عزَّوجلَّ اور اس کے پیارے حبیب ﷺ کے بتائے ہوئے کاموں میں لگ جانا ہے۔
ہم پر جو پریشانی آتی ہیں ان کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، ایک وجہ اپنے ہاتھوں کی کمائی(یعنی گناہ کرنا) بھی ہو سکتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:”وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ“
ترجمہ: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرما دیتا ہے۔(سورۃ الشورٰی، آیت:30)
یاد رہے! اس آیت میں ان مُکَلَّف مومنین سے خطاب ہے جن سے گناہ سرزد ہوتے ہیں اور مراد یہ ہے کہ دنیا میں جو تکلیفیں اور مصیبتیں مومنین کو پہنچتی ہیں اکثر اُن کا سبب ان کے گناہ ہوتے ہیں ،اُن تکلیفوں کو اللہ تعالیٰ اُن کے گناہوں کا کفارہ کر دیتا ہے اور کبھی مومن کی تکلیف اس کے درجات کی بلندی کے لئے ہوتی ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں پر آنے والی مصیبتوں کا ایک سبب ان کا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کرنا ہے،اگر یہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے رہیں تو مصیبتوں سے بچ سکتے ہیں ، جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا’’ (اے لوگو!) تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے ’’اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں انہیں رات میں بارش سے سیراب کروں گا، دن میں ان پر سورج کو طلوع کروں گا اور انہیں کڑک کی آواز تک نہ سناؤں گا۔( مسند امام احمد، مسند ابی ہریرۃرضی اللّٰہ عنہ، ۳ / ۲۸۱، الحدیث: ۸۷۱۶)
نیز انہیں چاہئے کہ ان پر اپنے ہی اعمال کی وجہ سے جو مصیبتیں آ تی ہیں ان میں بے صبری اور شکوہ شکایت کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ انہیں اپنے گناہوں کا کفارہ سمجھتے ہوئے صبر و شکر سے کام لیں(تفسیرِ صِرَاطُ الجِنان،سورۃ الشُّوْرٰی:42، تحت الآیة:30)
اگر ہم پر کوئی پریشانی آئے تو ہمیں چاہیے کہ صبر کریں اور نیکیاں کمائیں۔ نہ یہ کہ بے صبر کرکے اپنی مشکلوں کو بڑھائیں۔ اگر ہم پر کوئی پریشانی آتی ہے ہم گناہ گاروں کے گناہ کم ہوتے ہیں اور جو نیکوکار ہوتے ہیں ان درجات بلند ہوتے ہیں۔ تبھی ہماری مشکلیں آسان ہونگی یاد رکھنا ہر چیز آسان ہونے سے پہلے مُشکل ہی ہوتی ہے۔
ترغیب کے لیے ★مصیبت و بیماری کے 8 فضائل احادیث کی روشنی میں ملاحظہ ہوں:
حدیث(1)..: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهٖ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ” . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ترجمہ:*”روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله جس کا بھلا چاہتا ہے اس کو مصیبت دیتا ہے۔“(بخاری)
حدیث(2)...: ”روایت ہے انہی سے اورحضرت ابوسعید سے وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ مسلمان کو تکلیف بیماری غم و رنج ایذائےغم حتی کہ کانٹا جو اسے لگے نہیں پہنچتا مگر الله اس کی برکت سے خطائیں مٹا دیتا ہے۔“(مسلم،بخاری)
حدیث(3)...:”روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم حضرت ام السائب کے پاس تشریف لائے تو فرمایا کہ تمہیں کیا ہوا کہ کانپ رہی ہو،بولیں بخار ہے اس کا ستیاناس ہو فرمایا بخارکو برا نہ کہو وہ تو انسان کی خطائیں ایسے دورکرتا ہے جیسےبھٹی لوہے کے میل کو۔“ (مسلم)
حدیث(4)...:”روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا بندے کومصیبت یا اس سے کم و بیش تکلیف گناہ کے بغیرنہیں پہنچتی اورجوکچھ رب معاف کردیتا ہے وہ بہت ہے اور آیت یہ تلاوت کی جو مصیبت تمہیں پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی سےتھی رب تو بہت معافی دیتاہے۔“(ترمذی)
حدیث(5)...:”روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بڑا ثواب بڑی بلاءکے ساتھ ملتا ہے الله تعالٰی جب کسی قوم سےمحبت کرتا ہے تو انہیں مبتلاکردیتا ہے جو راضی ہوتا ہے اس کے لیئے رضا ہے اور جو ناراض ہوتا ہے اس کے لیئے ناراضی ہے۔“(ترمذی،ابن ماجہ)
حدیث(6)...:”روایت ہے حضرت محمد ابن خالدسلمی سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب کسی بندہ کے لیئے کوئی درجہ رب کی طرف سے مقدر ہوچکا ہوجہاں تک یہ اپنے عمل سے نہیں پہنچ سکتاتو الله اسے اس کےجسم یا مال یا اولاد کی آفت میں مبتلاکردیتا ہے پھر اسے اس پرصبربھی دیتا ہے حتی کہ اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے جو رب کی طرف سے اس کے لیے مقدر ہوچکا۔“(احمد،ابوداؤد)
حدیث(7)...:”روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قیامت کے دن جب بلاء والوں کو ثواب دیا جائے گا تو آرام والے تمنا کریں گے کہ کاش ان کی کھالیں دنیا میں قینچیوں سے کاٹی گئی ہوتیں۔“(ترمذی)
حدیث(8)...:”روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب بندے کے گناہ زیادہ ہوجاتے ہیں اور اس کے پاس گناہ مٹانے والا عمل نہیں ہوتا تو الله اسے غم میں مبتلاکردیتا ہے تاکہ اس کے گناہ مٹادے۔“(احمد)
اگر ہم انبیاء علیہم السلام کی زندگی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ کیسی کیسی مصائب و اعلام کا سامنا کیا مگر زبان پر کبھی کوئی شکوہ نہیں آیا اور صبر کیا۔
★صبر کرنے کے بہت فوائد
*اللہ تعالیٰ* ارشاد فرماتا ہے:”اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ“
ترجمہ : بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔
*حضرت علامہ نصر بن محمد سمرقندی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ* فرماتے ہیں:’’ اللہ تعالیٰ (اپنے علم و قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن یہاں صبر کرنے والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔(تفسیر سمرقندی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۵۳، ۱ / ۱۶۹)
قرآن و حدیث اور بزرگان دین کے اقوال میں صبر کے بے پناہ فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ترغیب کے لئے ان میں سے 10فضائل کا خلاصہ درج ذیل ہے:
(1)… اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (پ ۱۰، الانفال: ۴۶)
(2)…صبر کرنے والے کو اس کے عمل سے اچھا اجر ملے گا۔(پ۱۴، النحل: ۹۶)
(3)… صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر ملے گا۔ (پ۲۳، الزمر: ۱۰)
(4)…صبر کرنے والوں کی جزاء دیکھ کر قیامت کے دن لوگ حسرت کریں گے۔(معجم الکبیر، ۱۲ / ۱۴۱، الحدیث: ۱۲۸۲۹)
(5)…صبر کرنے والے رب کریم عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے درودو ہدایت اور رحمت پاتے ہیں۔ (پ۲، البقرۃ: ۱۵۷)
(6)… صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں۔(پ۴، آل عمران: ۱۴۶)
(7)… صبر آدھا ایمان ہے۔(مستدرک، کتاب التفسیر، الصبر نصف الایمان، ۳ / ۲۳۷، الحدیث: ۳۷۱۸)
(8)… صبر جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، بیان فضیلۃ الصبر، ۴ / ۷۶)
(9)…صبر کرنے والے کی خطائیں مٹا دی جاتی ہیں۔(ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الصبر علی البلاء، ۴ / ۱۷۹، الحدیث: ۲۴۰۷)
(10)…صبر ہر بھلائی کی کنجی ہے۔(شعب الایمان، السبعون من شعب الایمان، فصل فی ذکر ما فی الاوجاع۔۔۔ الخ، ۷ / ۲۰۱، رقم: ۹۹۹۶)
نیز ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگیں، دُعا مانگنے کے بے شمار فوائد ہیں۔
*★دعا کے متعلق 5 احادیث ِ طیبہ ملاحظہ ہوں:* اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی چیز دُعا سے بزرگ تَر نہیں۔ (ترمذی،ج:5،ص:243، حدیث:3381)
*٭* دُعا مصیبت و بلا کو اُترنے نہیں دیتی۔ (مستدرک،ج:2،ص:162، حدیث:1856)
*٭* دُعا مسلمانوں کا ہتھیار، دین کا ستون اور آسمان و زمین کا نور ہے۔ (مستدرک،ج:2،ص:162، حدیث:1855)
*٭* اللہ تعالیٰ دعا کرنے والے کے ساتھ ہوتا ہے۔ (مسلم، ص:1442، حدیث: 2675)
*٭* دعا بلا کو ٹال دیتی ہے۔ (کنز العمال،ج 2،ص63، حدیث:3121)
*فائدہ:* میرا آپ حضرات سے مدنی مشورہ ہے کہ آپ اپنی پریشانی اُسی کو بتائیں جو آپ کی پریشانی سُننے کے قابل ہو۔
*اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اطاعت میں مصروف رہنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،مشکلات اور مَصائب سے ہماری حفاظت فرمائے اور آنے والی مشکلات پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔*
-------------------------------------------
عالم کو برا کہنے والے کا حکم کیا ہے مکمل ضرور پڑھیں
https://sadaeqalb1.blogspot.com/2025/07/Alim-ko-bura-kahne-wale-ka-hukm.html
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی

.png)