فارغین جامعہ کا افسردہ دل |


فارغین جامعہ کا افسردہ دل| محمد نوازش مصباحی


فارغین جامعہ کا افسردہ دل

یکے از فارغین جامعہ اشرفیہ مبارک پور
✍️: محمد نوازشؔ رضا مصباحی پورنوی
موبائل نمبر : 9128900482

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

اے عزیزی چمن، پاسباں دین کا
الوداع الوداع الوداع الوداع

جامعہ اشرفیہ مبارک پور حضور حافظ ملت کے خون جگر سے سینچا ہوا اہل سنت و جماعت کا وہ خوش نما چمن ہے جس کی خوش بو سے عالم اسلام معطر ہے. یہ ایک ایسا چمن ہے جس کی فضا بھی علم و آگہی، شعور و فہم ، عفت و پاکیزگی اور روحانیت و معرفت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہوتی ہے جو عندلیبان چمن کو جہالت و تاریکی سے محفوظ رکھتی ہے، لاشعوری و کج فہمی کے پردے چاک کرتی ہے، قلوب و اذہان کو دنیاوی چکاچوند سے پھیر کر خالص دینی پاکیزگی عطا کرتی ہے۔

یہ وہ عظیم قلعہ ہے جو روز اول ہی سے کفر و طغیانیت، بدعت و گمراہیت اور لادینیت کے مابین حد فاصل کی حثیت رکھتا ہے اور فضل الہی سے رفعت و بلندی کی اس منزل پر ہے کہ حد ناپنے والوں کو ٹوپی تھامنے کی نوبت آجاتی ہے ۔

یہ وہی ادارہ ہے جو ہر وقت ہر محاذ پر امت مسلمہ کی رہنمائی میں کوشاں ہے ، جس نے امت کو ہزاروں علما، صلحا، فقہا، بلغا، دعاۃ و قضاۃ اور حفاظ و قرا دیے ہیں اور ہنوز سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ رب کریم نے اسے اس قدر شہرت و مقبولیت سے نوازا ہے کہ آج ہر طالب علم اسی ادارے کا متعلم ہونا چاہتا ہے اور ہزاروں کی بھیڑ میں مقابلہ جاتی امتحان میں کامیاب ہونے کے لیے شب و روز کی تگ و دو کو پوری خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کرلیتا ہے۔

میں بھی انہی پروانہ نما طلبہ میں سے ایک تکمیل حفظ قرآن پاک کے بعد ۲۰۱۷؁ء میں مطلوبہ "جماعت اعدادیہ" کے مقابلہ جاتی امتحان میں کامیاب ہوکر داخلہ لیا اور حضور ابوالفیض حافظ ملت علیہ الرحمۃ و الرضوان کے اس گلستان لاثانی کو ٹھکانہ بنایا، شب و روز اس کی خوشبو سے مہکتا رہا، اس کے بلبلوں میں چکہتا رہا اور اخلاص و للیت کے پیکر اساتذۂ کرام سے اکتساب فیض کرتا رہا ، جس طرح ظاہری خد وخال تغیر پذیر ہوئے یوں ہی علم و آگہی کی آشنائی سے جہالتوں کی تاریکی چھٹتی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے نو سال کا طویل عرصہ اپنے آخری ایام کو پہونچا،

اب جب کہ مادر علمی میں آخری ایام گزر رہے ہیں بلکہ اختتام پر ہیں، گزرے نو سالہ زندگی کا ایک ایک باب یاد آنے لگا ہے کبھی پڑھائی کے اوقات ، کبھی روضۂ حافظ ملت کی رونقیں،کبھی بھائیوں جیسے دوستوں کی خیر خواہی ان کی طنز و مزاح والی مجلسی گفتگو، کبھی شعر و ادب کی محفلیں، کبھی ایام امتحان کی شب بیداریاں، کبھی ڈائنگ ہال کا کھانا، غرض کہ یہاں بیتا ہوا ہر ایک لمحہ حاشیۂ خیال پر گردش کر رہا ہے اور گویا یو کہہ رہا ہے نوازش!
ایک تاریخ کو چھٹی ہونے والی ہے بس دو دن رہ گئے ہیں اب کیا کرو گے؟
کہاں جاؤ گے؟
کہاں پناہ لو گے؟

تیری تعلیم مکمل ہوگئی، تیرا ٹھکانہ اب چھننے کو ہے، اب وہ امید بھی باقی نہیں کہ شوال المکرم میں واپس لوٹ آؤں گا جو اس سے قبل ہوتی تھی اور دل کو تسلی دے لیتے تھے،
یاد ہے نا!
آج دوستوں کے ساتھ الوداعی جمعہ پڑھو گے ، کیا معلوم پھر کبھی اس مسجد میں دوستوں کے ساتھ جمعہ نصیب ہو یا نہ ہو، در حافظ ملت کی حاضری نصیب ہو یا نہ ہو ، اپنے مشفق اساتذہ کی دست بوسی کا شرف ملے یا نہ ملے،

سنو! سب سے معافی تلافی کر لینا خاص طور پر دوستوں سے (کیا پتہ کس موڑ پر زندگی کی شام ہو جائے )کیوں کہ تو نے حقوق اللہ اور حقوق العباد پڑھا ہے ، انہی سوچ و فکر میں ذہن الجھن کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے ۔

اسی کشمکش کے عالم میں نماز جمعہ کا وقت ہو گیا ، آج پھر نو سالہ محنت کا ثمرہ اور قیمتی اثاثہ یعنی در بو الفیض سے عطا کردہ جبہ زیب تن کیے سر پر عمامہ سجا کر اسی قلبی اضطراب کے ساتھ مسجد کی طرف روانہ ہو گیا، نماز جمعہ کے بعد،جلالۃ العلم، ابو الفیض ،حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کی عظیم الشان بارگاہ میں رفقاے درس کے ہمراہ درد دل سنانے، عرضیاں ڈالنے، اور الوداعی سلام عرض کرنے کو حاضر ہوا۔ناچیز نے تلاوت کلام اللہ سے محفل کا آغاز کیا، احباب کی حمد و نعت خوانی کے بعد ناچیز الوداعی ترانہ لیے کھڑا ہوا، زبان پر الفاظ ترانہ تھے ۔ آنکھوں سے معانی بہ رہے تھے بڑے صبر و ضبط کے ساتھ ترانہ مکمل کیا، فاتحہ خوانی، دعا خوانی اور صلاۃ و سلام کے بعد محفل کے اختتام پذیر پر دوستوں کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کے سیلاب نے پھر ایک بار میرے صبر و ضبط کو بہا لے گیا۔

صبح آخری پرچے کا امتحان ہونا ہے مگر رات اداسی کی نذر ہوگئی ہے ،آج ہر طرف کا ماحول خوفناک سا ہے ، ایک الگ ہی خاموشی ہے، نہ دل کو راحت و سکون ہے نہ ذہن کو چین و قرار، ایک عجیب سی کیفیت ہے ۔

آج دو فروری ، جامعہ کی تعطیل کا تیسرا دن ہے ، اکثر احباب جا چکے ہیں بس کچھ مخصوص احباب ہی رہ گئے ہیں جو ساتھ جامعہ کو الوداع کہہ رہے ہیں، آنکھیں نم ہیں، دل درد سے پھٹا جا رہا ہے، روضۂ حافظ ملت پر ہماری الوداعی حاضری ہو رہی ہے، زبان پر سکوت طاری ہے، آنکھیں بہہ رہی ہیں، پورا وجود سہما ہوا، کیا کیا عرض کروں، کس زبان سے کروں، وہ سب جانتے ہیں، آج تک جب بھی کوئی پریشانی آئی، اسی بارگاہ میں حاضر ہوکر عریضہ لگایا، پریشانی سے نجات ملی، آج یہی بو الفیض کا فیض رساں در چھوٹ رہا، بہتے آنسوؤں نے روحانی مربی سے جو عرض کرنا تھا کیا ،آخری سلام عرض کرتے ہوئے روضۂ پاک کی رونقوں سے باہر ہوتے ہی یوں لگا جیسے عزیز المساجد کی بہاریں کہہ رہی ہوں: کچھ دن اور رک جاؤ، ابھی نہ جاؤ، ڈائننگ ہال میں اوقات طعام کے چہل پہل اور ہاسٹل کی یادیں پکار رہی ہوں کچھ دن اور ٹھہر جاؤ، مرکزی درسگاہی عمارت کی قال اللہ اور قال النبي ﷺ والی صدائیں صدا دے رہی ہوں، نوازش!کچھ دن اور رک جاؤ، لائبریری کا پرسکون ماحول کہہ رہا ہو بس کچھ دن اور، جامعہ کے در و بام کی رعنائیاں، اس گلشن کی شادابیاں سب یہی کہہ رہی ہیں سب تو چلے گئے، تم بھی چلے جاؤ گے؟

دل زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہا ہے میں کہاں جانا چاہتا ہوں، مجھے تو دستور زمانہ نے مجبور کیا ہے، میرے تو قدم بھی لڑکھڑا رہے ہیں، اسی کیفیت میں باب حافظ ملت پر کھڑا ہوں، درد و کرب کا یہ عالم ہے کہ آنکھوں کا سیلاب تھمنے کا نام نہیں لے رہا، آخری مرتبہ اس چمن کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہوں،

کاش یہ وقت ٹھہر جاتا، کاش ایسا کوئی دستور ہی نہ ہوتا جس کی وجہ سے جدائی کا منھ دیکھنا پڑ رہا ہے، انہی سوچوں میں گم تھا کہ یک بہ یک ذہن کے دریچے پر یہ خیال گزرا کہ اگر ایسا دستور نہ ہوتا تو

یہ عظیم روحانی سلسلہ کیسے آگے بڑھتا؟
امت مسلمہ کی کون رہبری کرتا؟
دین متین کا پرچم کون لہراتا؟

یہ نہایت ضروری تھا جسے اسلاف کرام نے قائم کیا ، انھیں بھی اس تکلیف دہ سے لمحہ سے گزرنا پڑا تھا؛ انھیں بھی والدین جیسے مشفق مہربان اساتذہ کے سایہ شفقت سے آزمائشوں کی دھوپ میں جلنا پڑا تھا،انھیں بھی بھائیوں جیسے دوستوں کی جدائی برداشت کرنی پڑی تھی، تب جاکر تم تک یہ سلسلہ پہنچا ہے، گھبراؤ نہیں، صبر و ضبط سے کام لو، جس طرح آج تک در بو الفیض سے فیضیاب ہوئے ہو ان شاءاللہ تادمِ حیات ہوتے رہو گے آخر کار وہ تمھارے مربی ہیں بس ان کے مشن کو آگے بڑھاؤ، اسی مقصد کے تحت تمھاری تربیت کی گئی ہے، مادر علمی کو اپنی ہر دعا میں یاد رکھو، ان شاءاللہ ابو الفیض کے فیضان سے ہر محاذ پر کامیابی ملے گی،

انھیں خیالات کے سمندر میں ڈوبا ہوا ہوں ، جامعہ کے احسانات یاد کر رہا ہوں،آنکھیں نم ہیں، وجود جیسے پتھرا گیا ہو، آج سے نو سال قبل جب جماعت اعدادیہ کے امتحان داخلہ میں کامیاب ہونے کی خوشی سے قدم کے ڈگمگانے پر مسجد کے ستون کا سہارا لے کر کچھ دیر کھڑا تھا، آج ٹھیک اسی طرح غم ہجر سے قدم ڈگمگا رہے ہیں،

اسی کیفیت میں خاموش لبوں کے ساتھ جامعہ کو آخری سلام پیش کر رہا ہوں،

لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہوں۔ احباب کی بارگاہ میں اس التجا کے ساتھ کہ اس نو سالہ طویل مدت میں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اگر کوئی تکلیف پہونچی ہو تو رضاے الہی کے لیے در گزر فرمائیں اور اپنی خاص دعاؤں میں ضرور یاد فرمائیں کرم بالاے کرم ہوگا.




اے عزیزی چمن، پاسباں دین کا
الوداع الوداع الوداع الوداع

اے ادب گاہِ علم و ہنر جاں فزا
الوداع الوداع الوداع الوداع

تیری چوکھٹ پہ آئے تھے بے علم ہم
تونے ہم کو سنوارا ترا ہے کرم

تیرا احسان ہم پر رہے گا سدا
الوداع الوداع الوداع الوداع

سارے استاذ کے جملہ احسان کا
ان کی شفقت کا اور علمی فیضان کا

شکریہ کیسے ہو پائے ہم سے ادا
الوداع الوداع الوداع الوداع

ہجر کی ہے گھڑی دل یہ غمگین ہے
روئے احساس نالوں سے رنگین ہے

دامنِ دل پہ آنسو کا قطرہ گرا
الوداع الوداع الوداع الوداع

باغبانِ چمن ہو کرم کی نظر
دوستو! یاد رکھنا ہمیں عمر بھر

معاف کرنا اگر ہو گئی کچھ خطا
الوداع الوداع الوداع الوداع

حافظِ دین و ملت کا در چھوڑ کر
اپنا پیارا چمن پیارا گھر چھوڑ کر

کیسے جائیں گے ہم اے نوازشؔ رضا
الوداع الوداع الوداع الوداع
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

مزید پڑھیں 👇🏻 



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.