بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعث مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
✦ مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی ✦
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

خالہ زاد بہن سے نکاح کرنا کیسا ہے | محمد اویس العطاری المصباحی


خالہ زاد بہن سے نکاح کرنا کیسا ہے؟

خالہ زاد بہن سے نکاح کرنا کیسا ہے | khala zad bahan se nikaah karna kaisa hai

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

خالہ زاد بہن سے نکاح کرنا قطعاً جائز ہے شرعاً کوئی حرج نہیں، جبکہ اور کوئی وجہ مانع نکاح نہ ہو۔
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:”وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ“ ترجمۂ کنز الایمان:اور ان عورتوں کے علاوہ سب تمہیں حلال ہیں۔ (القرآن المجید، سورۃ النِّسَآء، آیت:24)

قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اپنی فرع اور اپنی اصل کتنی بعید ہو مطلقًا حرام ہے، اور اپنی اصل قریب کی فرع اگرچہ بعیدہو حرام ہے، اور اپنی اصل بعید کی فرع بعید حلال۔

چنانچہ نقایہ میں ہے:”حرم علی المرء اصله وفرعه وفرع اصله القریب وصلبیة اصله البعید.“ یعنی مرد پر اس کے اصول وفروع اور اصل قریب کی فرع اور اصل بعید کی صلبیہ عورتیں حرام ہیں۔ (مختصر الوقایہ، کتاب النکاح، صفحہ:52)

”فتاویٰ رضویہ“ میں ہے:”چچا ، خالہ ، ماموں ، پھوپھی کی بیٹیاں اس لیے حلال ہیں کہ وہ اس کی اصل بعید کی فرع بعید ہیں یعنی دادا نانا کی پوتیاں نواسیاں جو اپنی اصل قریب سے نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد:11، صفحہ:519، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب
كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی

مزید پڑھیں 👇🏻 

0 Response to "خالہ زاد بہن سے نکاح کرنا کیسا ہے | محمد اویس العطاری المصباحی"

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->