_انجمن میں دورانِ تلاوتِ قرآن ایک شخص نے بلند آواز سے ”احسن“ کہا، اس طرح کہنا کیسا ہے؟_
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
-----------------------------------------------
حکمِ شَرع یہ ہے کہ جب قرآن پاک کی تلاوت کی جائے تو خاموش رہنا اور غور سے سُننا واجب ہے خواہ حالتِ نماز میں ہو یا خارجِ نماز ہو اس وقت باتیں کرنا یا شور و غُل کرنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ گناہ ہے۔ اور قُرآن پاک کے ادب کے خلاف ہے، لہذا اثنائے تلاوتِ قرآن لفظِ ”احسن“ بلند آواز سے یا کوئی اور لفظ کہنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔*
قرآن پاک میں ہے : `”وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ“` (1)
ترجمہ : اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔
اس آیت کے تحت تفسیرِ طبری میں ہے: ﴿إذا قرئ﴾ ، عليكم، أيها المؤمنون، ﴿القرآن فاستمعوا له﴾ ، يقول: أصغوا له سمعكم، لتتفهموا آياته، وتعتبروا بمواعظه(١) = ﴿وأنصتوا﴾ ، إليه لتعقلوه وتتدبروه، ولا تلغوا فيه فلا تعقلوه = ﴿لعلكم ترحمون﴾ ، يقول: ليرحمكم ربكم باتعاظكم بمواعظه، واعتباركم بعبره، واستعمالكم ما بينه لكم ربكم من فرائضه في آيه. (2)
تفسیرِ کبیر میں ہے: قَوْلُهُ تَعالى: ﴿وإذا قُرِئَ القُرْآنُ فاسْتَمِعُوا لَهُ وأنْصِتُوا لَعَلَّكم تُرْحَمُونَ﴾ .
اعْلَمْ أنَّهُ تَعالى لَمّا عَظَّمَ شَأْنَ القُرْآنِ بِقَوْلِهِ: ﴿هَذا بَصائِرُ مِن رَبِّكُمْ﴾ أرْدَفَهُ بِقَوْلِهِ: ﴿وإذا قُرِئَ القُرْآنُ فاسْتَمِعُوا لَهُ وأنْصِتُوا لَعَلَّكم تُرْحَمُونَ﴾ وفي الآيَةِ مَسائِلُ:
المَسْألَةُ الأُولى: الإنْصاتُ السُّكُوتُ والِاسْتِماعُ، يُقالُ: نَصَتَ، وأنْصَتَ، وانْتَصَتَ، بِمَعْنًى واحِدٍ.
المَسْألَةُ الثّانِيَةُ: لا شَكَّ أنَّ قَوْلَهُ: ﴿فاسْتَمِعُوا لَهُ وأنْصِتُوا﴾ أمْرٌ، وظاهِرُ الأمْرِ لِلْوُجُوبِ، فَمُقْتَضاهُ أنْ يَكُونَ الِاسْتِماعُ والسُّكُوتُ واجِبًا، ولِلنّاسِ فِيهِ أقْوالٌ.
القَوْلُ الأوَّلُ: وهو قَوْلُ الحَسَنِ وقَوْلُ أهْلِ الظّاهِرِ: أنّا نُجْرِي هَذِهِ الآيَةَ عَلى عُمُومِها فَفي أيِّ مَوْضِعٍ قَرَأ الإنْسانُ القُرْآنَ وجَبَ عَلى كُلِّ أحَدٍ اسْتِماعُهُ والسُّكُوتُ، فَعَلى هَذا القَوْلِ يَجِبُ الإنْصاتُ لِعابِرِي الطَّرِيقِ ومُعَلِّمِي الصِّبْيانِ. (3)
تفسیرِ جلالین میں ہے: وإذا قُرِئَ القُرْآن فاسْتَمِعُوا لَهُ وأَنْصِتُوا﴾ عَنْ الكَلام ﴿لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ نَزَلَتْ فِي تَرْك الكَلام فِي الخُطْبَة وعَبَّرَ عَنْها بِالقُرْآنِ لِاشْتِمالِها عَلَيْهِ وقِيلَ فِي قِراءَة القُرْآن مُطْلَقًا. (4)
تفسیرِ صراطُ الجنان میں ہے: {وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ:اور جب قرآن پڑھا جائے۔} اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کی عظمت بیان فرمائی تھی کہ قرآنِ پاک کی آیات تو تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھول دینے والے دلائل ہیں اور ایمان لانے والے لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے اورا س آیت میں بتایا ہے کہ اس کی عظمت وشان کا تقاضا یہ ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنا جائے اور خاموش رہا جائے۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۰۴، ۵ / ۴۳۹)
علامہ عبداللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس وقت قرآنِ کریم پڑھا جائے خواہ نماز میں یا خارجِ نماز اُس وقت سننا اور خاموش رہنا واجب ہے۔ (مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۰۴، ص۴۰۱) (5)
تفسیرِ خزائنُ العرفان میں ہے: مسئلہ: اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس وقت قرآنِ کریم پڑھا جائے خواہ نماز میں یا خارِجِ نماز ، اس وقت سننا اور خاموش رہنا واجب ہے۔ (6)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تحریر فرماتے ہیں: قرآن مجید پڑھا جائے اسے کان لگا کر غور سے سننا اور خاموش رہنا فرض ہے:
قال اﷲ تعالٰی " وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَاَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾" ۔ الله تعالٰی نے ارشاد فرمایا:جب قرآن مجید پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر(بغور)سنو اور خاموشی اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (7)
بہارِ شریعت میں ہے: جب بلند آواز سے قرآن پڑھا جائے تو تمام حاضرین پر سُننا فرض ہے، جب کہ وہ مجمع بغرض سُننے کے حاضر ہو ورنہ ایک کا سُننا کافی ہے، اگر چہ اور اپنے کام میں ہوں۔ (8)
مسجد کے علاوہ دوسرے مقامات میں نماز پڑھنے والے کا حکم ضرور پڑھیں 👇
—ـــــ—————————————————
*(1)* `قرآن مجید` ، سورہ:اعراف، 7، آیت:204.
*(2)* `تفسیرِ طبری`، سورہ:اعراف، زیرِ آیت:204.
*(3)* `تفسیرِ کبیر`، سورہ:اعراف، زیرِ آیت:204.
*(4)* `تفسیرِ جلالین`، سورہ:اعراف، زیرِ آیت:204.
*(6)* `تفسیرِ خزائنُ العرفان`، سورہ:اعراف، زیرِ آیت:204.
*(5)* `تفسیرِ صراطُ الجنان`، سورہ:اعراف، زیرِ آیت:204.
*(7)* `فتاویٰ رضویہ`، ج:23، ص:353.
*(8)* `بہارِ شریعت`، ج:1، ح:3، ص:552.
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی انہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔

.png)