جمعہ کے دِن روزہ رکھنا کیسا ہے
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
خصوصیت کے ساتھ جمعہ کا تنہا روزہ فقط مکروہِ تنزیہی یعنی ناپسندیدہ ہے اور اگر خاص بہ نیت تخصیص نہ ہو تو اصلاً کراہت نہیں۔ ہاں اگر جمعرات جمعہ یا جمعہ ہفتہ دو دن روزے رکھے یا اگر کسی مخصوص تاریخ کو جمعہ آ گیا تو تنہا جمعہ کا روزہ رکھنے میں کراہت نہیں۔ مثلاً 15 شعبانُ المُعظَّم، 27 رجب المرجب وغیرہ۔
خاص جمعہ کا روزہ نہ رکھے مگر یہ کہ اس سے پہلے یا بعد میں ملا لے، چنانچہ حدیث پاک میں ہے، حضور ﷺ نے فرمایا:”لا يصم أحدكم يوم الجمعة، ألا أن يصوم قبله، أو يصوم بعده.“ یعنی تم میں سے کوئی جمعہ کا روزہ نہ رکھے مگر یہ کہ اس سے پہلے یا بعد کا روزہ بھی رکھے۔ (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب کراهية إفراد يوم الجمعة... إلخ، الحديث:1244، صفحة:576)
اگر کسی مخصوص تاریخ کو جمعہ آ گیا تو تنہا جمعہ کا روزہ رکھنے میں کراہت نہیں چنانچہ ”مرآۃ المناجیح“ میں ہے:”مَثَلاً کوئی شخص ہر گیارہویں یا بارہویں تاریخ کو روزہ رکھنے کا عادی ہو اور اتفاق سے اس دن جمعہ آجا ئے تو رکھ لے، اب خلافِ اولیٰ بھی نہیں۔“ (مرآۃ المناجیح شرحِ مشکوٰۃ المصابیح، نفلی روزے، جلد:3، صفحہ:187، تحت الحدیثُ2052
بغیر خصوصیت کے جمعہ کا تنہا روزہ رکھنا مستحب ہے، چنانچہ ”در مختار“ میں ہے:”والمندوب... يوم الجمعة ولو منفرداً“ یعنی جمعہ کا روزہ رکھنا مستحب ہے اگرچہ تنہا ہو۔ (الدر المختار، كتاب الصوم، الجزء الثالث، صفحة:336، دار عالم الكتب رياض)
اس کے تحت ”رد المحتار“ میں ہے:”صرح به في النهر وكذا في البحر، فقال:إن صومه بانفراده مستحب عند العامة كالأثنين والخميس، وكره الكل بعضهم... وفي الخانية:ولا بأس بصوم يوم الجمعة عند أبي حنيفة ومحمد.“ یعنی نہر میں اس کی تصریح موجود ہے اور اسی طرح بحر میں ہے تو فرمایا:عام فقہاء کے نزدیک جیسے پیر اور جمعرات کا روزہ، اور بعض نے مکروہ(تنزیہی) فرمایا۔ اور خانیہ میں ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک جمعہ کا (تنہا) روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (رد المحتار، كتاب الصوم، الجزء الثالث، صفحة:336، دار عالم الكتب رياض)
”بدائع الصنائع“ میں ہے:”وكره بعضهم صوم يوم الجمعة بانفراده، وكذا يوم الأثنين، والخميس، وقال عامتهم:إنه مستحب لأن هذه الأيام من الأيام الفاضلة فكان تعظيمها بالصوم مستحباً.“ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الصوم، الجزء الثاني، صفحة:590)
”البحر الرائق“ میں ہے:”ومنه صوم يوم السبت بانفراده للتشبه باليهود بخلاف صوم يوم الجمعة فإن صومه بانفراده مستحب عند العامة كالأثنين والخميس وكره الكل بعضهم.“ (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الصوم، الجزء الثاني، صفحة:451، دار الكتب العلمية بيروت)
”فتاویٰ رضویہ“ میں ہے:”جمعہ کا روزہ خاص اس نیت سے (رکھنا) کہ آج جمعہ ہے اس کا روزہ بِالتَّخصیص (یعنی خصوصیت سے رکھنا) چاہئے، مکروہ ہے، مگر نہ وہ کراہت کہ توڑنا لازم ہوا، اور اگر خاص بہ نیت تخصیص نہ تھی تو اصلاً کراہت بھی نہیں۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:10، 566، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

