اعتکاف کی فضیلت
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
:اعتکاف کا حکم
رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف”سنت مؤکدہ علی الکفایه“ ہے یعنی پورے شہر میں کسی ایک نے کر لیا تو سب کی طرف سے ادا ہو گیا اور اگر کسی ایک نے بھی نہ کیا تو سبھی مُجرِم ہوئے۔ اس کے لیے مسلمان، عاقل اور جنابت وحیض ونفاس سے پاک ہونا شرط ہے۔ نیز اس میں روزہ اور اس کے لیے مسجد جماعت ہونا شرط ہے۔
★اعتکاف کی شرعی حیثیت
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:﴿ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ.﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے۔ (القرآن الکریم، سورۃ البقرة، آيت:125)
ایک اور مقام پر فرماتا ہے:﴿وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَۙ-فِی الْمَسٰجِد﴾ ترجمۂ کنز الایمان:اور عورتوں کو ہاتھ نہ لگاؤ جب تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو۔ (القرآن الکریم، سورۃ البقرہ، آیت:187)
★حدیث پاک میں ہے:”عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ"، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ. یعنی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاسے مروی ہے کہ حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو وفات دی اور آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ اعتکاف کیا کرتیں۔(بخاری، کتاب الاعتکاف، باب الاعتکاف فی العشر الاواخر۔۔۔ الخ، 1/664، الحدیث:2026)
حدیث 2:”عن أنس قال کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یعتکف فی العشر الأواخر من رمضان فلم یعتکف عاما فلما کان العام المقبل اعتکف عشرین.“ یعنی حضرت انس رَضِیَ الله تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور ایک سال اعتکاف نہیں فرمایا تو دوسرے سال بیس دن اعتکاف فرمایا۔ (ترمذی، کتاب الصوم، باب ما جاء فی الاعتکاف إذا خرج منه، 2/212، الحدیث:803)
اس حدیث پاک کے تحت ”خاتم المحدثین شیخ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالَى عَلَيْهِ“ فرماتے ہیں:”اعتکاف در ظاہر مذہب حنفیہ سنت مؤکدہ است از جہت مواظبت رسولِ خدا صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بر آں تا انکہ گذشت ازیں عالم‘‘ یعنی ظاہر مذہب حنفیہ میں اعتکاف سنت موکدہ ہے اس لیے کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام ہمیشہ اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ (أشعة اللمعات، كتاب الصوم، باب الإعتكاف، جلد:2، صفحة:125)
حدیث 3:”عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا وَلَا يَشْهَدَ جَنَازَةً وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً وَلَا يُبَاشِرَهَا وَلَا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ إِلَّا لِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامع.“ یعنی حضرت عائشة رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت، کہتی ہیں: معتکف پر سنت (یعنی حدیث سے ثابت) یہ ہے کہ نہ مریض کی عیادت کوجائے نہ جنازہ میں حاضر ہو، نہ عورت کو ہاتھ لگائے اور نہ اس سے مباشرت کرے اور نہ کسی حاجت کے لیے جائے، مگر اس حاجت کے لیے جا سکتا ہے جو ضروری ہے اور اعتکاف بغیر روزہ کے نہیں اور اعتکاف جماعت والی مسجد میں کرے۔ (سنن أبي داود، کتاب الصیام، باب المعتکف یعود المریض، الحدیث :2473، جلد:2 ، صفحہ:492)
حديث 4:”أخْرَجَ ابْنُ ماجَهْ، عَنِ ابْنِ عَبّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، «أنَّهُ قالَ في المُعْتَكِفِ: ”إنَّهُ مُعْتَكِفُ الذُّنُوبِ، ويُجْرى لَهُ مِنَ الأجْرِ كَأجْرِ عامِلِ الحَسَناتِ كُلِّها“». یعنی ابن ماجہ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے معتکف کے بارے میں فرمایا:وہ گناہوں سے باز رہتا ہے اور نیکیوں سے اُسے اُس قدر ثواب ملتا ہے جیسے اُس نے تمام نیکیاں کیں۔ (سنن ابن ماجہ، أبواب ما جاء في الصیام، باب في ثواب الاعتکاف، الحدیث :1781، جلد:2، صفحہ:365)
حدیث 5:”أخْرَجَ البَيْهَقِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أبِيهِ قالَ: قالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ”«مَنِ اعْتَكَفَ عَشْرًا في رَمَضانَ كانَ كَحَجَّتَيْنِ وعُمْرَتَيْنِ“». یعنی حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سید المرسلین ﷺ نے فرمایا:جس نے رمضان میں دس دن کا اعتکاف کرلیا تو ایسا ہے جیسے دو حج اور دو عمرے کئے۔ (شعب الایمان، الرابع والعشرین من شعب الایمان، 3/425، الحدیث:3968)
حدیث 6:”وأخْرَجَ الطَّبَرانِيُّ في ”الأوْسَطِ“، عَنِ ابْنِ عَبّاسٍ، قال رسول اللہﷺ: ومَنِ اعْتَكَفَ يَوْمًا ابْتِغاءَ وجْهِ اللَّهِ جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وبَيْنَ النّارِ ثَلاثَ خَنادِقَ أبْعَدَ ما بَيْنَ الخافِقَيْنِ“». یعنی حضرت عبداللہ بن عبا س رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے، تاجدار رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ایک دن کا اعتکاف کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں حائل کر دے گا اور ہر خندق مشرق و مغرب کے مابین فاصلے سے بھی زیادہ دور ہو گی۔ (معجم الاوسط، باب المیم، من اسمه محمد، 5/279، الحدیث:7326)
حدیث 7:”ام المؤمنین حضرت عائشه رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:”من اعتكف إيماناً وإحتساباً غفر له ما تقدم من ذنبه.“ یعنی جس شخص نے ایمان کے ساتھ ثواب حاصل کرنے کی نیت سے اعتکاف کیا اس کے تمام پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ (جامعِ صغیر، صفحہ:516، الحدیث:848)
حديث 8:”حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ اعتکاف کرنے والے کو روزانہ ایک حج کا ثواب ملتا ہے۔ (شعب الایمان، الرابع والعشرین من شعب الایمان، 3/425، الحدیث:3968)
: اعتکاف کی تعریف
مسجد میں اللہ عزوجل کی رِضا کے لیے بہ نیّتِ اِعتِکاف ٹھہرنا اعتکاف کہلاتا ہے۔ چنانچہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”اللبث في المسجد مع نيت الإعتكاف كذا في النهاية.“ (الفتاوى الهندية، كتاب الصوم، الباب السابع في الإعتكاف، 1/232)
★اعتکاف کی شرائط
مرد کے لیے مسجد کا ہونا ضروری ہے، چنانچہ حاشیة الطحطاوى میں ہے:”قوله:(على المختار) هذا مذهب الإمام، وقالا:يصح في كل مسجد، وصححه السروجي.“ (حاشیة الطحطاوى، كتاب الصوم، باب الإعتكاف، صفحة:699)
رد المحتار میں ہے:”قوله:(وصححه السروجي) وهو إختيار الطحاوي. قال الخير الرملي:وهو أيسر خصوصاً في زماننا فينبغي أن يعول عليه.“ (رد المحتار، كتاب الصوم، باب الإعتكاف، 3/429)
عورت کومسجد میں اعتکاف مکروہ ہے، بلکہ وہ گھر میں ہی اعتکاف کرے مگر اس جگہ کرے جو اُس نے نماز پڑھنے کے لیے مقرر کر رکھی ہے جسے مسجدِ بیت کہتے ہیں، چنانچہ ”فتاویٰ عالمگیری“ میں ہے:”والمرأة تعتكف في مسجد بيتها إذا اعتكفت في مسجد بيتها فتلك البقعة في حقها كمسجد الجماعة في حق الرجل لا تخرج منه إلا لحاجة الإنسان كذ في شرح المبسوط للإمام السرخسي.“ (الفتاوى الهندية، 1/232)
★معتکف کے شرائط
معتکف کا مسلمان، عاقل اور جنابت و حیض و نفاس سے پاک ہونا شرط ہے۔ بلوغ شرط نہیں بلکہ نابالغ جو تمیز رکھتا ہے اگر بہ نیّت اعتکاف مسجد میں ٹھہرے تو یہ اعتکاف صحیح ہے، آزاد ہونا بھی شرط نہیں لہٰذا غلام بھی اعتکاف کر سکتا ہے، مگر اسے مولیٰ سے اجازت لینی ہوگی اور مولیٰ کو بہرحال منع کرنے کا حق حاصل ہے اسی طرح نیت اور روزہ بھی شرط ہے، چنانچہ ”بدائع الصنائع“ میں ہے:”فمنها:الإسلام والعقل والطهارة عن الجنابة والحيض والنفاس... وأما البلوغ فليس بشرط لصحة الإعتكاف فيصح من الصبي العاقل؛ لأنه من أهل العبادة، كما يصح منه صوم التطوع. ولا تشترط الذكورة والحرية فيصح من المرأة والعبد بإذن المولى والزوج، إن كان له زوج؛ لأنهما من أهل العبادة... ومنها:النية لأن العبادة لا تصح بدون النية. ومنها: الصوم فإنه شرط لصحة الإعتكاف الواجب بلا خلاف بين أصحابنا.“ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الإعتكاف، فصل في شرائط صحته، الجزء الثالث، صفحة:6-7)
★مسجد میں معتکف کیا کرے؟
معتکف نہ چُپ رہے، نہ کلام کرے تو کیا کرے۔ یہ کرے قرآن مجید کی تلاوت، حدیث شریف کی قراء ت اور درود شریف کی کثرت، علم دین کا درس و تدریس، نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم و دیگر انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام کے سیرو اذکار اور اولیاء و صالحین کی حکایت اور امورِ دین کی کتابت، چنانچہ ”تنویر الأبصار مع در مختار“ میں ہے:”(وتكلم إلا بخير) وهو ما لا إثم فيه، ومنه المباح عند الحاجة إليه لا عند عدمها، وهو محمل ما في الفتح أنه مكروه في المسجد، يأكل الحسنات كما تأكل النار الحطب كما حققه في النهر (كقراءة القرآن وحديث وعلم) وتدريس في سير الرسول عليه الصلاة والسلام وقصص الأنبياء عليهم السلام وحكايات الصالحين وكتابة أمور الدين.“ (تنوير الأبصار مع الدر المختار، كتاب الصوم، باب الإعتكاف، 3/441-442)
★اعتکاف میں بیٹھنے کا وقت
بیسویں رمضان کو سورج ڈوبتے وقت بہ نیّت اعتکاف مسجد میں ہو اور تیسویں کے غروب کے بعد یا انتیس کو چاند ہونے کے بعد نکلے۔ اگر بیسویں تاریخ کو بعد نماز مغرب نیّت اعتکاف کی تو سنت مؤکدہ ادا نہ ہوئی۔ (بہارِ شریعت، اعتکاف کا بیان، جلد:1، حصہ پنجم، صفحہ:1021)
★اعتکاف کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے
سنت اعتکاف میں ایک لمحے کیلئے بلا اجازت ِ شرعی مسجد سے نکلے تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ معتکف کو مسجد سے نکلنے کے دو عذر ہیں ۔ ایک حاجت طبعی کہ مسجد میں پوری نہ ہو سکے جیسے پاخانہ، پیشاب، استنجا، وضو اور غسل کی ضرورت ہو تو غسل، مگر غسل و وضو میں یہ شرط ہے کہ مسجد میں نہ ہو سکیں یعنی کوئی ایسی چیز نہ ہو جس میں وضو و غسل کا پانی لے سکے اس طرح کہ مسجد میں پانی کی بوند نہ گرے کہ وضو و غسل کا پانی مسجد میں گرانا ناجائز ہے اور لگن وغیرہ موجود ہو کہ اس میں وضو اس طرح کر سکتا ہے کہ کوئی چھینٹ مسجدمیں نہ گرے تو وضو کے لیے مسجد سے نکلنا جائز نہیں ، نکلے گا تو اعتکاف جاتا رہے گا۔یوہیں اگر مسجد میں وضو و غسل کے لیے جگہ بنی ہو یا حوض ہو تو باہر جانے کی اب اجازت نہیں
دوم حاجت شرعی مثلاً عید یا جمعہ کے لیے جانا یا اذان کہنے کے لیے منارہ پر جانا، جبکہ منارہ پر جانے کے لیے باہر ہی سے راستہ ہو اور اگر منارہ کا راستہ اندر سے ہو تو غیر مؤذن بھی منارہ پر جا سکتا ہے مؤذن کی تخصیص نہیں، چنانچہ ”تنوير الأبصار مع در مختار“ میں ہے:”(الخروج إلا :”(الخروج إلا لحاجة الإنسان) طبيعية كبول وغائط وغسل لو احتلم ولا يمكنه الإغتسال في المسجد، كذا في النهر (أو) شرعية كعيد وأذان لو مؤذناً وباب المنارة خارج المسجد و(الجمعة وقت الزوال ومن بعد منزله) أي معتكفه.“ (تنوير الأبصار مع الدر المختار، كتاب الصوم، باب الإعتكاف، الجزء الثالث، صفحة:435-436، دار عالم الكتب رياض)
اس کے تحت ”رد المحتار“ میں ہے:”قوله:(ولا يمكنه إلخ) فلو أمكنه من غير أن يتلوث المسجد فلا بأس به. بدائع:أي بأن كان فيه بركة ماء أو موضع معد للطهارة أو اغتسل في إناء بحيث لا يصيب المسجد الماء المستعمل، قال في البدائع:فإن كان بحيث يتلوث بالماء المستعمل يمنع منه لأن تنظيف المسجد واجب.“ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصوم، باب الإعتكاف، الجزء الثالث، صفحة:435، دار عالم الكتب رياض)
★ بقدرِ ضرورت کسی سے بات کرنے میں حَرَج نہیں اور بلا ضرورت مسجد میں دنیا کی بات کرنا شرعاً جائز نہیں خواہ معتکف ہو یا غیر معتکف۔ اور مسجد میں لوگوں سے مصافحہ یا معانقہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
نوٹ:یہ چند ضروری مسائل ہیں۔ اگر کسی کو کوئی مخصوص سوال پوچھنا ہو تو اس 7819981168 نمبر پر رابطہ کیجئے۔
طالبِ دُعا:محمد اُویس العطاری المصباحی
مزید پڑھیں 👇🏻
کن دنوں میں روزہ رکھنا حرام ہے

