نَظَرِ بَد اُتارنے اور اس سے حفاظت کے علاج کیا کیا ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
نظر اتارنے کے مختلف طریقے موجود ہیں، جن کا استعمال کرنا جائز ہے جبکہ مفید ہوں اور شرعی تقاضوں کے خلاف نہ ہوں۔ جیسے ٹھوڑی پر سیاہ ٹیکہ لگا دینا، تھوڑی سی آٹے کی بھوسی تین سرخ مرچیں منظور پر سات بار گھما کر سرسے پاؤں تک پھر آگ میں ڈال دیتے ہیں اگر نظر ہوتی ہے تو بھس نہیں اٹھتی، نظرِ بد سے بچنے کے لیے گھروں پر گھوڑے کی نعل اور جانور کی سینگ لگا دینا، یونہی علمائے دین نے حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے، نظرِ بد سے بچنے کے لیے کھیتوں میں لکڑی پر کپڑا وغیرہ باندھ کر نَصَب کرنے کی اِجازت دی۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ ان چیزوں کی بنسبت بہتر اور افضل یہی ہے کہ ماثور دعائیں پڑھنے کا معمول بنایا جائے۔
:نظرِ بَد کے چند علاج درجِ ذیل پیشِ خدمت ہیں
[1] وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ. (القرآن المجید، اَلْقَلَم، پارہ:29، آیت:51) اس آیت کے تحت ”قاضي ابو سعود محمد بن محمد بن مصطفى عمادى حنفى“ لکھتے ہیں:”عن الحسن:دواء الإصابة بالعين أن تقرأ هذه الآية.“ یعنی حضرتِ حَسَن بَصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْهُ سے مروی ہے:نظر لگنے کی دوا یہ ہے کہ یہ آیت پڑھی جائے۔ (تفسیر أبي السعود، ن، تحت الآیة:51، الجزء السادس، صفحة:291، مطبوعہ دار الكتب العلمية بيروت)
[2] ایک مرتبہ سورۃ الکوثر پڑھ کر بچّے کے سیدھے گال پر دَم کیجئے۔ دوسری مرتبہ سورۃ الکوثر پڑھ کر اُلٹے گال کی طرف اور تیسری مرتبہ پڑھ کر اس کی پیشانی پر دَم کر دیجئے، اِنْ شَآءَ اللہ الْکریم نَظَر اُتر جائے گی۔ (شروع میں تین بار دُرُود شریف، ایک بار اَعُوْذُ اور ہر بار سورۃ الکوثر سے قبل پوری بِسْمِ اﷲِ پڑھنی ہے۔)
[3] تین مرتبہ بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر سات مرتبہ یہ دُعا:بِسْمِ اللهِ، اَللّٰھُمَّ اَذْهِبْ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا. پڑھ کر جس کو نَظَر ہو اس پر دَم کیجئے، اِنْ شَآءَ الْکریم نَظَر اُتر جائے گی۔
[4] بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ سات بار، ایک مرتبہ آیةُ الکُرسی، تین مرتبہ سُوْرَۃُ الْفَلَق، تین مرتبہ سُوْرَۃُ النَّاس(فلق اور ناس کے قبل ہر بار پوری بِسمِ اللہ پڑھنی ہے) اوّل آخِر ایک بار دُرُودِ پاک پڑھ کر تین عَدَد سُرخ مِرچوں پر دَم کیجئے۔ پھر اِن مرچوں کو مَریض کے سَر کے گِرد 21 بار گھُما کر چولہے میں ڈال دیجئے۔ اِنْ شَآءَ اللہ الْکریم نَظَر کا اَثَر دُور ہو جائے گا۔ (مَدَنی پنج سُورہ، صفحہ:252، مطبوعہ مكتبة المدينة، کراچی)
[5] حدیثِ مُبَارَکہ میں نَظَر بَد سے حفاظت کی ایک بہترین دُعا یہ وارِد ہے:اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَیْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَ مِنْ کُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ. یعنی میں ہر شیطان، زہریلے جانور اور ہر بیمار کرنے والی نظر سے، اللہ کے پورے کلمات کی پناہ لیتا ہوں۔
[6] بچوں کو نظرِ بد سے حفاظت کے لیے ٹھوڑی پر ٹیکہ یعنی سرمے کا نشان لگا دینا چاہیے اور یہ عامل اَثرِ عثمانی سے ثابت ہے چنانچہ نور الدین علامہ علی قارَى حنفی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ لکھتے ہیں:”روي أن عثمان رضي الله عنه رأي صبيّاً مليحاً فقال:دسموا نونته كيلا تصيبه العين، ومعنى دسموا:سوداء، والنونة النقرة التي تكون في ذقن الصبي الصغير.“ یعنی حضرتِ عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْهُ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کسی خوبصورت بچے کو دیکھا، تو اُس کے اہلِ خانہ سے فرمایا: اس کی ٹھوڑی پر سیاہ نقطہ لگا دو، تاکہ اِسے کسی کی بُری نظر نہ لگے۔ ”دَسِّمُوْا“ کا معنیٰ ہے ”سیاہ کر دو“ اور ”اَلنَّوْنَة“ سے مُراد چھوٹا سا نشان ہے، جو چھوٹے بچے کی ٹھوڑی پر ہوتا ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، كتاب الطب والرقي، الجزء الثامن، صفحة:360، مطبوعہ دار الكتب العلمية، لبنان)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
مزید پڑھیں 👇🏻

