اَوْقاتِ مکروہ میں تلاوت قرآن مجید کرنا کیسا ہے |


اَوْقاتِ مکروہ میں تلاوت قرآن مجید کرنا کیسا ہے؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

ان اَوْقات (یعنی طلوع و غروب کے وقت اور دوپہر) میں تلاوت قرآن مجید بلا کراہت جائز ہے لیکن نہ کرے تو بہتر ہے، بہتر یہی ہے کہ ذکر و درود شریف میں مشغول رہے۔

”بحر الرائق و در مختار“ میں ہے:”واللفظ للأول:في البغية:الصلاة على النبي ﷺ في الأوقات التي تكره فيها الصلاة والدعاء والتسبيح أفضل من قراءة القرآن. ولعله لأن القراءة ركن الصلاة وهي مكروهة فالأولى ترك ما كان ركناً لها.“بغیہ میں ہے کہ ان اوقات میں جن میں نماز مکروہ ہے، نبی ﷺ پر درود بھیجنا، دعا کرنا اور تسبیح پڑھنا قرآن پڑھنے سے افضل ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ قراءت نماز کا رکن ہے اور نماز اس وقت مکروہ ہے، تو بہتر یہی ہے کہ اس چیز کو بھی چھوڑ دیا جائے جو نماز کا رکن ہے۔ (البحر الرائق، كتاب الصلاة، الجزء الأول، صفحة:437، مطبوعہ دار الكتب العلمية بيروت)

”رد المحتار“ میں ہے:”قوله:(فالأولى) أي فالأفضل ليوافق كلام البغية، فإن مفاده أنه لا كراهة أصلاً، لأن ترك الفاضل لا كراهة فيه.“ یعنی مصنف کے قول 'فالأولى' سے مراد افضل ہے، تاکہ یہ بغیہ کے کلام کے موافق ہو جائے۔ کیونکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اصلاً کوئی کراہت نہیں ہے، کیونکہ افضل کو چھوڑ دینے میں کوئی کراہت نہیں ہوتی۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، مطلب یشترط العلم بدخول الوقت، الجزء الثاني، صفحة:36، مطبوعہ دار عالم الكتب رياض)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب
كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مزید پڑھیں 👇🏻 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.