خالہ زاد بہن سے نکاح کرنا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
خالہ زاد بہن سے نکاح کرنا قطعاً جائز ہے شرعاً کوئی حرج نہیں، جبکہ اور کوئی وجہ مانع نکاح نہ ہو۔
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:”وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ“ ترجمۂ کنز الایمان:اور ان عورتوں کے علاوہ سب تمہیں حلال ہیں۔ (القرآن المجید، سورۃ النِّسَآء، آیت:24)
قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اپنی فرع اور اپنی اصل کتنی بعید ہو مطلقًا حرام ہے، اور اپنی اصل قریب کی فرع اگرچہ بعیدہو حرام ہے، اور اپنی اصل بعید کی فرع بعید حلال۔
چنانچہ نقایہ میں ہے:”حرم علی المرء اصله وفرعه وفرع اصله القریب وصلبیة اصله البعید.“ یعنی مرد پر اس کے اصول وفروع اور اصل قریب کی فرع اور اصل بعید کی صلبیہ عورتیں حرام ہیں۔ (مختصر الوقایہ، کتاب النکاح، صفحہ:52)
”فتاویٰ رضویہ“ میں ہے:”چچا ، خالہ ، ماموں ، پھوپھی کی بیٹیاں اس لیے حلال ہیں کہ وہ اس کی اصل بعید کی فرع بعید ہیں یعنی دادا نانا کی پوتیاں نواسیاں جو اپنی اصل قریب سے نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد:11، صفحہ:519، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی
مزید پڑھیں 👇🏻

