عنوان: امام زین العابدین رضی اللہ عنہ — مختصر سوانحِ حیات



امام زین العابدین رضی اللّٰہ عنہ - محمد کونین صدیقی کٹیہاری

عنوان: امام زین العابدین رضی اللہ عنہ — مختصر سوانحِ حیات

-----------------------------------------------
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

دنیا کی تاریخ میں کچھ ہستیاں ایسی رونما ہوئی ہیں جن کی حیات۔ سراپا چراغِ ہدایت اور مشعلِ راہ ہوتی ہے، انھی عظیم المرتبت شخصیات میں اہلِ بیتِ اطہار کا وہ مقدس سلسلہ ہے جس نے اپنی پاکیزہ زندگیوں سے انسانیت کو صبر، ایثار، تقویٰ اور سچائی کا سبق دیا، انھی پاکیزہ ہستیوں میں ایک درخشاں نام امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کا ہے۔


نام: علی

کنیت: ابو الحسین، ابو الحسن، ابو محمد اور ابو عبد اللہ

لقب: زین العابدین، سید الساجدین، سجاد، ہاشمی، علوی، مدنی، قرشی اور علی اکبر ذوالثَّفنات وغیرہ۔

نسب: علی بن حسین بن علی بن ابی طالب بن عبد المطلب ہے,


والدہ: حضرت شہربانو رضی اللہ عنہا تھیں، جو فارس کے آخری بادشاہ یزدگرد کی شہزادی تھیں، (مع الاختلاف) اس لحاظ سے آپ کو عرب کی نجابت اور عجم کی شرافت دونوں کا شرف حاصل تھا۔

ولادت:
۱۵/ جمادی الثانی ۳۸ھ، مطابق ٦/ جنوری ٦٥٩ء کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔


تعلیم:
امام زین العابدین رضی اللّٰہ عنہ کی ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے مقدس گھرانے میں ممتاز صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ہوئی جو علم و حکمت کا گہوارہ تھا، بچپن ہی سے عبادت، زہد، حلم اور تقویٰ کو اپنی زندگی کا شعار بنایا،کیوں کہ بچپن مدینہ کے پرامن ماحول میں گزرا، مگر جب آپ کی عمر مبارک شباب کو پہنچی تو خانوادۂ رسالت پر ظلم و ستم کا اندھیرا چھا گیا۔

واقعہ کربلا:
امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کا دور شباب وہ دور تھا جب خانوادۂ نبوت پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی گئی، ٦١ھ میں واقعہ کربلا پیش آیا جس میں اپنے والدِ ماجد سید الشہداء امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے، اس وقت ایامِ علالت میں تھے، اسی وجہ سے میدانِ کارزار میں شریک نہ ہو سکے، اہلِ بیتِ اطہار کے دیگر نفوسِ قدسیہ کے ساتھ قیدی بنا کر کوفہ اور پھر شام لے جایا گیا، اسیری کی اس المناک حالت میں بھی صبر کا دامن، حلم و بردباری اور وقار دیکھنے والوں کو حیران کر دیتا تھا۔ (حوالہ: سیر اعلام النبلاء، طبقات ابن سعد)

علم و دعا:
امام زین العابدین رضی اللہ عنہ عبادت اور دعا کے پیکر تھے، ان کے دل سے نکلے ہوئے بلیغ کلمات کا مجموعہ ’’صحیفۂ سجادیہ‘‘ کے نام سے معروف ہے، جس میں دل سوز دعائیں، مناجاتیں اور اللہ سے فریادیں امت کے لیے راہِ ہدایت ہیں، امام زین العابدین رضی اللّٰہ عنہ کا علمی مقام بھی بلند تھا، جن سے تابعین کے کبار محدثین نے روایتیں لیں اور زہد و تقویٰ کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔

شب بیداری اور سخاوت:
امام زین العابدین رضی اللّٰہ عنہ راتوں کو عبادت میں مشغول رہتے، سجدے میں اتنا وقت گزارتے کہ پیشانی پر سجدوں کے نشان واضح ہو جاتے، اسی وجہ سے ’’ذوالثفنات‘‘ بھی کہا جاتا، یعنی جس کی پیشانی پر سجدوں کے گٹے ہوں، رات کی تاریکی میں غربا و مساکین کے دروازوں پر کھانا پہنچاتے اور کبھی نام ظاہر نہ ہونے دیتے، امام زین العابدین رضی اللّٰہ عنہ کی وفات کے بعد ہی مدینہ والوں کو معلوم ہوا کہ راتوں کو دستِ سوال دراز کرنے والوں کی حاجتیں کون پوری کرتا رہا۔

وصال:
امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کا وصال ٩٤ھ مطابق ٧١٢ء میں مدینہ منورہ میں ہوا۔ بعض روایات کے مطابق زہر دیا گیا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔ امام زین العابدین رضی اللّٰہ عنہ کے وصال پر مدینہ کی فضا سوگوار ہوئی، اور اہلِ مدینہ نے اس زاہدِ مدینہ کو آنسوؤں سے رخصت کیا۔

------------------------------------------------------------------------------------------

حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت کو پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.