جمعہ کے دن کس وقت تک سنت پڑھ سکتے ہیں..؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
جب اِمام منبر پر جائے اس وقت سے نمازِ جمعہ ختم ہونے تک کوئی نماز ادا کرنا جائز نہیں سوائے صاحبِ ترتیب کے، کہ وہ اس حالت میں بھی اپنی قضا نماز پڑھے تاکہ جمعہ صحیح ہو۔ اگر کوئی اسیے وقت مسجد میں آیا کہ امام نے خطبہ شروع کر دیا تو اسے چاہئے کہ سنَّتِ قَبلیہ پڑھے بغیر جہاں جگہ مل جائے وہیں بیٹھ کر توجہ سے خطبہ پڑھے اور اس کے بعد نمازِ جمعہ ادا کرے۔ جمعہ کے فرض پڑھ کر سنتِ قبلیہ پڑھے اور بہتر یہ ہے کہ پہلے نمازِ جمعہ کے بعد والی سنتیں پڑھ کر اس کے بعد سنتِ قبلیہ ادا کرے۔
”تنویر الأبصار مع دُرِّ مختار“ میں ہے:”(إذا خرج الإمام) من الحجرة إن كان وإلا فقيامه للصعود (فلا صلاة ولا كلام إلى تمامها خلا قضاء فائتة لم يسقط الترتيب بينها وبين الوقتية) فإنهأ لا تكره. لضرورة صحة الجمعة.“ یعنی جب امام حجرے سے نکلے اگر حجرہ ہو، ورنہ جب وہ منبر پر چڑھنے کے لیے کھڑا ہو تو تمامِ خطبہ تک نہ نماز ہے اور نہ ہی کلام، فوت شدہ نماز کی قضاء کے علاوہ جبکہ اس میں اور وقتی نماز میں ترتیب ساقط نہ ہوئی ہو، لہذا قضاء میں کراہت نہیں تاکہ جمعہ صحیح ہو۔ (تنوير الأبصار مع الدر المختار، كتاب الصلاة، باب الجمعة، الجزء الثالث، صفحة:34-35، دار عالم الكتب رياض)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

