🥀 کام میں اخلاص ہونا چاہیے ریاکاری نہیں🥀
از قلم ✍🏻: محمد کونین صدیقی کٹیہاری
ـــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہر کام کے سر انجام کے سلسلے میں نیت محل نظر ہے کہ آیا وہ خلوص و للہیت کے لیے ہے یا مکاری و عیاری کے لیے حدیث مبارکہ "إنَّمَا الْأعْمَالُ باِلنِّيّٰةِ وَ اِنَّمَا لِاَمْرِئ مَّا نَوٰی" ہے، مذکورہ حدیث مبارکہ واضح دلیل ہے کہ اعمال کی بنیاد نیت پر ہے؛ اور فاعل کے لیے وہی ثمرہ ہے جس کی انھوں نے نیت کی ہو.
مخلصی وہ جوہر ہے جو عمل کو با وقار و با برکت بناتا ہے، جب کہ ریا کاری وہ زہر ہے جو اعمال کو بے وقعت اور کھوکھلا کر دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اخلاص مند شخص کا ہر لمحہ عبادت و ریاضت بن جاتا ہے اور نیکیوں میں لبریز رہتا ہے، اور اسی کا برعکس اگر نیت میں کھوٹ ہو تو وہی عمل حرص و طمع بن کر دکھاوا ہی تک محدود رہ جاتا ہے، اور حقیقی حیثیت زائل ہو جاتی ہے،
چنانچہ قرآن مبین میں قادر مطلق ﷻ کا فرمانِ عالیشان ہے: " فويل لّلمصلّين الّذين هم عن صلاتهم ساهون الّذين هم يراءون
یہ آیت ریاکاری کے انتہائی مضر اثرات کو واضح کرتی ہے اور یہ ظاہر کراتی ہے کہ جو لوگ اپنے کام کو محض دنیاوی واہ واہی کے لیے کرتے ہیں ان کے اعمال کا کوئی ثمرہ نہیں، بلکہ وہ ہلاکت کے دہانے پر کھڑا ہے،
ریا کاری کے مختلف مظاہر زندگی کے ہر شعبے میں دیکھنے کو ملتے ہیں، عبادت میں دکھاوا، علم میں خودپسندی، تجارت میں دھوکہ دہی اور تعلقات میں بناوٹ وغیرہ یہ سب ریاکاری ہی کے مختلف چہرے ہیں، ایسے افراد بظاہر بلند ترین مرتبہ میں متقی رہتے ہیں، مگر ان کے اعمال کی جزا کچھ اور ہی ہوتی ہے، یہ تو فقط وقتی فائدہ اٹھاتے ہیں، مگر طویل مدت میں ان کے اعمال بے سود ہوتے ہیں.
اخلاص کی راہ اپنانے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی نیتوں کا ایمانداری کے ساتھ جائزہ لے، خود احتسابی کرے، وحدہ لاشریکﷻ کی خوشنودی کو اپنا مقصود بنائے، سچے اور مخلص مقتدر حضرات کو تاریخ کے اوراق میں آب زر سے لکھے جاتے ہیں، جب کہ ریاکاروں کا نام وقت کی گرد میں دب جاتا ہے،
زندگی کا اصل حسن اور عظیم کامیابی اسی میں مضمر ہے، کہ انسان ہر اعمال میں خلوص کو اختیار کرے، بناوٹ، تصنع اور ریاکاری سے دور رہے،
یہ دنیا فریبی ہے، مگر وہی شخص کامیاب ہے جو مخلص ہے جو اپنی نیت کو پاکیزہ رکھے، اور خالق ارض و سما ﷻ کے نزدیک اعمال کو مقبول بنانے کی جاں فشانی سے سعی کرے۔
-------------- -------------- -------------- -------------- -------------- --------------

.png)