اسلام اور درس انسانیت

 

🌳 اسلام اور درسِ انسانیت🌳

از قلم ✍🏻: محمد کونین صدیقی کٹیہاری ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


       کرۂ ارض کے کل مذاہب میں اگر کسی دین نے انسانیت کو مہتم بالشان بنایا ہے تو وہ دینِ اسلام ہے، اسلام کی بنیاد ہی محبت، اخلاق، خیر خواہی اور انصاف پر رکھی گئی ہے، یہ مذہب صرف عبادات سکھا کر نہیں چھوڑتا بلکہ اخلاقیات، اچھے برتاؤ اور دوسروں کے حقوق کا بھی پورا درس دیتا ہے، قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ ﷺ میں بار بار انسانیت کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے اور ظلم و زیادتی سے بچنے کی سختی سے ہدایت دی گئی ہے۔

          انسانیت دراصل انسان کے اُن اعلیٰ اوصاف کا نام ہے جن کی بدولت وہ دوسری مخلوقات سے ممتاز ہوتا ہے، سچائی، ہمدردی، ایثار نفس، معافی، درگزر، عدل و انصاف، محبت اور رواداری یہ سب انسانیت کی اصل پہچان ہیں، اسلام نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر زمین پر بھیجا اور اُسے یہ تعلیم دیا کہ وہ نہ فقط حقوق اللّٰہ کو پہچانے بلکہ حقوق العباد کی بھی شناخت کرے۔

          قرآنِ کریم انسانیت کا سب سے روشن چراغ ہے، اس میں ہر اُس کام کی ترغیب دی گئی ہے جو انسانیت کو آراستہ و پیراستہ کرے اور ہر اُس عمل کی ممانعت کی گئی ہے جو نوع بشر کی انسانیت کو مجروح کرے، اللّٰہ رب العزت نے فرمایا: "وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ"

(اور بے شک ہم نے آدم کی اولاد کو بزرگی عطا کی۔ سورۃ بنی اسرائیل:۷۰)

       مذکورہ آیت سے یہ درس ملتی ہے کہ انسان کا اصل مقام عزت اور حرمت ہے، اسی طرح قرآن میں والدین، یتیموں، مسکینوں، پڑوسیوں اور غلاموں کے حقوق کی بار بار تاکید ملتی ہے، جو کہ واقعی آدمیت کی اعلیٰ ترین دلیل ہے۔

         حضور محسن انسانیت ﷺ کی زندگی سراپا درسِ انسانیت ہے حضور قاسم النعم ﷺ نے فرمایا: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو دوسروں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچانے والا ہے۔"

          حضور جذب قلوب خلائق ﷺ نے ہمیشہ محبت، معافی اور شفقت کی تعلیم دی، دشمنوں نے تکلیفیں پہنچائیں، پتھر مارے، گالیاں دیں مگر تب بھی حضور سرور انس و جاںﷺ نے جواب میں ان کے لیے بد دعا نہ کی، بلکہ ان کی بھلائی کی دعا فرمائی، واقعہ طائف اسوۂ حسنہ ہے جب اہلِ طائف نے محبوبِ خداﷺ کو لہو لہان کر دیا، لیکن اس وقت بھی ان سب کے لیے دعائیں فرماۓ "نہیں! میں یہی چاہتا ہوں کہ ان کی نسلوں میں اللہ کو ماننے والے پیدا ہوں۔"

       آج کی دنیا نفرت، خود غرضی اور تعصب کی لپیٹ میں ہے، ایسے میں اسلام کا درسِ انسانیت امید کی وہ روشنی ہے، جس سے دلوں کی تاریکی دور کی جا سکتی ہے، اگر ہم سب قرآن و سنت کے اصل پیغام کو سمجھ کر اس پر عمل کریں تو معاشرے میں محبت، امن اور بھائی چارہ پروان چڑھ سکتا ہے۔

 اقوالِ زریں:

   • امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ: ’’اچھے اخلاق کے بغیر عبادت کامل نہیں ہوتی۔‘‘

    • شیخ سعدی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ: "انسانیت وہ چیز ہے جو عزت بخشتی ہے، ورنہ صورت و شکل میں تو انسان اور حیوان میں فرق ہی کیا ہے؟‘‘

• امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ: ’’علم وہی اچھا ہے جو دل کو نرم کرے اور دوسروں کے حق کا احساس دلائے۔‘‘

   • اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ: ’’اسلام تلوار سے نہیں کردار سے پھیلتا ہے۔“

https://sadaeqalb1.blogspot.com/2025/06/blog-post_36.html

           اسلام محض چند عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کی بنیاد ہی انسانیت، اخوت، بھائی چارگی اور عدل پر ہے، آج ہمیں چاہیے کہ ہم دین کے اصل پیغام کو اپنی زندگیوں میں اتاریں اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں، اسی میں ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.