سوال:(1) گانے کی طرز میں نعت پڑھنا یا سننا کیسا ہے؟
جو قوالی یا نعت میں پیچھے سونگ بجتا ہے گانے کی طرح سننے میں ایسا لگتا ہے کہ اس میں تالیاں بج رہی ہیں تو وہ سننا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
----------------------------------------------
`جواب(1)`: نعت پاک کو ایسے گانے کی طرز پر سننا جس کو سننے کے بعد ذہن گانے کی طرف منتقل ہو جائے شرعاً جائز نہیں، بچنا چاہیے۔ البتہ ایسا نہیں ہے کہ ہر نعت گانے کی طرز پر ہو، ممکن ( possible) ہے کہ گلوکار گانے کو نعت کی طرز پر پڑھتے ہوں اس کا یہ مطلب نہیں کہ نعت رسول ﷺ کو سننا چھوڑ دیں۔
مجلس المدینہ العلمیہ کا پیش کردہ رسالہ ”نعت خوانی کے متعلق سوال جواب“ میں ہے:”نعت کو ایسے مشہور و مَعروف گانے کی طرز پر پڑھنا کہ نعت سُنتے ہی فوراً ذہن اس گانے کی طرف چلا جائے اس سے بچنا چاہیے اور اگر کبھی اِتفاقاً طرز میں کچھ مُمَاثَلَت ہو بھی جائے تو نعت خواں کو چاہیے کہ تھوڑی بہت تبدیلی کر لے ۔ فی زمانہ یہ اِمتیاز کرنا بہت مشکل ہے کہ نعت گانے کی طرز پر پڑھی جا رہی ہے یا گانا نعت کی طرز پر گایا جا رہا ہے ، اَلبتہ پہلے والی طرزوں میں پڑھی جانے والی نعتوں میں جو رِقَّت اور سوز و گداز ہوا کرتا تھا وہ اب نئے اَنداز پر پڑھی جانے والی نعتوں میں نہیں ہے ۔
بہرحال موجودہ دور میں سب نعتیں گانوں کی طرز پر پڑھی جاتی ہوں یہ ضَروری نہیں کیونکہ یہ بھی تو ممکن ہے کہ گلوکار نعتوں کی طرز پر گانے گاتے ہوں لہٰذا موجودہ دور میں پڑھی جانے والی سب نعتوں کو گانوں کی طرز پر کہنا اور نعتیں سننے سے بچنا یا بچنے کے لیے کہنا خود کو نعت خوانی کی بَرکتوں سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو نعت خوانی سے متنفر بھی کر سکتا ہے ۔ نعتوں کے گانوں کی طرز پر ہونے کے وَساوِس بھی انہیں کو آئیں گے جو گانے سُننے کے شوقین ہوں گے ، جو سِرے سے گانے ہی نہیں سُنتے ان کے لیے ہر طرز نعت ہی کی طرز ہو گی ، لہٰذا اِن وَساوِس کی بِنا پر نعتیں سننا چھوڑنے کے بجائے گانے چھوڑنے میں عافیت ہے ۔ نعت شریف پڑھنے اور سُننے والا سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی تعریف و توصیف ہی کی نیت سے اسے پڑھتا اور سُنتا ہے ، نہ اس لیے کہ وہ کسی گانے کی طرز پر ہے۔“ (1)
`جواب(2)`: نعت یا قوالی کے بیک گراؤنڈ میوزک والی نعت سننا شرعاً نا جائز و گناہ ہے کیونکہ میوزک ہاتھ سے بنایا جائے یا منہ سے دونوں صورتوں میں ناجائز ہے۔
صحیح بخاری شریف کی حدیث صحیح میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:”لیکونن من أمتی أقوام یستحلون الحر والحریر والمعازف “ یعنی عنقریب میری امت میں کچھ قومیں ایسی ہوں گی ، جو زنا اور ریشمی کپڑوں اور باجوں کو حلال ٹھہرا لیں گی۔ (2)
علامہ محمد امین ابن عابدین شامی رحمۃاللہ علیہ درمختار کی اس عبارت ” وکرہ کل لھو “کے تحت فرماتے ہیں: ”والإطلاق شامل لنفس الفعل و استماعہ کالرقص و السخریۃ والتصفیق و ضرب الأوتار من الطنبور و البربط و الرباب والقانون والمزمار و الصنج و البوق فإنھا کلھا مکروھۃ لأنھا زی الکفار واستماع ضرب الدف والمزمار و غیر ذلک حرام “
یعنی : لہو و لعب کا کرنا اور اس کا سننا سب اس ناجائز ہونے میں داخل ہے۔ جیسے رقص، مذاق مستی، تالی اور سارنگی اور بغیر تاروں اور تاروں والا باجہ بجانا اور بانسری، جھانجھ اور بگل بجانا۔ پس یہ تمام میوزیکل آلات بجانا مکروہ و ناجائز ہے کہ یہ کفار کی ہیئت ہے اور دف اور بانسری اور اس کے علاوہ اسی قبیل کی چیزوں کا سننا بھی حرام ہے۔ (3)
امام اہلسنت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن ارشادفرماتے ہیں:”مزامیر(یعنی گانے بجانے کے آلات) حرام ہیں ۔ صحیح بخاری شریف کی حدیث صحیح میں حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایک قوم کاذکرفرمایا: یستحلون الحر والحریر والمعازفزنا اور ریشمی کپڑوں اور باجوں کو حلال سمجھیں گےاور فرمایا: وہ بندراور سورہوجائیں گے۔ ہدایہ وغیرہ کتب معتمدہ میں تصریح ہے کہ مزامیر حرام ہیں۔ حضرت سلطان الاولیاء محبوب الٰہی نظام الحق والدّین رضی اﷲ تعالی عنہ فوائد الفوادشریف میں فرماتے ہیں: مزامیر حرام است۔(یعنی گانے بجانے کے آلات حرام ہیں ۔ )“ (4)
ایک شخص ایسی جگہ کام کرتا ہے جہاں داڑھی رکھنے کو برا سمجھا جاتا ہے لوگ بُری نظر سے دیکھتے ہیں تو کیا ایسی صورت میں داڑھی کاٹنا گناہ ہے.
https://sadaeqalb1.blogspot.com/2025/07/Darhi-rakhne-ke-baare-masla.html
=============================
(1)`نعت خوانی کے متعلق سوال جواب`، صفحہ:10-11، مطبوعہ مجلس المدینہ العلمیہ (دعوت اسلامی).
(2) `صحیح البخاری`، جلد:2،صفحہ:837.
(3) `رد المحتار`،کتب الحظر الاباحۃ، فصل فی البیع، جلد:9، صفحہ:566، مطبوعہ دارُ عَالم الکتب الریاض.
(4)`فتاوی رضویہ`،جلد:24،صفحہ:138.
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
والله تعالیٰ اعلم بالصواب

