حضور فخر ملت علامہ نذیر الاکرم نعیمی مرادآبادی علیہ الرحمہ — ایک عہد ساز شخصیت
✍️ از قلم: محمد کونین صدیقی کٹیہاری
-----------------------------------------------------------------
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تاریخ کے اوراق میں بعض شخصیات ایسی بھی گزری ہیں جن کی حیات ایک چراغِ راہ بھی ہے اور قافلۂ ملت کے لیے نشانِ منزل بھی۔ ایسی ہی درخشاں شخصیت کا نام حضور فخر ملت علامہ الشاہ حکیم مفتی محمد نذیر الاکرم نعیمی مرادآبادی علیہ الرحمۃ والرضوان ہے، جنہوں نے نہ صرف ہند بلکہ افریقی و یورپی ممالک میں بھی مسلک اعلیٰ حضرت کی شمع فروزاں کی اور اصلاحِ ملت کے آفتاب و ماہتاب بن کر دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں علم و روحانیت کا چراغ جلایا۔
: ولادتِ مبارکہ
مرادآباد کی عظیم علمی فضاؤں میں ۲۹ صفر المظفر ۱۳٤٤ھ / ۱۹ ستمبر ۱۹۲۵ء بروز پیر وہ مقدس صبح طلوع ہوئی جب اس مردِ قلندر نے آنکھ کھولی۔ آپ کا خاندانی شجرہ علم و تقویٰ کی مضبوط جڑوں سے وابستہ تھا۔ والد ماجد حضرت مولانا ظہور احمد نعیمی علیہ الرحمہ علمِ نجوم، توقیت اور فقہ میں یکتائے روزگار تھے اور جامعہ نعیمیہ کے معاون خاص تھے۔
:تعلیم و تربیت
حضور فخر ملت نے تعلیم کی پہلی روشنی اپنے والد ماجد سے پائی۔ بسم اللہ خوانی کی سعادت بھی والد محترم کے ہاتھوں ہوئی۔ جلد ہی قرآن پاک حفظ کیا اور مرادآباد کی عظیم دینی درس گاہ جامعہ نعیمیہ میں درس نظامی کی تکمیل کی۔ صدر الافاضل علامہ سید نعیم الدین مرادآبادی قدس سرہ جیسے اساطین علم کی خصوصی تربیت نے آپ کو فقہ و فتویٰ، فکر و سیاست اور دعوت و تبلیغ کے رموز سے آشنا کیا۔ یہی نہیں بلکہ دستار فضیلت کے موقع پر صدر الافاضل نے ’’الولد الاعز‘‘ (سب سے پیارا بیٹا) کہہ کر آپ پر اپنی شفقت کا انمول تاج رکھ دیا۔
: فنِ طب کی طرف رخ
درسِ نظامی کے بعد علمِ طب میں بھی مہارت حاصل کی۔ بمبئی طبیہ کالج سے سند حاصل کی اور حکیم شاہ فضل رحیم جیسے جلیل القدر طبیب کی زیر نگرانی رہے۔ طبابت کو خدمتِ خلق کا ذریعہ بنایا اور بمبئی دواخانہ کے نام سے مرادآباد و رام نگر میں مطب قائم کیا۔ عوامی فلاح کے لیے حکیم اجمل خان جیسے اساتذۂ فن نے بھی مبارک باد دی۔
: بیعت و خلافتروحانیت کی بزم میں حضور فخر ملت علیہ الرحمہ سلسلۂ اشرفیہ کے عظیم بزرگ اعلیٰ حضرت اشرفی میاں قدس سرہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔ مزید کئی سلاسلِ عالیہ کی خلافت و اجازت حاصل تھی۔ حضور صدر الافاضل، حضور مفتی اعظم ہند اور قطب مدینہ جیسے بزرگوں کی دعائیں اور خلافتیں بھی فخر ملت کے حصے آئیں۔ ایسی طرح ظاہر و باطن دونوں علوم کے جامع بن گئے۔
: تبلیغی اسفار
آپ نے دین و سنیت کی دعوت کو صرف مقامی حدود تک محدود نہ رکھا، بلکہ برصغیر سے نکل کر افریقہ، یورپ، مشرق وسطیٰ تک پہنچے۔ ماریشش، ساؤتھ افریقہ، برطانیہ، فرانس، مصر، عراق، سعودی عرب سمیت کئی ممالک میں مسلک اعلیٰ حضرت کے پیغام کو عام کیا۔ آج بھی ان ممالک کی فضاوں میں آپ کے فیض کی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے۔
: درس وتدریس
اگر چہ باقاعدہ تدریسی سلسلہ زیادہ جاری نہ رہ سکا، مگر جامعۃ الاشرفیہ جیسے عظیم ادارے میں بخاری شریف جیسے اعلیٰ درجے کے امتحانات میں بطور ممتحن شرکت کی۔ یہ علمی مقام ہی تو تھا کہ آپ کے سامنے شیخ الاسلام مدنی میاں جیسے جلیل القدر علما زانوے تلمذ تہہ کرتے۔
:تعمیری و ملی خدمات
حضور فخر ملت علیہ الرحمہ نے چو د ھر پو ر، ضلع مرادآباد میں دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کا خواب دیکھا اور ۱۶۲ بیگھہ زمین پر ادارے کا سنگِ بنیاد رکھا۔ مدرسہ اکرم العلوم، نعیمیہ انسٹی ٹیوٹ، مرکزی جمعیت اہل سنت، ولڈ ہیومین ویلفیئر، جلوسِ میلاد النبی، قومی یکجہتی کمیٹیاں— یہ سب حضور فخر ملت کی بصیرت، تنظیمی صلاحیت اور ملت کے لیے بے لوث جذبے کا عملی ثبوت ہیں۔
: صفات و خصائص
پیکر علم و حلم، نفیس مزاج، شاہانہ طرزِ زندگی، درویشانہ نشست گاہ— آپ کی مجلس علم، لطافت، حکمت، ظرافت اور اخلاص کا خوبصورت سنگم ہوتی۔ فکر و شعر کے بادشاہ آپ کے در پر نیازمند بن کر آتے۔ خندہ پیشانی، سلاست لسانی، فراخدلی اور حوصلہ افزائی آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔
:حج و زیارت
زندگی میں دو بار حج بیت اللہ کی سعادت پائی۔ پہلی بار اپنے والد، صدر الافاضل اور مرشد گرامی کے ہمراہ ۱۹۳۴ء میں اور دوسری مرتبہ ۱۹۷۰ء میں۔
: وصال پر ملال
۱۸ محرم الحرام۱۴۰۱ھ / ۲۷ نومبر ۱۹۸۰ء کو اس مردِ درویش نے ۵۵ سال کی عمر میں دنیا کو الوداع کہا۔ وصال کے روز مرادآباد میں کرفیو تھا، مگر عاشقان کی ٹوٹتی موجوں نے ضلع انتظامیہ کو کرفیو اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ ایک لاکھ پروانے نمِ دیدہ ہوکر اپنے شمع علم و عمل کو لال مسجد کے عقب ایک بزرگ کے مزار کے پاس سپردِ خاک کر آئے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
مزید: حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی مختصر سوانح حیات ضرور پڑھیں 👇
https://sadaeqalb1.blogspot.com/2025/07/blog-post_16.html?m=1

.png)