بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعثِ مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

تلاوت کے درمیان سلام کا جواب دینا


یہ بتائیں کہ اگر کوئی شخص قرآن شریف کی تلاوت کر رہا ہے تو کسی نے اس کو سلام کیا تو اس کا جواب دے سکتے ہیں یا نہیں؟ ایک شخص نے کہا کہ اگر کوئی آیت آئے تو اس پر ٹھہر کر سلام کا جواب دے دیجئے۔



بِسْمِ للہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

------------------------------------------------------------

حکم شرع یہ ہے کہ جب کوئی شخص تلاوتِ قرآن یا اذکار وغیرہ میں مشغول ہو تو آنے والا سلام نہ کرے اور اگر کر دے تو اُس پر جواب دینا واجب نہیں اختیار ہے چاہے تو جواب دے، چاہے تلاوت جاری رکھے۔ اور کسی آیت پر وَقف کرنا یہ تلاوت ہی کے حکم میں ہوتا ہے۔ جب تک کہ خود تِلاوت موقوف نہ کرے جسے قَطع کہتے ہیں۔


تلاوتِ قرآن کے وقت سلام کرنا مکروہ ہے چنانچہ فتاویٰ عالمگیری  میں ہے:”يكره السلام عند قراءة القرآن جهراً “ 
 یعنی ہے۔ (1)


اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں:”جو اذان یا تلاوت یا کسی ذکر میں مشغول ہو اسے سلام نہ کرے۔“ (2)


تلاوتِ قرآن کرنے والے کو اختار ہے کہ سلام کا جواب نہ دے چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:”قرآن شریف پڑھنے والے پر سلام کرنا ناجا ئز ہے اور اسے اختیار ہے کہ جواب نہ دے۔“ (3)


وَقف کے لُغوی معنی ٹھہرنے اور رُکنے کے ہیں۔ اصطلاحِ قُرَّاء کے اعتبار سے پڑھنے میں یہ چار طرح پر واقع ہوتا ہے:۔ (1) وقف، (2) سَکتہ، (3) سُکوت، (4) قَطع.

*وقف  کی تعریف:”آخری کلمہ پر سانس اور آواز توڑ کر ٹھہرنا اور سانس لینا۔ اس کو وقف کہتے ہیں۔“

*قَطع* کی تعریف:”وقف کے بعد پھر نہ پڑھنے کو قطع کہتے ہیں۔“ (4)

=============================

*(1)* `الفتاویٰ الھندیہ`، کتاب الکراھیة،، الباب السابع في السلام،جلد:5، صفحہ:402، مطبوعہ دار الکتب العلمیة بیروت.

*(2)* `فتاویٰ رضویہ`، جلد:22، صفحہ:378.

*(3)* `المرجع السابق`، صفحہ:379.

*(4)* `ماخوذ از قراءت کورس(جامع الوقف)`، صفحہ:59-77 ملتقطاً.
----------------------------------------------- 
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی


*والله تعالیٰ اعلم بالصواب*

0 Response to "تلاوت کے درمیان سلام کا جواب دینا"

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->