فلسۂ قربانی اور عصر حاضر

 
قربانی، فلسۂ قربانی اور عصر حاضر


🌹فلسفۂ قربانی اور عصرِ حاضر🌹

 از قلم: ✍🏻 محمد کونین صدیقی کٹیہاری 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


         دنیا کی تاریخ میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو وقت کی گرد میں مٹ نہیں جاتے، بلکہ ہر آنے والی نسل کے لیے پیغام، سبق اور چراغ کی حیثیت رکھتے ہیں، حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کو اللّٰہ رب العزت کے حکم پر قربان کرنے کا واقعہ بھی انھیں جاوداں لمحات میں سے ہے، یہ قربانی فقط کسی جانور کو ذبح کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہz یہ ایک ایسا انقلابی پیغام ہے جو وفا، اطاعت، ایثار اور روحانی بلندیوں کا نشان ہے۔

      یہ منظر کوئی عام واقعہ نہیں، بلکہ تاریخِ انسانی کا وہ سنہری لمحہ ہے، جہاں تسلیم و رضا کا پیکر باپ اور رضا بالقضا کا مجسم بیٹا، دونوں رب کے سامنے سرتسلیم خم کیے نظر آتے ہیں، ایک طرف پدرانہ جذبات کا سیلاب ہے، دوسری طرف ربّ کی رضا کا تقاضا؛ مگر ایمان کی بلند چوٹی سے یہ پکار بلند ہوتی ہے: "افعل ما تؤمر"۔

         آج جب کہ انسان اخلاقی زوال، روحانی کھوکھلے پن، اور مادہ پرستی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے، تو ایسے میں قربانی کا یہ عظیم درس اور بھی زیادہ توجہ کا طالب ہے، ہمیں بغور جائزہ لینا چاہیے کہ ہم قربانی کی اصل روح سے کس حد تک منسلک ہوئے ہیں..؟ کیا ہم صرف رسمیں نبھا رہے ہیں، یا اس پیغام کو اپنی زندگیوں میں اتارنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں...؟

        قربانی کا مطلب صرف ایک جانور کو ذبح کرنا نہیں، بلکہ اپنے اندر کی انانیت، غرور، نفس پرستی، اور دنیاوی تعلقات کی زنجیروں کو کاٹنا ہے، یہ ایثار، صبر، تسلیم، اور ربِ قدیر کی رضا پر کامل یقین کا نام ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ پیغام دیا کہ جب رب پکارے، تو محبوب ترین شے بھی رب کے حکم کے مقابل ہیچ ہو جانی چاہیے، اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے یہ درس دیا کہ جوانی، خواب، مستقبل، خواہشات، سب کچھ اللّٰہ رب العزت کے راستے میں قربان ہو سکتا ہے بشرطیکہ دل میں اللّٰہ پاک کی محبت ہو، اور یقین کامل ہو۔

       قربانی درحقیقت وہ انقلاب ہے جو انسان کے باطن میں آتشِ عشق بھڑکاتا ہے، اسے نفسِ امّارہ کی قید سے آزاد کرتا ہے، اور خلوص، وفا اور رضا کی شاہراہ پر گامزن کرتا ہے، یہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک پکار ہے، نفس پرستی سے اجتناب کرکے رب کے حضور مطیع بن جاؤ، دنیا تمھارے قدموں میں جھک جائے گی، اور آخرت بہترین مقدر ہوگی.

        آج کا انسان ایجادات کا تاجدار، سہولیات کا مالک، اور ترقی کا دعوے دار ہے، مگر دل کی دنیا ویران ہے، مادہ پرستی نے روح کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے، اور خود غرضی نے دلوں کو پتھر بنا دیا ہے، قربانی جیسا جذبہ اب فقط "عید" کی ایک رسم بن کر رہ گیا ہے، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ہم جانور ذبح کرتے ہیں، مگر اپنے اندر چھپے حسد، بغض، تکبر، حرص اور شہوت کو ختم کرنے کی تدبیر نہیں اپناتے، قربانی کے اس عظیم موقع پر ہم خوشی سے نئے کپڑے پہنتے ہیں، گوشت تقسیم کرتے ہیں، دعوتیں کرتے ہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ان سب کا مقصد کیا تھا، جس کے لیے ابراہیم علیہ السلام نے اپنی نیندیں، سکون، اور اپنے لخت جگر وافر تمیز کی زندگی تک قربان کر دی۔

      قربانی ہمیں آواز دیتی ہے کہ اے انسان! اپنے اندر کی حیوانیت کو ذبح کر، اور اپنی انسانیت کو زندہ کر، اپنے آپ کو اتنا مخلص کر دے کہ جب تُو رب کی بارگاہ میں سر جھکائے تو صرف تیرا جسم نہیں، تیری روح بھی سجدہ کرے۔

        قربانی فقط ایک رسمی دنیوی عمل نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے کہ جب انسان اپنی سب سے قیمتی چیز اللّٰہ پاک کی رضا کے لیے چھوڑ سکتا ہے، تو وہ دنیا کی ہر آزمائش میں سرخرو ہو سکتا ہے، عصر حاضر میں ہمیں ضرورت ہے کہ ہم صرف جانور ذبح نہ کریں، بلکہ اپنے نفس کی خواہشات، غرور، حرص، حسد، اور خود غرضی کو بھی قربان کریں، یہی وہ قربانی ہے جو رب العالمین کے دربار میں شرفِ قبولیت پاتی ہے، اور یہی وہ عمل ہے جو انسان کو حیوانیت سے نکال کر انسانیت کے اعلیٰ مقام تک لے جاتا ہے۔

https://sadaeqalb1.blogspot.com/2025/06/hajj-ki-tareekhi-hesiyat-quran-hadith.html.html

پس، قربانی کو ایک تہوار کی حد تک محدود نہ کیجیے، اسے ایک طرزِ زندگی بنائیے، ہر دن اپنے نفس کے خلاف ایک چھوٹی سی قربانی کیجئے، جیسے: اپنے غصے کو قابو میں رکھنا، کسی غریب کی مدد کر دینا، اپنے حق پر دستبردار ہو جانا، یہ سب قربانیاں ہی تو ہیں! اور یہی وہ قربانی ہے جو ہر صاحبِ دل کو، ہر بااخلاق فرد کو، اور ہر مسلمان کو، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وارثت میں لے جاتی ہے، ایسے لوگ ہی دراصل عید الاضحیٰ کے حقیقی خوش نصیب ہیں، جن کے ہاتھ سے جانور کا خون بہے اور دل میں نیت یہ ہو کہ "اے ربّ! اب میری خواہشات کی گردن بھی تیری رضا کے لیے کٹنے کو تیار ہے"ـ

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.